19

شہید اول تفکر تقریبی رکھتے تھے، حجت الاسلام خالقپور

  • News cod : 47199
  • 13 می 2023 - 3:04
شہید اول تفکر تقریبی رکھتے تھے، حجت الاسلام خالقپور
اگر غیبت کے زمانے میں یہ علماء نہ ہوتے کہ جنہوں نے تبلیغ کی اور عالم تشیع کی زمام اپنے ہاتھ سنبھالی تو کوئی بھی دین خدا پر باقی نہ رہتا

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ الامام المنتظر قم ایران میں منعقدہ علمی سیمینار سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے نائب رئیس جامعہ المصطفی العالمیہ حجت‌الاسلام والمسلمین مجید خالق پور نے کہا کہ بہت خوشی ہوئی کہ آپ اساتید اور طلباء کی خدمت میں دوسری بار حاضر ہیں اور دو سال پہلے بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا یہ بہت بہترین برنامہ ہے کہ جس کا آغاز کیا گیا ہے جو سید محمد حسن اور ان کی ٹیم کی زحمات و کوششوں کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اس کام کو شروع کیا کہ جس میں جہان تشیع کی ایک برجستہ شخصیت اور پاکستان کے علماء میں سے ایک برجستہ شخصیت کی یاد منائی جاتی ہے بہترین و خلاقانہ کام ہے اور آہستہ آہستہ لوگ پاکستان کے علماء سے بھی آشنا ہوجائیں گے .
میرا موضوع شہید اول کی شخصیت کو بیان کرنا ہے مرحوم شہید اول کی تین مہم خصوصیات تھیں .
پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اپ اہل تحقیق و مطالعہ تھے اس قدر کہ مختلف ملکوں میں ایک برجستہ شخصیت کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے خود فخر المحققین ان کے اساتید میں سے تھے لیکن یہ ان کے لئے بھی قابل فخر تھے انہوں نے لمعہ جیسی کتاب لکھی کہ جس کی شرح شہید ثانی نے لکھی اس قدر اخلاص رکھتے تھے کہ علماء بدون وضو اس کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے اور قدیم سے شہرت ہے کہ جب بھی کوئی اس کتاب کو شروع کرتا تھا تو گویا خود کو پاکی و طہارت کی فضا میں پاتا ہے انہوں نے اپنی عمر کو خالصانہ گزارا اور ایک لائن بھی اپنی تعریف کروانے کے لئے نہ لکھی پس ان کے اس پہلو پر کام ہونا چاہیے نہ یہ کہ ان کے آثار کو شمار کیا جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی تحقیقی شخصیت پرکام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ راز معلوم ہو کہ اس عمر میں اس قدر چیزوں کو تالیف و تصنیف کیا.
دوسری خصوصیت ان کی یہ تھی کہ تفکر تقریبی رکھتے تھے خود عالم تھے اور اس زمانہ میں تقیہ بھی تھا لیکن شہید کی بناء فقط تقیہ پر نہ تھی بلکہ وہ قائل تھے کہ جوہر دین و اصل دین محفوظ رہے اور اس کی حفاظت کی جائے دین فراموش نہ ہوجائے آئمہ علیہم السلام نے بھی اسی ہدف کی خاطر اپنی زندگی کو قربان کیا اور اپنی زندگی کو آرام وسکون سے محروم کردیا جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا جو اپنے والد بزرگوار کا کامل نمونہ تھیں کربلا سے پہلے ان کی ایک برجستہ شخصیت تھی لیکن کربلا کے بعد ان کی شخصیت مجروح ہوئی اور لوگوں کے نزدیک اب ان کا وہ مقام نہ رہا اور یہ انہوں نے خود انتخاب کیا تاکہ حسین علیہ السلام کا نام زندہ رہے علماء نے بھی اس قدر زحمات اٹھائیں ہیں کہ خود فراموش ہوجائیں لیکن اصل دین باقی رہے.
امام کاظم علیہ السلام کے ایک صحابی حکومت میں نفوذ رکھتے تھے علی بن یقطین کہ جسے لوگ نہیں پہنچاتے تھے کہ وہ شیعہ ہیں تو ظاہرا تقیہ تھا لیکن امام علیہ السلام چاہتے تھے کہ اس ذریعے سے مفاہیم ناب دینی کو بچایا جائے آج جو ہمارے پاس اسلام ناب موجود ہے وہ سب ان علماء کی زحمات کا نتیجہ ہے اس کا نمونہ پاکستان میں افتخار حسین نقوی ہیں کہ جنہوں نے حکومتی سطح پر پاکستانی شیعہ کے حق میں آواز اٹھائی اور کتابیں بھی لکھیں شہید اول کے اسی وجہ سے زیادہ شاگرد تھے کہ جس میں زیادہ سنی تھے اور شہید اول دیگر مکاتب کی تعلیم کے ضمن میں حقیقی اسلام کو پیش کرتے تھے.
تیسری خصوصیت ان کی یہ تھی کہ عالم بالزمان تھے خود شام میں موجود تھے اور خراسان سے کسی نے لکھا کہ ہم نے حکومت شیعہ تشکیل دی ہے تو ہمارے لئے ایک دورہ احکامات کو بھیج دیا جائے تو شہید اول نے کتاب لمعہ کو لکھا اور فرماتے ہیں کہ یہ معجزہ تھا کہ کتاب لکھنے کے دوران کوئی بھی اہل سنت کا میرے پاس نہیں آیا.
آج کے طلبہ میں بھی یہ تین خصوصیات ہونی چاہیں مرحوم مہدی نجفی بھی انہی خصوصیات کے حامل تھے اہل عمل تھے انسان اپنے منافع کے پیچھے نہ ہو بلکہ معاشرہ کو عروج دینے کی کوشش کرے ہماری فکر یہ ہوتی ہے کہ کیا کریں کہ زندگی چل پڑے مگر ان لوگوں نے زندگی کو فدا کردیا ان علماء کی زندگی میں برکت تھی اسی وجہ سے یہاں ان کا تذکرہ ہورہا ہے آج ان کے کام کو دیکھ کر ان کی تجلیل کی جارہی ہے آج آپ سب ان دو بزرگوار کے مثل ہیں بلکہ ان سے بھی بالاتر ہیں کیوں آج فرصت و امکانات زیادہ ہیں آج مکتب اہل بیت علیہم السلام کی وجہ سے دشمن کے پاوں اکھڑ گئے ہیں اور جامعہ المصطفیٰ نے اپنی کمیوں کے باوجود تقریبا سب ممالک سے طلباء کو اکھٹا کیا ہے جو عاشقانہ طور پر دینی تعلیمات سے آگاہ ہورہے ہیں.

نکتہ مہم یہ ہے کہ آج کے زمانے میں سب سے زیادہ اولیت کس چیز میں ہے ہمیں دین کی خدمت کے لئے کیا کرنا چاہیے تو وہ چیز یہ ہے کہ ہم چاہے جو بھی کام کریں تدریس تبلیغ تحقیق جو بھی شعبہ ہو اس میں دین کے کارآمد ہونے کو بیان کیا جائے کیونکہ دشمن نے بہت زور لگا کر یہ یقین کروا دیا ہے کہ کہ دین اصلا انسانی معاشرہ کو چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا دین فقط انفرادی حد تک ہونا چاہیے اور اس مطلب پر جھوٹی روایات کو بھی گھڑا گیا ہے جیسا کہ ایک روایت جعلی ہے کہ جس میں راوی کہتا ہے کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے باہر آئے تو دیکھا کہ لوگ کھجور کے لئے عمل تلقیح انجام دے رہے ہیں تو پوچھا یہ کیا کررہے ہو تو کہا گیا کہ عمل تلقیح انجام دیا جارہا ہے تاکہ کھجور پیدا ہوجائے تو کہا کہ یہ کام نہ کرو بلکہ خدا خود اس کام کو انجام دے گا تو انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات مان کر یہ کام انجام نہیں دیا تو کچھ دن کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا کہ لوگ غصہ میں ہیں تو وجہ پوچھی تو کیا گیا کہ آپ نے اس کام سے منع فرمایا تھا تو اس وجہ سے ہمارے فصل برباد ہوگئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پریشان ہوئے اور کچھ دیر کے بعد فرمایا یقینا آپ دنیا کے معاملات مجھ سے بہتر جانتے ہیں پس اس بارے میں میری باتوں پر عمل نہ کریں پس یہیں سے دین کو دنیا سے جدا کردیا گیا یہ دین کا دنیا سے جدائی کا رسمی اعلان تھا آج دشمن اس تفکر کو دن بدن وسعت دے رہا ہے ہمارا وظیفہ ہے کہ ایسا کام کریں کہ ہر میدان میں دین کے کارآمد ہونے کو ثابت کرسکیں جیسا کہ اگر کوئی کہے کہ دین میں مکان کی تعمیر کے قواعد موجود ہیں تو ہم کہیں گے کہ ہیں اس بارے میں دینی تعلیمات موجود ہیں لیکن سب سے پہلے ان کو جمع کرکے ایک نظام بنایا جائے آج ہمیں غربی تعلیم پڑھنے کے بجائے دینی تعلیمات کو نظام مند بنانے کی ضرورت ہے اگر ہم اس کام کو انجام دے دیں تو گویا ہم نے دین کی خدمت کی لیکن اگر یہ کام نہ کرسکیں تو پھر جو کچھ بھی کریں دین کی خدمت شمار نہیں ہوگی.
والسلام

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=47199