وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے سربراہ آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے قرآنی مجالس میں ماہرین اور صاحب نظر افراد کے استعمال کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ معاشرے میں قرآن کی تلاوت اور حفظ کا رواج ہے، لیکن تلاوت اور حفظ کے بعد قرآن پر تدبر کرنا ضروری ہے تاکہ قرآن افراد کی زندگی میں داخل ہو جائے اور ایک طرز زندگی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے قرآن کی مہجوریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سالوں گزر جانے کے باوجود، قرآن آج بھی اپنی حقیقی جگہ تک نہیں پہنچ سکا ہے اور یہ قرآن کا مہجور ہونا ہے۔ اگرچہ معاشرے میں قرآن کی تلاوت اور حفظ کا رواج ہے، لیکن اس کے بعد تدبر کرنا اور اسے لوگوں کی زندگیوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔
مجلس خبرگان رهبری کے نائب سربراہ نے گھر میں قرآن کی تلاوت کے آثار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روایات میں آیا ہے کہ جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے، وہ آسمانیوں کے لیے درخشاں ہوتا ہے، جیسے زمین والوں کے لیے ستاروں کی درخشندگی۔ یہ گھر میں قرآن کی تلاوت کے فوائد میں سے ایک ہے، جس پر توجہ دینا چاہیے۔
انہوں نے قرآن کی ہدایتگری کے کردار کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ تلاوت جو تدبر کے ساتھ ہو، اس کے دیگر آثار بھی ہیں، جیسے دلوں کے لیے موعظت اور گناہوں کی زنگ کو صاف کرنے کے لیے شفا بخش ہے۔












