2

شہداء کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا، رہبر انقلاب آیت خامنہ ای

  • News cod : 63932
  • 12 مارس 2026 - 17:54
شہداء کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا، رہبر انقلاب آیت خامنہ ای
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ شہداء کے خون کا انتقام ہرگز نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

شہداء کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا، رہبر انقلاب آیت خامنہ ا

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام جاری۔ پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مَا نَنسَخْ مِنْ ءَآیَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِها.

اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا داعِیَ‌اللهِ وَ رَبّانِیَّ آیاتِهِ، اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا بابَ‌اللهِ وَ دَیّانَ دینِهِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا خَلیفَةَ‌اللهِ و ناصِرَ حَقِّهِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا حُجَّةَ‌اللهِ وَ دَلیلَ اِرادَتِه؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ اَیُّهَا المُقَدَّمُ المَأمُول؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ بِجَوامِعِ السَّلام؛ اَلسّلامُ‌عَلیکَ یا مَولایَ صاحِبَ الزَّمان.

آغاز گفتگو میں، سب سے پہلے اپنے آقا و سرور (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کی خدمت میں، عظیم رہبرِ انقلاب، خامنہ ای عزیز و حکیم کی دلخراش شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور آپ سے پوری ایرانی قوم، بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں، اسلام اور انقلاب کے تمام خدمت گزاروں، ایثار کرنے والوں، شہداء کی جدوجہد میں شریک ہونے والوں خصوصا حالیہ جنگ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور خود اپنی حقیر ذات کے لیے دعائے خیر کا طلبگار ہوں۔

دوسری بات میری ملتِ عظیم ایران سے ہے۔ سب سے پہلے لازمی سمجھتا ہوں کہ محترم مجلسِ خبرگان کی رائے کے بارے میں اپنی رائے اور موقف مختصر طور پر بیان کروں۔

آپ کا یہ خادم، سید مجتبی حسینی خامنہ ای آپ سب کے ساتھ اور اسلامی جمہوری کے ٹیلی وژن کے ذریعے مجلسِ خبرگان کے فیصلے سے مطلع ہوا۔

میرے لیے اس منصب پر بیٹھنا، جہاں دو عظیم پیشوا یعنی امام خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای تشریف فرما ہوچکے ہیں، بہت دشوار کام ہے۔

کیونکہ یہ کرسی اس شخصیت کی نشست گاہ رہی ہے، کہ جس نے 60 سال سے زائد خدا کی راہ میں جدوجہد کی، ہر طرح کی لذت اور آرام کو چھوڑا اور نہ صرف اپنے دور بلکہ اس ملک کی تاریخ کے حکمرانوں میں ایک منفرد و تابناک ہستی کے طور پر ابھرے۔ ان کی زندگی بھی اور ان کی شہادت بھی شکوہ اور عزت کے ساتھ وابستہ تھی، جو صرف اللہ تعالی پر توکل اور حق کے سہارے ممکن ہوئی۔

 

مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں ان کی شہادت کے بعد ان کے جسم کی زیارت کروں۔ جو کچھ میں نے دیکھا وہ استقامت کا پہاڑ تھا اور جو سنا، وہ یہ تھا کہ ان کے صحیح ہاتھ کی مٹھی بند تھی۔

ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم کو طویل مدت تک گفتگو کرنی ہوگی۔

اس موقع پر میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو موزوں مواقع کے لیے چھوڑتا ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ اس منصب پر بیٹھنا میرے لیے بھاری ہے، اور اس عظیم ہستی کے بعد اس خلاء کو صرف خدا کے سہارے اور آپ عوام کی مدد سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے نکتے پر زور دوں جس کا میری اصل گفتگو سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے عظیم پیشرو کے نمایاں کارناموں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے عوام کو ہر میدان میں شریک کیا، مسلسل انہیں بصیرت اور آگاہی دی اور عملی طور پر ان کی قوت پر اعتماد کیا۔ اسی طرح انہوں نے حقیقت میں “عوام” اور “جمہوریت” کے مفہوم کو عملی شکل دی، اور دل کی گہرائی سے اس پر ایمان رکھتے تھے۔

اس حقیقت کا واضح اثر ان چند دنوں میں نظر آیا جب ملک رہبر اور بغیر سپریم لیڈر کے بغیر تھا۔ حالیہ واقعے میں عظیم ایرانی قوم کی بصیرت اور دانائی، ثابت قدمی، شجاعت اور میدان میں بھرپور موجودگی نے دوستوں کو تحسین پر مجبور اور دشمنوں کو حیران کر دیا۔ یہ آپ ہی لوگ تھے جنہوں نے ملک کی رہنمائی کی اور اس کے اقتدار کو یقینی بنایا۔

وہ آیت جسے میں نے اس تحریر کے آغاز میں ذکر کیا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی ایسی نہیں جس کی مدت ختم ہو جائے یا جو فراموش کر دی جائے، مگر یہ کہ اللہ جلّ و علا اس کے بدلے اس جیسی یا اس سے بہتر نشانی عطا فرما دیتا ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=63932

ٹیگز