مدرسہ الامام المنتظر عج قم میں آیت اللہ محمد حسین نجفی کے چہلم کی مناسبت سے مجلس عزا کا انعقاد
وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ، وفاق المدارس شعبہ قم اور مدرسہ الامام المنتظر عج قم کے تحت آیت اللہ قبلہ الشیخ محمد حسین نجفی مرحوم کے چہلم کی مناسبت سے مجلس عزا کا انعقاد ہوا.
مجلس عزا سے حوزہ علمیہ قم کے استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب نے خطاب کیا اور قبلہ مرحوم کی سیرت اور خدمات پر روشنی ڈالی
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں اے کمیل! مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں۔ بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں۔
صدر المحققین عالم ربانی مفسر قرآن الشیخ محمد حسین نجفی اپنی مثال آپ تھے آج کے حوزات اور علم سے محبت ان ہستیوں کی وجہ سے زندہ ہے قبلہ صاحب کی فعالیت بہت زیادہ ہے جن سے درس لینے کی ضرروت ہے
قبلہ صاحب کو ۱۹۴۵ میں ان کی والدہ نے مدرسے میں داخل کروایا جہاں پر انہوں نے استاد العلماء آیت اللہ سید باقر سے استفادہ کیا اسی طرح کچھ وقت مفسر قرآن آیت اللہ حسین بخش جاڑا کی تربیت میں گزارا اور تقریباً پانچ سال علامہ یار شاہ نجفی کی خدمت میں حاضر رہے پھر ۱۹۵۴ میں نجف اشرف چلے گئے چند مختلف آیات عظام جیسے آیت اللہ جواد تبریزی آیت اللہ زنجانی آیت اللہ محسن حکیم سے چھ سال استفادہ کیا اور ۱۹۶۰ میں واپس پاکستان آگئے جس وقت ان کی عمر اٹھائیس سال اور ہاتھ میں اجتہاد کی ڈگری تھی بعض مخالفین کہتے ہیں کہ انہیں اجتہاد تجزی کی سند دی گئی تھی نہ کہ اجتہاد کامل کی تو یہ بات ٹھیک ہے کیونکہ ابتداء میں ہر مجتھد اجتہاد تجزی ہی حاصل کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ مدارج علمی طے کرکے اجتہاد کامل پر پہنچ جاتا ہے پس اجتہاد تجزی بھی اجتہاد کی صلاحیت پر منہ بولتا ثبوت ہے قبلہ صاحب کو فقہ و اصول میں بے پناہ مہارت ہونے کے ساتھ ساتھ علم کلام میں بھی بے پناہ مہارت حاصل تھی قبلہ صاحب جس دور میں نجف اشرف میں زیر تعلیم تھے تو اس وقت اکثریت طلبہ فقر و فاقہ کا شکار تھی اور خود قبلہ صاحب بھی اسی حالت میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کا ایک بیٹا بھی غذائی قلت کا شکار ہوکر اس دنیا سے چلا گیا لیکن یہ چیز بھی انہیں علم دین حاصل کرنے سے منصرف نہ کرسکی آج اگرچہ مسائل موجود ہیں لیکن آج کا زمانہ قدیم زمانے سے کافی حد تک بہتر ہے لیکن ہم علمی طور پر کافی پیچھے ہیں
قبلہ صاحب نے پاکستان واپس آکر دو محاذوں پر کام کیا ایک محاذ بیرونی تھا جس میں دیگر مکاتب فکر کے لوگوں میں ناصبیت اور خارجیت کے ساتھ مقابلہ کیا اور دوسرا محاذ اندورنی تھا کہ جس میں شیعوں میں موجود غالیوں سے مقابلہ کیا جو قبلہ صاحب کی عقائد حقہ کو نشر کرنے کی فعالیت کی وجہ سے غم و غصہ میں تھے
قبلہ صاحب کی صلاحیت کی یہ دلیل کافی ہے کہ اس زمانے میں ایک علماء حقہ کا گروپ تشکیل دیا گیا جس میں پندرہ سولہ کے قریب علماء شامل تھے کہ جن کا کام مکتب تشیع کا دفاع تھا اور اس گروپ میں قبلہ صاحب کے اساتذہ اور ہم عصر بزرگان جیسے قبلہ گلاب شاہ قبلہ یار شاہ نجفی علامہ حسین بخش قبلہ محب علی شاہ جاڑا مفتی جعفر حسین علامہ سیف اللہ سب شامل تھے لیکن اس گروپ کا لیڈر قبلہ ڈھکو صاحب کو بنا دیا گیا چونکہ قبلہ صاحب کا ہر ہر لفظ مکتب تشیع کی ترجمانی کا باعث تھا
