رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے زیارت عاشورا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حسینی اور یزیدی معرکہ مختلف طریقوں سے مسلسل جاری رہے گا۔ آپ نے قیام حضرت امام حسین (ع) کا مقصد ظلم و جور کا مقابلہ کرنا قرار دیا اور فرمایا کہ حالات کے مطابق مختلف طریقوں سے ظلم و جور کے خلاف حسینی محاذ جاری رہے گا اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ تلوار اور نیزے کی جنگ الگ قسم کی ہے، ایٹمی جنگ الگ اور مصنوعی ذہانت کی جنگ الگ، تشہیرات کے دور میں شعر و قصیدہ خوانی کا طریقہ رہا اور حدیث کا طریقہ اپنا الگ ہے اور اب انٹرنیٹ کے دور میں بھی الگ طریقہ اختیار کیا جانا ضروری ہے۔
آپ نے فرمایا کہ یزیدی محاذ سے حسینی محاذ کا مقابلہ صحیح سوچ اور صحیح بات کرنے سے ہے اور شناسائی اور فریضے کی شناخت اور صحیح قدم اٹھانے کے ساتھ ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ بروقت اقدام کبھی تعلیمی مرکز میں معنی خیز ہوتا ہے کبھی سیاسی و سماجی ماحول میں ضروری ہوتا ہے اور کبھی یہ اقدام راہ کربلا و فلسطین اور اعلی مقاصد کے لئے ضروری ہے۔












