وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا 47واں اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جو ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہا۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ پنجاب کابینہ نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی خودمختاری کیلئے تاریخ ساز فیصلہ دیا۔ صوبائی کابینہ نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو فعال کرنے کیلئے پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس 2011 میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹریز اور محکموں کے افعال اور اختیارات کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ساؤتھ پنجاب سیکرٹریٹ 3 ڈویژن اور 11 اضلاع پر مشتمل ہوگا۔ جنوبی پنجاب میں سرکاری محکموں کی تعداد 17 ہوگی۔ جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سیکرٹریز کو انتظامی طور پر مکمل بااختیار کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ خود مختاری کیلئے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے رولز آف بزنس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں چیف سیکرٹری اور عملے کو تعینات کر دیا گیا ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو دفاتر اور فنڈز کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریز دفاتر کو بھرتیوں کے اختیارات بھی مل دیدیئے گئے ہیں، پنجاب کی پہلی تاریخ میں جنوبی پنجاب کیلئے تینتیس فیصد ایک سو نوے ارب روپے مختص کیے گیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی عوام کو مبارکباد دیتا ہوں یہ مرحلہ جنوبی پنجاب کیلئے اہم ہوگا، پورا پنجاب ہمارا ہے، جنوبی پنجاب ہو یا وسطی پنجاب، پورے صوبے پر توجہ ہے۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ سپیکر سمیت سب کیساتھ اچھے تعلقات ہیں، ان کے آئیڈیاز پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان واقعہ پر حکومت نے رٹ قائم کی، جو بھی ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا گیا ہے، انصاف ضرور ملے گا اور انصاف ہوتا بھی نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر پر جاکر لوگوں کے مسائل سنتا ہوں بری نہیں اچھی بات ہے، فنانس منسٹر سمیت خود بھی صوبہ پر اخراجات کے بارے چیک کرتا رہوں گا، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب وہیں لوگوں کے مسائل حل کریں گے۔












