وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی دینی مدارس کے سربراہ نے شہر گچساران میں مدرسه علمیه امام صادق ع کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ اور یونیورسٹی کا باہمی تعامل سائنس اور علوم کو اسلامی سائنس اور حکمت کے ساتھ ملانے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے حوزہ علمیہ کے اثرات کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ نے ملاصدرا کو پروان چڑھایا کہ ان کے فلسفی افکار ساڑھے چار سو سال گزر جانے کے بعد آج بھی پوری دنیا میں بیان کئے جاتے ہیں، میرزا تقی شیرازی کہ جن کے ایک فتوے نے برطانوی استعمار سے ایران کو نجات بخشی، امام خمینیؒ کہ جو ایران میں ایسا اسلامی انقلاب لیکر آئے جو خدا کے فضل و کرم سے آج بھی اپنے پیروں پر کھڑا دشمن کی نیندیں حرام کر رہا ہے۔
حوزات علمیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حوزہ عوام کا خادم ہے عوام کی خدمت طالب علموں اور اساتذہ کرام کے وجود میں مضمر ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ جس جگہ بھی الٰہی تعلیمات، توحیدی افکار نیز حقیقی عالم دین نے قدم رکھا وہ نقطہ عزت، عظمت اور استقلال سے چمک اٹھا۔ آج بھی علمائے دین اور حوزہ ملکر ملک اور عوام کے خلاف ہونے والے حملوں کا دفاع کرنے کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں، البتہ ممکن ہے کچھ مشکلات ہوں کہ جن کی بطور کامل نفی نہیں کی جا سکتی اور میں خود ہر انتقاد کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوں، لیکن ہماری نگاہیں آسمان کی جانب اور ہمارا ہدف الٰہی قانون کی رعایت اور عوام کی خدمت کرنا ہے۔
حوزات علمیہ کے سربراہ نے بیان کیا کہ اسکولز، یونیورسٹیز، دوسرے تعلیمی و تربیتی ادارے اور دینی مدارس کی جانب سے جو بھی اقدامات کئے جاتے ہیں ان کا اصل ہدف معاشرے کو تکامل کی منازل تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوزہ علمیہ مختلف حادثات کے موقع پر عوام کے شانہ بشانہ خدمت کیلئے حاضر رہا ہے۔
حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے مدرسه علمیه امام صادق علیه السلام کے افتتاح کو ایک اہم اخلاقی، علمی اور معنوی حرکت کا آغاز قرار دیا اور کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو علم الٰہی کی سنجیدہ، پرکشش اور درست طریقوں کی ضرورت ہے، ہمیں آج کی نسل پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے اور انہیں سنجیدہ فن اور علم سکھانا چاہیئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دینی مدارس کے سربراہان کو بھی چاہیئے کہ اپنی بلند نگاہوں اور مضبوط عزم و ارادہ کے ساتھ آگے بڑھیں۔












