مستقبل کے روشن ستارے جنہیں بجھا دیا
تحریر:محمد ہادی
16 دسمبر کا دن پاک وطن کے دشمنوں کو بےنقاب کرنے کےلئے آتا ہے۔ یہ دن پاکستان کے باسیوں کو یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی تعلیم و ترقی کا دشمن تمہارے سامنے موجود ہے، اس بے درد اور وحشی دشمن کو کبھی مت بھولنا، اس سے ہمیشہ یاد رکھنا۔
کیا سانحہ اے پی ایس کوئی عام سی دہشتگردی کا واقعہ تھا؟ کہ بس ایک کالعدم تنظیم آئے، دہشتگردی کرے، خون بہائے اور بعدازاں پاکستان کے ادارے متحرک ہوں، مجرموں کو سزا دیں، امن قائم ہو اور پھر سب کچھ بھلا دیا جائے؟
بھلا چند لمحے ان ماؤں کی سسکیوں پر غور کریں جو آج بھی بلند ہیں، شاید ادارے اور سیاسی رہنماء ان بوڑھے والدین کی چیخ و پکار کو سن لیں، تو ہر صبح کا آغاز 16 دسمبر سے کریں، پاک وطن کے دشمنوں سے کبھی تعلق و مذاکرات کا نہ سوچیں۔ سانحہ اے پی ایس کوئی عام سانحہ نہیں تھا، وہ ایک سو پچاس شہید طلباء پاکستان کے روشن مستقبل تھے، جنہیں بجھا دیا گیا۔ سانحہ اے پی ایس میں طالبعلموں کو نہیں پاکستان کی تعلیم و ترقی کو داغدار کیا گیا۔ محب وطن شہری، ادارے یا سیاسی تنظیمیں کیسے اس دن کو بھول سکتی ہیں؟ کوئی بھی اس دن کو نہیں بھلا سکتا، نہ ان ہونہار بچوں کے خون کو بھلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی خون بہانے والے درندوں کو۔۔۔!
یہ درندے پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک پاک وطن کے دشمن ہیں اور اس وقت تک دشمن رہیں گے جب تک پاکستان کو فتح نہیں کرلیتے، جانے انجانے ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ جن دہشتگردوں نے پاکستان کو کافرستان کہا اور خصوصا جنہوں نے 16 دسمبر کا سیاہ ترین دن دکھایا، وہ آج مضبوط ہورہے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان ہو یا کالعدم سپاہ صحابہ ان دہشتگردوں نے پاکستان کا جگر چھلنی کیا ہے۔ کبھی ناموس صحابہ، کبھی توہین صحابہ اور کبھی کافر کافر والا کھیل اور پھر اس کھیل میں بے گناہ شہریوں کا قتل افسوس ہے کہ ان کےخلاف کوئی اقدام نہیں۔ سیاسی رہنماؤں سے کیا شکوہ کریں، جن کو صرف اپنی کرپشن اور پارٹی کی ترقی یاد ہے لیکن شہدائے اے پی ایس اور اس کے مجرم یاد نہیں، بلکہ پاکستان کی تعلیم و ترقی کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وطن عزیز کیلئے دہشتگردی و شدت پسندی کے خلاف متحد ہو جائیں اور شہداء کے خون کو رائیگاں ہرگز نہ جانے دیں۔ صرف گانوں یا ترانوں پر اکتفاء کر لینے سے ذمہ داری انجام پذیر نہیں ہو پاتی، ہمیں عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ایک پرامن اور تعلیم سے محبت کرنے والی قوم ہیں۔ اس ہدف تک پہنچنے کےلئے سیاسی قائدین کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔اُس دشمن کے ساتھ ایک میز پر نہیں بیٹھا جا سکتا جن کے ہاتھ آرمی پبلک سکول کے ننھے بچوں کے خون سے رنگین ہوں۔












