وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع مسجد علی حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی بحران اور معاشرے کی حالت زار دین سے دوری کی وجہ سے ہے۔ افسوس ہم نے خالق کائنات اللہ اور اس کے آخری رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ ہر انسان کو سوچنا چاہئے کہ اس کا وجود لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔ اگر آپ لوگوں کے لئے فائدہ مند ہیں تو اللہ کی رحمت سے فیض یاب ہوں گے۔ اور اگر لوگوں کے لئے زحمت اور اذیت کا باعث ہیں تو پھر آپ کو فکر مند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا انسان کو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہنا چاہئے۔ اس کے ساتھ عربی میں پڑھی جانے والی دعاوں کے معانی پر غور بھی کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان اقدس ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے زور دیا کہ گناہ کو معمولی نہ سمجھیں۔ تقویٰ اختیار کریں، کسی بھی معاملے میں حکم قرآن کو سامنے رکھیں۔ مومن گناہ کو بہت بڑا بوجھ سمجھتا ہے،جبکہ کافر کے لیے گناہ مکھی ہے، جو کبھی ناک اور کبھی کان پر بیٹھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کاروبار کی کامیابی کے تین اصول ہیں۔ گھر سے نکلتے وقت صدقہ دیں۔ جو کہ 70 بیماریوں کا علاج ہے۔ دکان یا دفتر کی صفائی کریں۔ قرآن مجید کی تلاوت کریں، چاہے مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ اور پھر سال بعد خمس ادا کریں، جو کہ سادات کا حصہ ہے۔ خمس کا انکار کرنے والوں میں سے نہ بنیں۔
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ شرعی واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ ہے کہ پاکستان میں سرمایہ چند خاندانوں تک محدود ہو چکا ہے، وہ ارب پتی بن چکے ہیں، باقی عوام کھانے کو ترس رہے ہیں۔












