وفاق ٹائمز، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کے درمیان ملاقات میں سرحدوں کے تحفظ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جغرافیائی سالمیت کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ملاقات کے دوران ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے پاکستان کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنانے، توانانی، اقتصادی، تجارتی اور سماجی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لئے اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ ایرانی صدر نے زور دے کر کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری لانے کے لیے سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے۔ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے پاکستانی فوج کے کمانڈر جنرل سید عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کی قومی سلامتی، سرحدوں کو محفوظ بنانے، اقتصادی، سماجی شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ ان کے جغرافیائی سرحدوں کو محفوظ بناکر انہیں اقتصادی سرحدوں میں تبدیل کرنا ہے۔
ملاقات میں ایرانی صدر نے توانائی کے شعبے میں تعاون کا خصوصی ذکر کیا اور اس سے متعلق فوری جامع حکمت عملی اپنانے کے طریقوں پر غور کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے چاہییں۔ ایرانی صدر نے جنرل عاصم منیر سے کہا کہ ہمسایہ مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایرانی صدر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حامد وحیدی اور پاکستانی فوج کے سربراہ سید عاصم منیر نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ فوجی، تعلیمی، دفاعی اور سیکورٹی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر فوری عمل درآمد کرنا، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینا شامل ہونا چاہیئے۔
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جب پاکستان اور ایران 2 اسلامی ملک آپس میں اچھے پڑوسی بنیں گے تو اس کے نتیجے میں سیاسی تعلقات کی سطح میں بھی بہتری آئے گی۔ آیت اللہ رئیسی نے خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات میں انتشار اور رکاوٹیں ڈالنے کے لئے دشمنوں کی چالوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ہمیں موجودہ مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی صلاحیتوں کے تبادلے کے ذریعے دوطرفہ اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط کر کے دشمن کی چالیں ناکام بنائی جا سکتی ہیں۔ آیت اللہ رئیسی کا کہنا ہے کہ ایران کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی پالیسی عالم اسلام کے لئے ایک بہت قیمتی اثاثہ اور موقع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ ملاقات میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنے پڑوسیوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے عالم اسلام کے لیے ایک بہت قیمتی موقع قرار دیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے اس موقع پر دونوں ممالک کی طویل مشترکہ سرحد کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی و تجارتی اور سرحدی رابطوں کو وسعت دینے پر زور دیا تاکہ سیکیورٹی کی صورت حال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔












