وفاق ٹائمز، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے موجودہ محرم الحرام 1446ھ میں حائل مسائل پر تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ حکومت پنجاب ہوش کے ناخن لے، پاکستان ہمارا ملک ہے، اس کا آئین و دستور ہم کو مکمل آزادی کے ساتھ یہ حق دیتا ہے کہ ہم اپنے مذہبی عبادات، رسومات اور تہوار کو آئین اور قانون کے حدود میں رہ کر انجام دیں، عشرہ محرم الحرام 1446ھ کی ابتداء میں پنجاب حکومت کے اہم وفد کے ساتھ ہماری ملاقات کروائی گئی اور وہاں پر وعدہ کیا گیا کہ اس سال وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات پر بہترین اقدامات انجام پائیں گے اور تاریخی طور پر انتظامات کئے جائیں گے، ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن افسوس ہے کہ کئی مقامات پر نیاز دینے والوں اور سبیل لگانے والوں کو روکا گیا، ایک بڑی تعداد بانیان مجالس اور علماء و ذاکرین کو بھی روکا گیا، سرکاری اہکاروں کے ذریعے ان کو گرفتار کروایا گیا اور ایف آئی آرز کاٹی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیخوپورہ کے علاقے بھکی میں جلوس عزا پر فائرنگ ہوئی اور دو عزادارن سید الشہداء شہید ہوئے، یہ پاکستان ہے یا کوئی اور جگہ، ان واقعات کے بعد حکومت نے فوری ریسپانس دیا مگر اس کے بعد کوئی عملی اقدام نہیں ہوا کیوں؟ بھکی میں حالات اب بھی خراب کئے جا رہے ہیں اور اس کی ذمہ دار حکومت پنجاب ہے، دو جانیں چلی گئیں، آرمی چیف نے کہا تھا ایک پاکستانی کی جان ہماری جان ہے اور یہاں پر دو جانیں چلی گئی وہ بھی عزادری امام حسینؑ میں، اور ایک نام نہاد امن کمیٹی کو لایا گیا اور کہا گیا کہ یہ تو ہمارے شہید ہیں، اس کیس کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔












