وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، عشرۂ کرامت کی مناسبت سے ولایت چینل سے شائع ہونے والے “نور علی نور” نامی ٹاک شو میں حجت الاسلام و المسلمین سید مرتضیٰ طبسی نے حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کی زیارت کی برکات اور ان کی اپنے زمانے میں الٰہی ذمہ داریوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت معصومه سلام الله علیہا ایک بلند و بالا درجات اور مقامات کی حامل خاتون ہیں اور یہ مقامات خداوند عالم نے انہیں معصوم اماموں کے ذریعہ عطا کئے ہیں۔ انہی مقامات میں سے ایک عصمت کا مقام ہے جو آپ کو حضرت علی ابن موسی الرضا علیه السلام کے ذریعہ عطا ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اسلام میں چار امام زادہ ایسے ہیں جو عصمت کے مقام پر فائز ہیں: حضرت زینب(س)، حضرت قمر بنی ہاشم (ع)، حضرت علی اکبر(ع) اور حضرت معصومه(س)۔ ان ہستیوں کا مقام اس قدر بلند ہے کہ ہماری عقلیں ان کی منزلت کو درک کرنے سے عاجز ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین طبسی نے کہا کہ سورہ نور میں خداوند عالم فرماتا ہے: “ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔”کچھ مفسرین قرآن اس مکان سے مسجد مراد لیتے ہیں در حالیکہ روایات کی بناء پر یہاں انبیاء اور اہل بیت علیہم السلام کے گھر مراد ہیں۔ لہٰذا اہل بیت کا حرم، حضرت معصومه قم سلام اللہ علیہا کا حرم انہی گھروں میں سے ایک ہے کہ جن میں ذکر خدا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ واضح کیا کہ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ روایات کی بناء پر آپ(س) کی قبر کو وہی مقام حاصل ہے جو حضرت فاطمه زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر کو حاصل ہے اور وہ تمام فیوض وبرکات جو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی زیارت سے مؤمن کسب کر سکتا ہے آپ(س) کی قبر مطہر کی زیارت سے بھی حاصل کر سکتا ہے۔ آپ(س) کی قبر ہر درد کی دوا اور ہر مشکل کو آسان کرنے والی ہے البتہ اس شخص کیلئے جو طلب کرے۔
حجت الاسلام و المسلمین طبسی نے حضرت معصومه سلام الله علیہا کی رسالت(ذمہ داریوں) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ہم سب کی ایک ذمہ داری ہے اسی طرح اہل بیت علیہم السلام بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی پر مامور ہیں۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بیٹی حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کا مدینہ سے ہجرت کرنا اسی ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے تھا بالکل اُسی طرح جس طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سفر کیا اور مختلف مشکلات برداشت کیں۔ اسی طرح تمام آئمہ اہلبیت علیہم السلام تعلیمات دین کو لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہیں۔
انہوں نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ہمیں خود اہلبیت(ع) کے مقام و منزلت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے محافل کا انعقاد کرنا چاہیئے، کہا کہ اگر ہم اہلبیت علیہم السلام کے لیے کسی مجلس یا محفل کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں اور اس محفل کے ذریعہ اہلبیت علیہم السلام سے اپنے رابطے کو محکم کرنا چاہتے ہیں تو یہ مجالس و محافل خود اہلبیت کے طریقہ سے منعقد ہونی چاہئیں۔ نہ ہی ان کی شأن کو حد سے زیادہ بڑھایا جائے کہ غلو کی منزل تک پہنچ جائیں اور نہ ہی اتنا گھٹایا جائے کہ مقصر بن جائیں۔
حجت الاسلام والمسلمین طبسی کا کہنا تھا کہ ہمیں خداوندعالم کی اطاعت خلوص سے کرنی چاہیئے یعنی اس میں ہماری نفسانی خواہشات شامل نہ ہوں۔ ممکن ہے کوئی ایسا کام ہو جو ہماری خواہشات کے مخالف ہو لیکن امام، حجت خدا اور ولی خدا اسی کام کو ہم سے چاہتے ہوں، ایسے کاموں کی انجام دہی ہی اصل اطاعت ہے۔
حجت الاسلام طبسی کا کہنا تھا کہ خدا اور ولی خدا سے قربت کے نتیجے میں ہی ہمارا رشد ممکن ہے، لہٰذا ہمیں ہماری زندگی میں خدائی رنگ لانے کی ضرورت ہے کچھ اس طرح کہ ہمارا دل، ہمارے تمام اعضاء و جوارح سے خدائی بو آنے لگے اور ہمارا ہر عمل خداوند عالم کی اطاعت اور اس کی رضا کیلئے ہو۔












