وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ماہ محرم 1446 کی آمد کے موقع پر حوزہ علمیہ قم کے مدرسین کے بیانیہ کا متن مندرجہ ذیل ہے؛
بسم الله الرحمن الرحیم
ہم ماہ محرم اور اس میدان کے تبلیغی سفر کے آغاز اور حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری کہ اجتماعات کے انعقاد کے موقع پر ہیں۔
ان شاءاللہ مبلغین دین اور عوام کہ خادمین پر امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا خصوصی لطف و کرم ہوگا۔
اور امام عج کی دعاؤں سے اہل ایمان کی روح اور روشن دلوں کو حسینی تعلیمات سے مستفید کریں گے۔
دین کی تبلیغ اور لوگوں کے ایمان کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ایک سنجیدہ اور محنت طلب کام ہے جسے معاشرے میں سائنسی تسلسل کے ساتھ فروغ دیا جانا چاہیے ورنہ تبلیغی تقاضوں کو نظر انداز کرنے سے قرآنی و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو بیان کرنے کے منفرد موقع سے محروم ہو جائیں گے اور اس سلسلے میں ہجرت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اور دین کے اعلیٰ اہداف کی تبلیغ کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم کے مدرسین نے چند نکات کو بیان کیا ہے۔
1.اگرچہ آج تبلیغ کہ طریقے ماضی سے متنوع اور مختلف ہیں، اور ماس کمیونیکیشن ٹولز اور میڈیا مواد علم کی منتقلی کا ایک بڑا حصہ انجام دیتے ہیں لیکن صرف اس پر مطمئن ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ منبر اور آمنے سامنے بیٹھ کہ تبلیغ اب بھی تصورات اور علم کی منتقلی میں مؤثر صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس لیے نئی ٹیکنالوجی اور اس کے وسیع مواقع کے استعمال کے ساتھ ساتھ دین کی تبلیغ کے میدان میں سنجیدگی سے عمل کرنا اور ملک کے کونے کونے تک سفر کرنا اور حسینی مجالس کا انعقاد کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی علاقہ یا گائوں خالی نہ رہ جائے جہاں مبلغ موجود نہ ہو۔
اس لیے تبلیغی و ثقافتی تنظیموں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر مبلغین کو ثقافتی مواد سے آراستہ کر کہ ملک کے مختلف علاقوں میں انکو زیادہ جامع انداز میں متعارف کرانے اور بھیجنے کے ذرائع فراہم کریں۔
2۔تبلیغی مواد کو منتخب کرتے وقت، مقام اور سامعین کے عناصر کو مدنظر رکھیں اور اسلام کی مختلف جہتوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں، جن میں ضرورت مندوں کی طرف توجہ، جہاد اور استکبار کے خلاف جنگ، اور عدل و انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہونا شامل ہیں۔ لوگوں کی زندگی اور مذہب کو صرف ذاتی اور انفرادی مسئلہ کی بنیاد پر مت اٹھائیں؛ بلکہ لوگوں کے ثقافتی، معاشی، سیاسی اور سماجی کاموں کو منظم کرنے کے لیے مذہبی قوانین کی وضاحت کی جائے تاکہ یہ تعلیمات لوگوں کے طرزِ زندگی میں بھی غالب آ جائیں۔
3۔کربلا اور حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی خونی بغاوت کے متلعق بحث ہمارے معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ سید الشھداء نجات کا مینار اور ہدایت کا چراغ ہیں اس لیے انسانیت کو بچانے کے لیے حسینی تعلیمات کو ہر سطح پر اور عالمی جہت پر فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں کربلا اور حسینی تحریک سے اخلاص، اخلاق و روحانیت، سیاسی اخلاقیات اور سیاسی تجزیہ سیکھنا چاہیے۔ دلوں کو زنگ سے پاک کرنے والے آنسوؤں اور عاشورا کہ غم کے ساتھ ساتھ ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہونا سیکھیں کیونکہ یہ سید الشہداء علیہ السلام کی قربانی اور محرم و صفر ہی ہے جس نے تا ابد ہمارے لیے اسلام کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
4۔تعلیماتِ اہل بیت علیہم السّلام کی تبلیغ میں بزرگانِ دین کے طریقے پر توجہ دینا، رہبر معظم انقلاب اسلامی اور تقلید کے عظیم احکام کی وصیتوں پر عمل کرنا، اور عزاداری کے احکام کی پابندی کرنے کہ ساتھ اہل بیت(ع) کی مجالس میں شرکت کرنے سے ہمیں عبادت الہی کی طرف جھکاؤ میں مدد ملے گی اور ان مجالس کی برکات میں بھی اضافہ ہوگا۔
امید ہے کہ ہم سب انشاء اللہ دین کی مضبوطی، اسے واضح کرنے اور اس کی ترویج و اشاعت کی سمت میں خلوص اور ایمانداری سے آگے بڑھیں گے اور ظالموں کے خلاف لڑنے، مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف لڑنے کے کہ ساتھ ساتھ عاشوراء کی تعلیمات اور اسکے اسباق کو دنیا میں پھیلاتے ہوئے اسکی منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔
و السلام علیکم و رحمت الله
سید ہاشم حسینی بوشہری












