وفاق ٹائمز، تفصیلات کے مطابق اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ توہین صحابہ بل فتنہ ہے، یہ بل شرارت ہے، یہ بل بدمعاشی ہے، یہ صحابہ کے احترام کا بل نہیں بلکہ صحابہ کے نام پر دھوکہ دہی ہے، ذمہ داران جن کے پاس یہ بل موجود ہے، اس کا حل نکالیں، یہ بل ہمیں قابل قبول نہیں ہے، سونامی آسکتا تھا، اگر ہم اجازت دیتے لوگوں کو آنے کی، ہم نے روکا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا کہ اگر یہ بل نہ رکا تو یکم ربیع الاول کو ملت جعفریہ کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگا، عوام آمادہ رہیں، ہم محاذ آرائی نہیں چاہتے، شیعہ سنی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے، ہم ابھی علمائے کرام اور ذاکرین عظام کے اجتماع کے ذریعے اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں، ورنہ یکم ربیع الاول کو بھرپور طاقت کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے، لوگوں کو آمادہ کریں، پوری قوم اپنے اپنے انتظامات پر اسلام آباد آئے گی، ہم اس وقت تک اسلام آباد سے نہیں جائیں گے، جب تک اس مسئلے کا مناسب حل نہیں نکال لیا جاتا۔












