وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حجۃ الاسلام والمسلمین محمد سعیدی آریا نے جمعہ کی رات حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ایک ایسا عمل بتائیں کہ جس کے کرنے سے خدا مجھ سے محبت کرے خدا کی مخلوق بھی مجھ سے محبت کرے۔ میرے مال میں اضافہ ہو خدا مجھے صحت و تندرستی عطا کرے، میری عمر دراز ہو اور خدا مجھے اپنے قریب بھی کرے، اس کے جواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھ صفات ہیں جو خود آگے چھ اعمال پہ منحصر ہیں۔
انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم سے محبت کرے تو تمہیں تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ شیطان ہمیں غربت کے وعدے کے ساتھ گناہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن اگر کسی کے دل میں خوف خدا ہوگا تو اس کے دل میں ایسی ہمت آجائے گی کہ جس کا کوئی حریف نہیں ہوگا۔
اگر ہم خدا کو اپنا سہارا سمجھیں تو ہم کسی چیز سے نہیں ڈریں گے۔ ہم میں سے کچھ زبانی طور پر کہتے ہیں کہ ہم خدا سے ڈرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم نہیں مانتے، اس لیے ہم خدا کے بندوں سے اور اپنے مستقبل سے ڈرتے ہیں۔
انہوں نے بیان کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کے بندے تم سے محبت کریں تو ان کے ساتھ بھلائی کرو اور مزید کہا کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے مختصر الفاظ میں فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک رکھو کہ وہ تم سے ملنے کہ مشتاق ہوں۔ اور جب تم مر جاؤ تو وہ تمہارے لیے گریہ کریں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سعیدی آریا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت کو بیان کرتے ہؤے دولت کے بڑھنے کو مال کی کھیتی پر منحصر قرار دیا اور مزید کہا کہ مال کی کھیتی کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم مال کمائیں تو اس میں حلال و حرام کی پابندی کریں۔ حرام کی طرف مت جائیں اور اس کے بعد جو مال ہم نے حلال طریقے سے حاصل کیا ہے اسے شرعی حساب اور رقوم کے مطابق اپنے مال کا خمس اور زکوٰۃ ادا کریں۔
انہوں نے جسم کی تندرستی اور تندرستی کا دارومدار کثیر تعداد میں صدقہ دینے پر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ استغفار کرنا اور خیرات کرنا ایسے دو بازو ہیں جو انسان کے مال اور جسم کو بہت زیادہ صحت بخشتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ بہت زیادہ صدقہ کرو تو اس سے مراد صدقہ کی مقدار اور آپ جتنی بار صدقہ دیتے ہیں، دونوں کہ متعلق ہے، اور جب ہم صدقہ دینا جاری رکھیں گے تو ہمارے بچے بھی ہم سے سیکھیں گے۔
حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے مقرر نے اپنے خطاب میں مزید روایت کے تسلسل میں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تمہاری عمر دراز کرے تو تم صلہ رحم کرو۔ لیکن ہم اس کے برعکس عمل کرتے ہیں اور
اپنی پریشانیوں کا بہانہ بناتے ہیں۔ ہم اسکو والدین اور رشتہ داروں سے نہ ملنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ صلہ رحم تو پریشانیوں کو دور کرتا ہے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ ہم اپنی محافل اس طرح پلان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ہماری محفلوں میں شرکت ہی نہیں کر سکتے، انہوں نے مزید کہا کہ “ماضی میں، ہمارے دسترخوانوں پر اور محفلوں میں اتنی آسائشیں نہیں ہوتی تھیں، اس لیے آنے جانے میں کثرت ہوتی تھی، لیکن اب ایسا ہو گیا ہے کہ ان عیش و عشرت کی وجہ سے ذہنی سکون کم ہو جاتا ہے اور لوگ اس وجہ سے ایک دوسرے کی محفلوں میں شریک نہیں ہوتے کہ خود انکی آپکی حثیت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ بدلے میں ایسے دسترخوان لگا سکیں۔
عیاشیوں نےصلہ رحم کی تعداد کم کردی ہے، حجتہ الاسلام سعیدی آریا
حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے مقرر نے کہا ہے کہ ماضی میں ہمارے دسترخوان اور محفلوں پر اتنی عیش و عشرت کی چیزیں نہیں ہوتی تھیں، اس لیے بہت زیادہ تشریف آوری ہوتی تھی، لیکن اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ یہ عیش و عشرت بد سکونی کا سبب بن گئی ہے۔ صلہ رحمی کم ہو رہی ہے، کیونکہ شخص خود اس قابل نہیں ہے کہ وہ کھانے کا دسترخوان لگا سکے اس لیے وہ پھر باقی محفلوں میں بھی نہیں جاتا۔
مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=56857