قبلہ صاحب نے مکتب تشیع کی تبلیغ کے لئے ایک طرف مجالس کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ساتھ کتب کی تصنیف کا ذمہ بھی اٹھا لیا اسی سلسلے میں سب سے پہلے عقائد کی کتاب اصول الشریعہ لکھی جس میں شیعہ عقائد کو مفصل انداز میں بیان کیا گیا تھا اس کتاب نے پاکستانی معاشرے میں ایک علمی فکری انقلاب برپا کردیا تھا اس سے پہلے مفسر قرآن علامہ حسین بخش جاڑا صاحب نے شیعہ عقاید پر کام کیا تھا لیکن وہ بہت مختصر تھا لیکن اس کتاب میں تقریباً قدرے تفصیل سے کام کیا گیا تھا اس کتاب کی وجہ سے لوگ غالیوں کے غلو و شرک کی جانب متوجہ ہوئے اس کتاب کی اس قدر شہرت ہوگئی کہ باقاعدہ کچھ مدارس میں اسے متن درس قرار دے دیا گیا اور قبلہ گلاب شاہ صاحب نے اسے ملتان میں اپنے مدرسہ میں باقاعدہ پڑھانا شروع کردیا تھا اور اسی طرح وہابی لوگ بھی متوجہ ہوئے کہ جنہیں ہم کافر کہتے تھے وہ تو مسلمان ہیں چونکہ وہ لوگ پہلے دیگر غالیوں کے بیانات کو سنتے تھے جس میں علی اللہ اور شہادت ثالثہ کے مسائل موجود تھے لیکن اس کتاب نے ان کے ضمیروں کا جھنجھوڑا
اس کے بعد قبلہ صاحب نے عقائد پر دوسری کتاب احسن الفوائد لکھی جو پہلی کتاب سے متقن تر تھی اور مولانا اسحاق صاحب نے باقاعدہ ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر یہ کتابیں نہ ہوتی تو ہم کبھی بھی شیعہ کو مسلمان نہ سمجھتے اور وہ قبلہ صاحب کو اپنا استاد مانتے تھے
قبلہ صاحب اردو ادبیات میں ماہر تھے اور اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی کتابوں کو تصنیف کیا ان کتابوں کا اردو سے عربی یا فارسی میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ یہ لوگ بھی ان کتابوں سے مستفید ہوں چونکہ اس پائے کا کام ان جگہوں پر نہیں کیا گیا ان کتابوں کی وجہ سے غالیوں کا لعن و طعن شروع ہوگیا لیکن قبلہ صاحب پہاڑ کی مانند کھڑے رہے
پھر فقہ میں قوانین الشریعہ نامی کتاب لکھی یہ کتاب ان کی توضیح المسائل تھی جس میں انہوں نے ہر مسئلہ کے ذیل میں مختصر دلیل یا حوالہ لکھتے تھے گویا مختصر شکل میں استدلال خارج کا درس تھا جس کی وجہ سے ان کے ماننے والے دقیق تھے
اس کے بعد مختلف رسالہ لکھے جیسے غنا کی حرمت ریش تراشی کی حرمت نماز جمعہ کا وجوب وغیرہ
اس دور میں عدالت میں اہل سنت حضرات نے اپنی احادیث کی کتابوں کو جمع کروایا ہوا تھا لیکن شیعوں نے اپنی توضیح المسائل کی کتابیں جمع کروائی تھی چونکہ ان کی احادیث کی کتابوں کے ترجمے موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے قبلہ صاحب نے وسائل الشیعہ کا ترجمہ کرنا شروع کردیا
مقتل کے حوالے سے سعادت الدارین نامی کتاب لکھی جس میں پہلی بار تحقیقی مواد کو پیش کیا گیا جس میں مثلا حضرت علی اکبر کے بارے میں بیان کیا کہ وہ علی اوسط تھے اور علی اکبر حضرت زین العابدین علیہ السلام تھے اور حضرت صغری کہ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مدینہ میں رہ گئی تھی ان کو رد کردیا مقتل کے حوالے سے جامع ترین کتاب ہے چونکہ مقتل لہوف اور مقتل ابن ابی مخنف میں مختصر طور پر ان چیزوں کو بیان کیا گیا ہے اور فقط نقل روایت کی حد تک محدود ہیں لیکن اس کتاب میں تحلیلی گفتگو کی گئی ہے اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ مصائب کو تحقیقی انداز میں پیش کرتے ہوئے اس کی شکل کو خراب نہیں کیا گیا
