وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حرم مطہر امام معصومہ قم(س) کے خطیب حجت الاسلام والمسلمین سعیدی آریا نے اس حدیثِ نبوی؛ «عاشر النّاس ما من علم الاّ علّمنیه ربّی و انا علّمته علیّاً و قد أحصاه اللّه فیّ و کلّ علم علمت فقد أحصیته فی إِمام المتّقین و ما من علم الاّ علّمته علیّاً»، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولٰی الموحدین امام علی علیہ السلام کے علم کے مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کروائی اور اس بات پر زور دیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو علم عطا کیا گیا تھا وہ تمام الہامی علم امام علی علیہ السلام کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ مزید فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کا شہر ہیں اور علی علیہ السلام اسکا دروازہ ہیں۔
انہون نے پیغمبر اکرم(ص) اور امام علی(ع) کا اس زمانے کے لوگوں کہ ساتھ نرمی کہ باوجود ہدایت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کہ متعلق نکتے کہ حوالے سے کہا کہ اگر انسان کا دل گناہوں سے داغدار ہو اور حق کہ راستے سے انحرافات میں گرفتار ہو جائے تو قرآنی آیت اور احادیث اس پر مزید اثر نہیں کرتی۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 6 کے مطابق اگر کسی کہ دل پہ پردہ پڑ جاے تو پھر اس پہ کو دینی تنبیہات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔












