وفاق ٹائمز، مولانا ضیاءالحسن نقوی نے جامع مسجد علی جامعة المنتنظر میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس شخص کے دوست نہیں،وہ غریب ہے ۔
انہوں نے کہا امام فرماتے ہیں دوستی کے لیے تین چیزوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ایمان، پارسائی، جذبہ ایثار۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دوست مشکل میں اس کے ساتھ تعاون نہیں کرتا وہ تو دوست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ کافروں سے دوستی نہ کرو اور یہ حکم عوام اور حکمران دونوں کے لیے ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے حکمرانوں سے دوستی کریں جو ایماندار اور مومن ہوں۔
مولانا ضیا ءالحسن نقوی نے کہا دین اسلام کے پانچ ستون ہیں. نماز، زکوٰة، روزہ، حج،اور ولایت اہل بیت اطہار۔ولایت اہل بیت دین کی چابی ہے۔انہوں نے کہا کہ زرارا بن مسلم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا دین میں سب سے اچھی چیز کون سی ہے، تو آپ نے فرمایا ولایت اہل بیت ؑچونکہ یہ باقی فرائض کی چابی ہے اور ولی ان باقی چیزوں پہ رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا نمازکی دین میں بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے جبکہ ہم ہماری صورتحال یہ ہے کہ ہم نماز پر توجہ نہیں دیتے ۔حیرت ہے کہ ہم سکول کے لیے تو اپنے بچوں کو اٹھا دیتے ہیں مگر نماز کے لیے ایسا نہیں کرتے ۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ دین اسلام فقط زبانی کلامی ہوتا تو یہ دوسرے فرائض جیسے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰة وغیرہ کے نزول کا کیا فائدہ ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ جہنم کے آخری درجہ وادی سقم میں جو لوگ جل رہے ہوں گے تو ان سے ان سے پوچھا جائے گا کہ کس وجہ سے تم لوگ چل رہے ہو تو بتائیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔












