وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ، جامعہ شہید علامہ سید عارف حسین الحُسینی میں منعقدہ 20روزہ فکری و تربیتی ورکشاپ کے مکمل ہونے پر اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ نے کہا کہ اہل تشیع کا اپنے بچوں کے نصابی مستقبل کے تحفظ کے لئے موجودہ تشویشناک صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ وطنِ عزیز میں یکساں نصابِ تعلیم کے نام پر پرامن ماحول کو ایک مرتبہ پھر پراگندہ کرنے اور انتہا پسندی میں جھونکنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض موقع پرست عناصر کی جانب سے اہلبیت اطہار کے مقام و مرتبہ کو گھٹانے والے متعصب اذہان اپنی ناپاک عزائم میں کوشاں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے لیے قیادت کے طے کیے گئے ہر لائحہ عمل پر لبیک کہا جائے تاکہ مکتبِ اہلبیت کے ماننے والوں پر آئے دن کی سازشوں کے ذریعے ان کے بچوں کا مستقبل تاریک کرنے کی کوششیں ناکام بنائی جا سکیں۔ انہوں نے 20 روزہ تعلیمی و تربیت ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر جامعہ شہید عارف الحسینی کی مدرسین و انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ دینی و دنیاوی تعلیم کے فروغ کے حوالے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی اعلی اللہ مقامہ کی مشن کو یونہی کامیابی سے آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔
اس موقع پر برزگ عامل دین اور جامعہ شہید عارف الحسینی کے پرنسپل علامہ سید جواد ہادی، مرکزی شیعہ جامع مسجد کوچہ رسالدار کے خطیب علامہ ارشاد حسین خلیلی، خطیب جامع مسجد مدرسہ حسینی علامہ سید جمیل حسن شیرازی، جامع مسجد حیات آباد کے خطیب علامہ نذیر حسین مطہری، ذاکر اہلبیت آخونزادہ مجاہد علی اکبر، امامیہ مسجد آسیہ کے علامہ سید ذکی الحسن، امامیہ مسجد گنج کے علامہ سید عالم شاہ، خطیب جامعہ مسجد ہنگو علامہ سید نور علی، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری علامہ وحید کاظمی،آغا سید مظہر علی شاہ آف مانسہرہ نے بھی اپنے خطابات میں 20 روزہ ورکشاب کو طلباء کی تعلیم و تربیت کے لیے مفید قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس ورکشاپ سے تربیت حاصل کرنے والے طلباء بہترین دینی سفیر کے فرائض انجام دیں گے۔ تقریب کے آخر میں فکری و تربیتی ورکشاپ کے کامیاب انعقاد میں صوبہ بھر سے آئے بچوں میں تعریفی اسناد اور نمایاں پوزیشنز ہولڈرز میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ جبکہ قومی خدمات کی احسن انجام دہی پر مہمانانِ کرام کو بھی توصیفی اسناد تفویض کی گئیں۔












