وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ نکاح کے مقدس رشتے سے مرد اور عورت ایک دوسرے پر حلال ہو جاتے اور دوسرے کا سکون قرار پاتے ہیں جبکہ طلاق برات کا نام ہے جس کے بعد دونوں میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں ۔والدین کو طلاق کی وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین لڑکی کو بھینس یا اونٹنی نہ سمجھیں کہ جس رسے سے مرضی باندھ دیا۔ لڑکی کی پسند کا ہم پلہ رشتہ تلاش کریں۔ پھوپھی ،مامے ،چاچے اورخالائیں اپنے رشتوں کو اگلی نسلوں میں مضبوط کرنے کے لیے اولاد پر ظلم نہ کریں۔
میٹرک لڑکی کا پی ایچ ڈی لڑکے سے رشتہ کیسے ممکن ہوگا جبکہ دونوں کی ذہنی سطح ایک جیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ طلاق کی ضرورت ہو تو شرعی طریقہ اختیار کریں۔ طلاق کے لیے گواہوں کی موجودگی میں صیغہ طلاق جاری کرنا ہوتا ہے، محض خط لکھ کر یا تین بار طلاق طلاق طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق وارد نہیں ہوتی۔ طلاق کے لیے شرائط ہیں، اس حوالے سے جج صاحبان اور وکلا کو بھی قرآنی احکامات کی پابندی کروانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ وکلا علماءکے پاس بیٹھ کر طلاق کے مسائل کو سیکھیں ۔
مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ رشتہ تلاش کرنے میں بھی تقویٰ معیار رکھیں۔ پاکیزہ اور متقی خاندان تلاش کریں۔ چیٹ میرج کریں گے تو رشتے بھی ناقص ہی ملیں گے چونکہ چیٹ کرنے والے کئی اوروں کو بھی پسند کر رہے ہوتے ہیں ۔نماز جمعہ کے شرکاءنے غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی بمباری اور غیر انسانی اقدامات کی شدید مذمت کی۔بعدازاںاسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔












