2

انبیاء کرام کی قربانی انسانیت کے لئے روشن مثال اور مسلمین کے لئے اطاعت و ایثار کا ایک حسین نمونہ ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

  • News cod : 56091
  • 16 ژوئن 2024 - 13:56
انبیاء کرام کی قربانی انسانیت کے لئے روشن مثال اور مسلمین کے لئے اطاعت و ایثار کا ایک حسین نمونہ ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاءکرام‘ ائمہ معصومین ؑ‘شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے

علامہ ساجد نقوی
حوزہ / قائد ملت جعفریہ پاکستان نے عید الاضحی کے موقع پر جاری ایک پیغام میں اسلامیان عالم اور اہل وطن کو تبریک پیش کی ہے۔

وفاق ٹائمز، قائد ملت جعفریہ پاکستان نے عید الاضحی کے موقع پر اسلامیان عالم اور اہل وطن کو تبریک پیش کرتے ہوئے کہا ہے عید الاضحی کا بنیادی فلسفہ ہی قربانی، ایثار، خلوص اور راہ خدا میں اپنی عزیز ترین چیز نچھاور کردینا ہے۔

یہ بات ہمارے مدنظر رہنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل ؑ نے اطاعت خداوندی میں حکم خدا اور رضائے خدا کو انجام دیتے ہوئے قربانی پر آمادہ ہوئے ۔اس کے پس پشت میں ان کے ذاتی مفادات یا خواہشات نہیں تھے، نہ ہی وہ کسی نمود و نمائش کے لئے خود کو قربان کررہے تھے۔ بلکہ ان کا مطمع نظر صرف اور صرف خوشنودی خدا کا حصول تھا۔ چونکہ یہ عمل خدا کے احکام اور اس کی منشا کے مطابق انجام پایا اس لئے اس کا ہدف اور نتیجہ دونوں اعلی و ارفع ٹھہرے۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہا: انبیاءکرام کی یہ قربانی انسانیت کے لئے روشن مثال اور مسلمین کے لئے اطاعت و ایثار کا ایک حسین نمونہ ہے لیکن اس قربانی کے اہداف کا شعور رکھ کر اس پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ سنت ابراہیمی و اسماعیلی کو پورا کرنے کے لئے اپنے مفادات‘ ذاتی خواہشات‘ غلطیوں ‘ کوتاہیوں اور خطاؤں کی قربانی بھی ضروری ہے کیونکہ بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے یہ کہ خدا کے حضور ہمارے قربان کردہ جانور کا گوشت پوست اور خون نہیں پہنچتا بلکہ ہمارا ہدف‘ ہماری نیت‘ ہمارا ایثار‘ ہمارا خلوص اور ہمارا جذبہ پیش ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں اس جانب اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کہ ہم کتنے اخلاص اور ایثار کے ساتھ یہ قربانی پیش کررہے ہیں واضح رہے کہ بے سہارا لوگوں کا سہارا بننا بہت بڑی قربانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر قربانی کے پس منظر میں اس زمانے کے حالات کے پیش نظر تمام انسانوں کے لئے مختلف اسباق مضمر ہوتے ہیں حالانکہ یہ اسباق واضح ہوتے ہیں لیکن عام لوگ ان اسباق کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ یہی معاملہ قربانی اسماعیل جیسے واقعات کے ساتھ ہوا اور ہورہا ہے بالخصوص مسلم معاشروں کا المیہ یہی رہا ہے کہ وہ فروعی معاملات اور رسوم و رواج اور سطحی نوعیت کے اقدامات کو اہمیت دیتے رہے ہیں لیکن قربانیوں کے مقاصد اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاءکرام‘ ائمہ معصومین ؑ‘شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل‘ بحرانوں‘ چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=56091

ٹیگز