اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت پر پردہ ڈالنے کی کوششیں نہ قانونی حقائق بدل سکتی ہیں اور نہ ہی جارح طاقتوں کو بین الاقوامی ذمہ داری سے فرار کا موقع دے سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے عرب لیگ کی ایران مخالف قرارداد مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو چھپانے کی کوششیں عالمی ذمہ داریوں سے فرار کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں منظور کی گئی ایران مخالف قرارداد پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔
ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کو ایک خط ارسال کیا، جس میں انہوں نے بحرین کے مستقل مندوب کی جانب سے 23 اپریل 2026 کو بھیجے گئے خط اور عرب لیگ کی قرارداد نمبر 9245 کے جواب میں ایران کا واضح مؤقف پیش کیا۔
ایروانی نے خط میں کہا کہ اسلامی جمہوری ایران قرارداد اور اس میں شامل بے بنیاد، گمراہ کن اور سیاسی محرکات پر مبنی الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ یہ قرارداد مکمل جانبدارانہ ہے، اس کی کوئی حقیقی یا قانونی بنیاد نہیں اور یہ ایک یکطرفہ اور پہلے سے تیار کردہ سیاسی بیانیے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیگ کی یہ نام نہاد قرارداد جان بوجھ کر موجودہ صورتحال کے بنیادی اور ناقابل انکار اسباب کو نظر انداز کرتی ہے۔
ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ قرارداد میں اصل حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف غیر قانونی کارروائی کی اور جارحانہ حملے کیے ہیں۔
ایروانی نے کہا کہ اس کے برعکس، قرارداد میں حقائق کو مسخ کرتے ہوئے ایران پر الزام تراشی کی کوشش کی گئی، حالانکہ ایران اس جارحانہ اور غیر قانونی جنگ کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے بھی متعدد بار اقوام متحدہ کو اپنے قانونی مؤقف سے آگاہ کر چکا ہے، جس میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026)، بین الاقوامی قانون کے تحت دفاعِ مشروع کا حق، اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز میں اٹھائے گئے اقدامات شامل ہیں۔
ایروانی نے بعض علاقائی ممالک قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی ذمہ داری بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی، کیونکہ انہوں نے جارح فریق کی مدد اور معاونت میں کردار ادا کیا ہے۔
خط کے اختتام پر ایرانی سفیر نے زور دے کر کہا کہ حقائق کو برعکس کرکے پیش کرنے یا جارح طاقتوں کو جوابدہی سے بچانے کی کوئی بھی کوشش نہ تو قانونی حقائق کو بدل سکتی ہے اور نہ ہی ذمہ داروں کو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور نتائج سے بری الزمہ کرسکتی ہے۔












