4

کانفرس حوزہ پیشرو و سرآمد میں مفسر بزرگ حضرت آیت اللہ شیخ عبداللہ جوادی آملی حفظہ اللہ کے عالیشان خطاب

  • News cod : 62914
  • 06 نوامبر 2025 - 20:09
کانفرس حوزہ پیشرو و سرآمد میں مفسر بزرگ حضرت آیت اللہ شیخ عبداللہ جوادی آملی حفظہ اللہ کے عالیشان خطاب
 حوزہ علمیہ کی ذمہ داری صرف تعلیم دینا یا جہالت کو دور کرنا نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر جاہلیت کے خلاف مبارزہ کرنا ہے۔نظامِ" امامت و امت" میں محض علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ جاہلیت کی جڑوں کو پہچان کر انہیں ختم کیا جائے

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کا خطبہ فدکیہ اسی بیداری کی ایک مثال ہے۔ کیونکہ جب کوئی شخص امامت کے مقابل کھڑا ہوتا ہے تو یہ صرف جہالت نہیں بلکہ جاہلیت ہے۔

حوزہ علمیہ اور یونیورسٹیاں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ فکری، اخلاقی اور اجتماعی سطح پر موجود ہر شکل کی جاہلیت کے خلاف جدوجہد کریں۔ نظامِ “امامت و امت” میں معصیت اور انحراف محض خطا نہیں بلکہ جاہلیت کی طرف واپسی ہے۔

عالمِ دین کو اپنے زمانے کی جاہلیت کو پہچاننا اور اس کے ازالے کے لیے قیام کرنا چاہیے۔

جہل اور جاہلیت میں فرق ہے۔ اگر کسی نظام میں گناہ، بدعنوانی، مال اندوزی اور ناانصافی پیدا ہو جائے تو لوگ اس نظام پر سے اعتماد کھو دیتے ہیں۔ اور وہ نظام بے سہارا ہو جاتا ہے۔

یہ صرف جہالت نہیں بلکہ جاہلیت ہے۔

جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا نظام، نظامِ امامت و امت کہلائے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ جاہلیت صرف علمی نادانی نہیں بلکہ ایک سماجی اور فکری انحراف ہے۔

مسجد، حوزہ علمیہ ، یونیورسٹی اور امام بارگاہیں سب کا مشترکہ مقصد جاہلیت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

کیونکہ جاهلیت نظامِ “امامت و امت “کے منافی ہے۔

مرحوم کلینی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب “الکافی” کی مقدمہ میں کہا ہے کہ ایک ملت کا اصل محور عقل ہے۔ اگر حوزہ علمیہ امامت کے راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اسے عقلانیت کو فروغ دینا ہوگا۔

اور فقہ و اصول کے ساتھ ساتھ منطق اور فلسفے کی مضبوط بنیادیں رکھنی ہوں گی تاکہ وہ معاشرے کی فکری ضروریات کو پورا کر سکے۔

فقہ کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو امامت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔

اگر بعض فقہی مسائل آج کے معاشرے کی ضروریات کو پورا نہیں کر پا رہے تو انہیں دقیق اجتھاد اور ٹھوس استنباط کے ذریعے درست کیا جانا چاہیے۔

فقہ اور اصول کو مضبوط منطق اور گہری بصیرت کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے۔

جس کے اندر استعداد ہے وہ علم، عقل اور ایمان کے راستے پر سنجیدگی سے گامزن ہو۔ حوزہ علمیہ کو چاہیے کہ وہ باشعور، خردمند اور شجاع علماء تیار کرے جو نئی جاهلیتوں کے مقابلے میں نظامِ “امامت و امت” کا دفاع کر سکیں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=62914