اسی طرح ایک کتاب انہوں نے تجلیات صداقت لکھی جو آفتاب ہدایت کے جواب میں لکھی گئی تھی اور جس کے لکھنے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئی بھی شیعہ اس کا جواب نہیں لکھ سکتا اس کتاب میں اس شخص نے شیعہ ضعیف روایات کو مبنی قرار دے کر شیعہ مکتب کی توہین کی تھی قبلہ صاحب نے اس کتاب کے جواب میں لکھا کہ ہمارے مکتب کی ترجمان ضعیف روایات نہیں ہیں بلکہ محکم روایات ہیں اور ہر مکتب میں ضعیف روایات موجود ہیں لیکن انہیں مکتب کی اساس قرار نہیں دیا جاتا اس کتاب کی وجہ سے ایسی کھلبلی مچی کہ انہوں نے قبلہ صاحب کو مارنے کا عزم کرلیا یہی چیز مکتب تشیع کی حقانیت پر دلیل ہے کہ جب دشمن علمی راہ چھوڑ کر دیگر ہتھکنڈوں سے اس مکتب کی حفاظت کرنے والوں کو راہ سے ہٹھانا چاہے
اسی طرح ایک کتاب قبلہ صاحب نے حدیث ثقلین پر لکھی جس کا نام تحقیقات الفریقین رکھا
اسی طرح اندرونی محاذ کے خلاف اصلاح الرسوم نامی کتاب لکھی جس میں تشیع میں رائج شبہات اور انحرافات کا جواب دیا گیا جس کی وجہ سے اپنے لوگ ناراض ہوگئے مگر قبلہ صاحب کبھی نہ گھبرائے
تبلیغی سلسلہ میں بھی قبلہ صاحب نے بے پناہ کام کیا اور اس سلسلے میں پورے پاکستان حتی بیرون ملک سفر کیا اور پھر مجالس کے علاوہ مختلف بیٹھکوں کا بھی نظام قائم کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ دین کی ترویج ہوسکے
قبلہ صاحب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ ان کی اس قدر توہین کی گئی اور ان پر لعن و طعن کیا گیا غیر تو غیر اپنوں نے اس کام کو مسلسل انجام دیا لیکن انہوں نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا اور کسی کی دشمنی کو اپنے ذہن پر سوار نہیں کیا
قبلہ صاحب ہمیشہ یہی دعا کرتے تھے کہ خداوند مجھے مخالفین سے زیادہ عمر عطا فرمائے اور خدا نے ان کی دعا کو سن لیا اور ان کی زندگی میں ہی تمام مخالفین دنیا سے چلے گئے ایک عالم نے بے پناہ توہین کی مگر قبلہ نے اسے معاف کردیا ایک شخص نے ان کی ناموس پر بھی قولی حملے کئے لیکن انہیں بھی معاف کردیا اور اس کے مرنے کے بعد ان کی قبر پر جاکر دعائے مغفرت مانگی اس وقت مولوی اسماعیل ان کا سب سے بڑا مخالف تھا اس کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے جب اعتراض کیا گیا تو کہا کہ اس نے آخری وقت مجھ سے معافی مانگ لی تھی یعنی قبلہ صاحب حقیقی تولی اور تبری پر عمل پیرا تھے کیونکہ تولی کا معنی یہی ہے کہ انسان اپنے مؤمن بھائیوں سے محبت کرے اور ان کا کینہ اپنے دل میں نہ رکھے اگرچہ وہ آپ کے حق میں متجاوز ہو اور تبری یہ ہے کہ دشمنان خدا و دین کی نفرت کو اپنے دل میں رکھے اور یہی صفت آئمہ علیھم السلام میں موجود تھی اور یہی صفت ان کے حقیقی شاگردوں میں موجود ہے
ایک بار انہوں نے مدرسہ حجتیہ میں خطاب کرنا تھا لیکن کچھ لوگوں نے ایسے حالات بنا دئیے کہ وہ خطاب نہ کرسکیں مگر انہوں نے اس چیز کو برا نہیں منایا اور مخالفین کے بارے میں کچھ نہیں کہا یہی چیز باعث بنی کہ انہوں نے طویل عرصہ زندگی کی چونکہ انسان کو مخالفین نہیں مارتے بلکہ انسان کو ٹینشن اور دوسروں کے کینے اور غم و غصہ مار دیتا ہے
ایک بار کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کی اس قدر مخالفت کی جاتی ہے تو آپ اس کا جواب نہیں دیتے تو انہوں نے کہا کہ میرے لئے علامہ نقی نقن صاحب اسوہ ہیں کہ ہندوستان میں ان کی بھی سخت توہین کی گئی اور جب وہ گھر سے مدرسے آتے تو ان کو گالیاں دی جاتی اور پتھر مارے جاتے چونکہ وہ بھی اصلاح کے حامی تھے اور ان کے کتابخانے کو بھی جلا دیا تو میں بھی اصلاح کرنا چاہتا ہوں تو مجھے بھی یہ سب چیزیں برداشت کرنا پڑیں گے
قبلہ صاحب علمی لحاظ سے اس قدر قوی تھے کہ ایک بار قم میں ایک نشست میں تقریباً ڈھائی گھنٹے سوالات کے استدلالی جوابات دئیے
اسی طرح ان کا حافظہ بھی بہت قوی تھا اس حد تک کہ مختلف کتابوں کے حوالے بھی انہوں نے اپنے حافظے کی مدد سے لکھے یعنی انہیں مکمل کتابیں حفظ تھیں
ایک صفت یہ تھی کہ ہمیشہ بے چین رہتے تھے اور مسلسل علم کی تلاش میں کوشش کرتے تھے اور معمول سے زیادہ پڑھتے تھے
قبلہ صاحب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عربی زبان میں کاملا تبحر رکھتے تھے اس حوالے سے ایک واقعہ سننے کو ملتا ہے کہ لاہور مدرسہ امام المنتظر میں احتمالا محسن ملت مرحوم کی چہلم کی مجلس تھی تو اس مجلس میں طاہر القادری قادری صاحب تشریف لائے اور انہوں نے عربی فصیح میں تعزیت نامہ پیش کیا اور کچھ کلامی شبہات کو پیش کردیا اگرچہ یہ کام اس محفل کے ساتھ روا نہیں تھا لیکن اب مکتب کے مفاد کا مسئلہ تھا تو لہذا ان کو اردو میں جواب دینا مناسب نہیں تھا تو قبلہ صاحب اٹھے اور انہیں فصیح زبان میں جواب دیئے
قبلہ صاحب ایک اجتماعی شخصیت تھے انہوں نے تحریک کے تمام قائدین کے ساتھ کام کیا مرحوم دہلوی صاحب مفتی جعفر حسین شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے ساتھ اور موجودہ قائد کے ساتھ کام کیا
قبلہ صاحب نے خود کو اخلاقی طور پر مزین کیا ہوا تھا اور جو بھی ان سے ملنے جاتا تو اس کا کھڑے ہوکر استقبال کرتے اور یہ نہ دیکھتے کہ وہ کیسا شخص ہے مومن اور سادات کا حد درجہ احترام کے قائل تھے اور اس قدر بلند شخصیت رکھتے تھے کہ ان کے اساتید مثلا استاذ العلماء قبلہ یار شاہ مرحوم بھی ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے تو ایک بار انہوں نے اپنے استاد کو کہا کہ آپ ایسا نہ کیا کریں تو وہ فرماتے تھے کہ ہم تیرے اندر موجود علم کی وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں
قبلہ صاحب ہمیشہ وضو کی حالت میں رہتے تھے بس علم کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ پروردگار کی توفیقات سے حاصل ہوتا ہے
قبلہ صاحب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حد درجہ صابر تھے ایک بار حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر لاہور میں میٹنگ تھی تو میٹنگ سے کچھ دیر پہلے انہیں بھائی کے انتقال کی خبر آگئی اب بھائی کے آخری رسومات پر جانا بھی ضروری تھا اور میٹنگ کو چھوڑ کر جانا بھی مشکل تھا وہاں موجود علماء قبلہ صاحب کو روک بھی نہیں سکتے دوسری طرف دیکھ رہے تھے کہ قبلہ صاحب کی رائے اس میٹنگ میں بہت اہم ہے تو قبلہ صاحب نے کہا میرے ذاتی مسائل پر قوم کے مفاد کو قربان نہیں کیا جا سکتا لہذا اس میٹنگ میں شریک ہوئے اور میٹنگ سے کچھ دیر پہلے کمرے میں وسائل الشیعہ کتاب کا ترجمہ بھی کررہے تھے اور مسلسل گریہ بھی کررہے تھے یعنی اس غم میں بھی دین کی ترویج کو نہیں روکا یہی وہ نکات ہیں جن سے ہمیں درس لینے کی ضرورت ہے دعا ہے کہ خداوند متعال ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین












