19

مظلومین کی حمایت اور بے حس و بے بس حکمرانوں کی نااہلی کے خلاف کوٹلی امام حسین میں احتجاجی ریلی نکالی گئی

  • News cod : 59274
  • 28 دسامبر 2024 - 16:16
مظلومین کی حمایت اور بے حس و بے بس حکمرانوں کی نااہلی کے خلاف کوٹلی امام حسین میں احتجاجی ریلی نکالی گئی
علامہ محمد رمضان توقیر نے جاری دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت اورمظلومین پارہ چنار کے جاری دھرنے کی حمایت کرتےہیں۔ ہمارااحتجاج مظلومین پارہ چنار سے اظہار یکجہتی اور بے بس و بے حس حکومت کے خلاف ہے۔ ہمارا مقصد کسی فرقہ اور شہریوں کو تکلیف دینا نہیں ہے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پارہ چنار کے موجودہ صورت حال راستوں کی بندش ،مظلومین کی حمایت اور بے حس و بے بس حکمرانوں کی نااہلی کے خلاف قائد ملت جعفریہ پاکستان کے اعلان پر شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر کی قیادت میں شیعہ علما کونسل ڈیرہ و جعفریہ سٹوڈنٹس کے زیر اہتمام بعد از نماز جمعہ کوٹلی امام حسین سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔جو میں بنوں روڈ شہدائ فلسطین چوک سے ہوتے ہوئے سرکلر روڈ پر جاری دھرنا میں شامل ہوا۔ ریلی میں دیگر مذہبی و سٹوڈنٹس تنظیموں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔شرکاء احتجاجی ریلی نے مظلومین پارہ چنار سے حمایت اور حکومت کی مجرمانہ غفلت اور دہشت گرد عناصر کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے رہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے جاری دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت اورمظلومین پارہ چنار کے جاری دھرنے کی حمایت کرتےہیں۔ ہمارااحتجاج مظلومین پارہ چنار سے اظہار یکجہتی اور بے بس و بے حس حکومت کے خلاف ہے۔ ہمارا مقصد کسی فرقہ اور شہریوں کو تکلیف دینا نہیں ہے۔ملک بھر سمیت ڈیرہ اسماعیل خان میں راستے بند ہونے کی وجہ سے شہریوں اور مریضوں کی تکلیف کا احساس ہے۔

لیکن پارہ چنار کے انسانوں کی تکلیف کا بھی احساس کرنا چاہیے۔دہشتگردوں کی دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہونے کےبعد تقریبا تین مہینے ہونے کے ہیں راستے بند ہونے کی وجہ سے ادویات و خوراک کی قلت کی وجہ سے معصوم بچے بلک بلک کر ماوں کی گود میں جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

اگر انکی کوشش ہے کہ ہم تھک کر ڈر کر ہار مان جائے گے۔ یہ انکی بھول ہے جن کے پاس کربلا ہو انکو موت سے ڈرانے دھمکانے والے خواب غفلت سے جاگیں۔جہاں تک بات امن کی ہے تو اس قوم نے خودکش دھماکوں اورٹارگٹ کلنگ سے حتی کہ خواتین بھی قربان کی ہیں۔لیکن پاکستان کی سلامتی اور تکفریوں کی دہشتگرانہ سازش ہو ناکام بنایا۔وہ چاہتے تھے یہ خون کی ہولی کے حصہ دار بنے اور انسانیت کشی میں بھی اپنا منہ کالا کریں تاکہ بیلنس پالیسی کی وجہ سے اس پر امن قوم کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائے۔یاد دلانا چاہتا ہوں آج سے چند سال پہلے غیور حسینی حیدر کرار کے پیروکار اندرونی دہشت گرد عناصر کو بھی خیبر کی یاد دلا چکے ہے۔

پارہ چنار کے غیور جوانوں نے وطن عزیز کی حفاظت کےلئے سیکورٹی اداروں کی بھرپور مدد کرتے ہوئے بیرونی دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کی۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند شر پسند عناصر تکفیری این جی او اور دیگر اداروں کے طرف سے پہچنے والی معمولی سے ادویات و خوراک کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔باحیثیت انسان ہم بلاتفریق اگر پارہ چنار میں اگر اہل سنت کی عوام کو ادویات خوراک کی ضرورت ہے۔تو ان تک پہلے پہنچانے کی اپیل کرتے ہیں۔ کسی زریعےاور طریقے سے پارہ چنار میں انسانیت کی خدمت کی جائے۔

وفاقی و صوبائی حکومت کے بجائے ہم مقتدر حلقوں سے پارہ چنار میں قیام امن کی فضا کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور پارہ چنار کے باسیوں کے حال پر رحم کیا جائے عام عوام کے بجائے مجرمین کو سزا دیں۔پارہ چنار میں معمولات زندگی کو بحال کیا جائے۔ہم محب وطن پاکستانی ہیں اور امن اور اپنے جوانوں کی تعلیم و ترقی اور خوشحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے سے دیگرمقررین نے خطاب کرتے ہوئے پارہ چنار میں جاری دھرنا کی حمایت اور دہشت گردی اور راستوں کی بندش اور حکومت کی مجرمانہ غلفت کی مذمت کی۔

پارہ چنار میں قیام امن اور راستوں کی بندش کا خاتمہ اور سیکورٹی کے فول پروف بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ریلی کے موقع پر مختلف میڈیا چینلز سے گفتگو میں پارہ چنار کی صورتحال پر گفتگو کی۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=59274

ٹیگز