19

عاشورا کی تحریک سے متعلق شکوک و شبہات کا آیت اللہ صافی گلپائیگانی کا دلیرانہ جواب

  • News cod : 56544
  • 06 جولای 2024 - 16:21
عاشورا کی تحریک سے متعلق شکوک و شبہات کا آیت اللہ صافی گلپائیگانی کا دلیرانہ جواب
آیت اللہ صافی گلپائیگانی کے فرزند حسن صافی گلپائیگانی نے کہا ہے کہ: آیت اللہ صافی گلپائیگانی نے امام حسین علیہ السلام کی محبت میں استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ شکوک و شبہات کہ حملوں پہ اپنے جوابات کی طاقت سے قابو پایا۔ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی ایک ایسی شخصیت تھے جو 94 سال کی عمر میں بھی شبہات سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے رہے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ کہ استاد حجۃ الاسلام والمسلمین حسن صافی گلپائیگانی نے تیر ماہ کی 13 تاریخ کو سمر کنوینشن جو کہ “عاشورہ اور امام کی معرفت کا مسئلہ”

کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا، تاریخی علمی کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس دوران واقعہ عاشورا سید الشہداء (ع) کی آگاہی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بیان کیا کہ؛
ابا عبداللہ الحسین (ع) کی عزاداری ہر سال زیادہ شاندار طریقے سے منعقد کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اربعین حسینی کے جذبے میں حیرت انگیز اضافہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مومنین کے دلوں میں مکتب حسینی کا مضبوط مقام ہے۔
انہوں نے امام کہ علم و معرفت کے عنوان کو ادارہ امامت کے لیے ضروری شرائط میں شمار کیا ہے۔
اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ معاشرے کے رہبر اور امام کے پاس علم و دانش ہونا ضروری ہے، یہ فرمایا کہ اس بحث کہ کئی نقطہ نظر سے جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے؛
خدا کے خلیفہ اور حکم خداوندی کے نگران کے طور پر امام کی معرفت کی ضرورت میں سے ایک ضرورت یہ ہے کہ امام کی معرفت کا مقام علم و رہنمائی سے آراستہ ہو۔
حسن گلپائیگانی نے امام کے علم کی نوعیت کو پہچاننے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بیان کیا کہ امام تقلید نہیں کرتے اور اس کا علم حاصل نہیں کیا جاتا، انہوں نے کہا امام کے علمِ غیب کی بحث ایک اہم الہیاتی موضوعات میں سے ایک ہے جس کا علما نے علم حاصل کیا ہے اور دینیات میں بھی مضبوط شواہد کے ساتھ اس موضوع پہ توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے امام علیہ السلام کے علم سے متعلق بعض شکوک و شبہات کی طرف اشارہ کیا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں علم کی بحث کو ان بحثوں کا ایک اہم محور قرار دیا اور کہا کہ بدقسمتی سے تاریخ کے ایک خاص موڑ پر بعض مدرسین نے مختلف لوگوں کے درمیان شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے اور آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی کی کتاب شھید آگاہ میں ان بحثوں کا واضح جواب موجود ہے۔
انہوں نے شکوک و شبہات کے جواب میں کتاب شہید آگاہ کے آغاز میں تاریخی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور فراہم کردہ جوابات کے طریقہ کار کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا: آیت اللہ صافی گلپائیگانی نے کتاب کے تعارف میں امام کی بغاوت کو علمی اور تاریخی مسئلہ کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔ کتاب شہید آغاز
صافی گلپائیگانی نے امام کے علم غیب کی بحث کو اہم مذہبی اور مذہبی موضوعات میں سے ایک اور ملت تشیع کے عقائد میں موثر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام کے دشمن اس مسئلہ سے بخوبی واقف ہیں کہ شیعوں کی طاقت اور کامیابی کا موضوع عاشورا کی طرف جاتا ہے اور اگر عاشورہ کو شیعوں سے لیا جائے تو وہ تزلزل کا شکار ہو جائیں گے۔
اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ آج کہ جوان بالخصوص نوجوان طلباء کو ان باتوں کو اچھی طرح جاننا اور ان کے واضح اور قطعی جواب دینا واجب ہے،
اور یہ یاد دہانی بھی کروائی کہ تاریخ کے ایک دور میں سرزمین اسلامی ایران میں ماحول ایسا تھا کہ کچھ لوگ شیعہ مبلغین اور مصنفین نے امامت سے متعلق شکوک و شبہات کا جواب دینے کی جرأت نہیں پیدا کی۔ جو لوگ شکوک و شبہات کا جواب دینے کے لیے اس مہم میں شامل ہوئے ان پہ بہتان تراشی کی گئی، ان کی توہین اور تذلیل کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی نے امام حسین علیہ السلام کے لیے جس ہمت، محبت اور ثابت قدمی کے ساتھ شکوک و شبہات کا جواب دینے کے لیے ان حملوں سے گزرے ہیں یہ ہمارے اطراف میں شبہات کے جواب میں ایک قابل قدر تحریر ہے۔
حوزہ علمیہ کہ استاد نے واقعہ کربلا کے حوالے سے سید الشہداء (ع) کے خطبے کے اقتباسات اور زیارت عاشورا کہ کچھ حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام علیہ السلام کربلا کے راستے کی ہر منزل پہ جو راستہ خدا نے ان کے لیے مقرر کیا ہے اس سے متعلق گفتگو کرتے رہے۔
علماء کی عملی اخلاقیات کو مزید سمجھتے ہؤے اور الہی تعلیمات کے راستے پر چلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک طالب علم کو اپنے زندگی کہ تمام اعمال کو الھی راستے کہ قوانین کہ مطابق ڈھالنا چاہیے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=56544

ٹیگز