وفاق ٹائمز، استقبال محرم اور ایام عید غدیر کی مناسبت سے مجلس علماء امامیہ پاکستان کے زیر اہتمام مبلغین دین کے سالانہ سلسلہ وار علمی و فکری اجتماعات بعنوان عظمت غدیر و عاشورا کانفرنسوں کے سلسلہ کی اس سال کی دوسری کانفرنس کا انعقاد امام بارگاہ قصر شبیر مدینہ سیداں گجرات میں ہوا۔ کانفرنس میں اپر پنجاب کے مختلف اضلاع سے متعدد مبلغین امامیہ و آئمہ مساجد نے شرکت کی۔ مجلس علماء امامیہ پاکستان کے مدیر مسوول حجت الاسلام مولانا ضیغم عباس نے مبلغین کو خوش آمدید کہا۔ مقررین نے شرکائے کانفرنس سے خطاب میں غدیر و عاشورا کی اہمیت، ولایت کے تقاضوں اور تبلیغ دین جیسی خطیر ذمہ داری کی اہمیت اور مبلغ کی خصوصیات کے علمی و فکری موضوعات پر گفتگو کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ مجلس علماء امامیہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے مبلغین امامیہ کی خصوصیات اور فرائض و ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا مبلغین امامیہ کے بنیادی فرائض میں سے ایک لوگوں کے درمیان اخوت اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا امر بالمعروف ترک کرنے سے معاشرے گمراہی و ضلالت میں ڈوب جاتے ہیں۔ معاشرے کو ہدایت اور نیکی سے متصل رکھنے کے لیے امر بالمعروف کے وظیفہ کو بطور احسن انجام دینا ضروری ہے اور یہ ایک مبلغ دین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے موسسہ باقر العلوم قم المقدس کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین فدا علی حلیمی نے کہا دنیاوی نظام میں جب امور اللہ کی ذات سے متصل نہیں ہوں گے تو وہ امور امور باطلہ میں سے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا انسان کی زندگی میں اللہ کی جس صفت کا سب سے زیادہ کردار ہے وہ ربوبیت ہے۔ انہوں نے کہا مکتب اہل بیت ع میں اللہ مالک حقیقی و خالق حقیقی و صاحب اختیار حقیقی ہے لہذا جب صاحب اختیار ہے تو کسی کو صاحب اختیار بنا بھی سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالٰی نے بطور صاحب اختیار رسول اللہ کو نبوت و رسالت عطا کی اور رسول اللہ نے اللہ کی طرف سے تفویض اختیار کو استعمال کرتے ہوئے روز غدیر سوائے رسالت و نبوت کے تمام اختیارات حضرت علی ع کو دے دیے اور یہی مکتب اہل بیت کا تصور ولایت ہے۔ اللہ نے بطور صاحب اختیار حقیقی ولایت و اختیار رسول اللہ کو دیا۔ رسول اللہ نے بطور صاحب اختیار یہ اختیار معصوم امام کو دیا اور معصوم امام نے بطور صاحب اختیار یہ اختیار فقیہ کو منتقل کیا ہے اور یہی نظریہ ولایت فقیہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا مکتب اہل بیت میں حق حاکمیت کی منشاء اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔ حکومت کرنے کا حق صرف اللہ سے ملتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا صاحب اختیار امام ع نے فقیہ کو ہم پر بطور حاکم مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا حاکم و سرپرست کی ضرورت ایک عقلی تقاضا ہے۔ سب سے مدیر و مدبر عادل و پرہیز گار اور عالم و دانشور کو جاہل، بے بصیرت اور عاصی پر ترجیح حاصل ہے یہ بھی عقلی تقاضا ہے اور یہی ولایت فقیہ ہے۔
ان کے علاوہ مولانا ڈاکٹر تنویر رضوی، مجلس علماء امامیہ پاکستان وسطی پنجاب کے مسوول مولانا سرفراز حسینی، مولانا زمان حسینی و دیگر نے سرکائے کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکائے کانفرنس کو کتب کی صورت میں معاون علمی و تبلیغی مواد بطور ھدیہ دیا گیا۔ یاد رہے مجلس علماء امامیہ پاکستان ادارہ الباقر ع کا شعبہ تبلیغات ہے جو عرصہ 10 سال سے زائد عرصے سے مختلف طرح کے علمی و تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے ذریعے مبلغین امامیہ کی استعداد پروری کا کام کر رہا ہے۔












