مدرسہ بنت الہدیٰ (رجسٹرڈ) ہریانہ ہندوستان کے زیرِ اہتمام تین روزہ ایامِ فاطمیہ کی روحانی و بابرکت مجالس نہایت شایانِ شان، باوقار اور منظم انداز میں مختلف مقامات پر منعقد ہوئیں؛ جن مؤمنات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے سیدۂ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت، فضائل و مناقب اور شہادت کی یاد کو عقیدت و احترام کے ساتھ تازہ کیا۔
مدرسہ بنت الہدیٰ ہریانہ ہند میں تین روزہ مجالسِ فاطمیہ کا انعقاد: سیدۂ کائناتؑ کے فضائل کو سمجھنے کے لیے صرف علم نہیں، بلکہ پاکیزہ دل اور بیدار روح ضروری ہے، خطباء
ان مجالسِ عزاء کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔
مجالسِ فاطمیہ سے بالترتیب خواہر سیدہ جانشین فاطمہ، خواہر سیدہ ثانیہ بتول، خواہر سیدہ کساء بتول اور خواہر سیدہ آفریدہ بتول سمیت دیگر خواہران نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ سیدۂ کائناتؑ کے فضائل کو سمجھنے کے لیے صرف علم نہیں، بلکہ پاکیزہ دل اور بیدار روح ضروری ہے؛ فاطمہؑ وہ حقیقت ہیں جن کی معرفت انسان کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
معلمات کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمہؑ کی معرفت، رسالت کے قلب تک رسائی کا نام ہے؛ جو جتنا فاطمہؑ کے قریب ہوگا، وہ حقیقتِ دین کے اتنا ہی قریب ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کربلا کی ہر دھڑکن میں سیدہؑ کے غم کی بازگشت سنائی دیتی ہے؛ فاطمہؑ کی مظلومیت کو سمجھے بغیر کربلا کی روح تک رسائی ممکن نہیں۔
خطباء نے کہا کہ سیدہؑ کا دفاعِ ولایت یہ پیغام ہے کہ دین کی بقا اسی ولایت میں ہے جو آغوشِ فاطمہؑ میں پروان چڑھی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ایامِ فاطمیہ ہمیں اپنے کردار، فکر اور سماجی ذمہ داریوں کو سیدہؑ کی تعلیمات کی روشنی میں نئے سرے سے پرکھنے کا درس دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیدہؑ کی شہادت کا المیہ تاریخ کی وہ خاموشی ہے جس نے صداقت کے چہرے کو دھندلانے کی کوشش کی، مگر اہلِ ولایت آج بھی اس خاموشی کے خلاف صدائے حق بلند کرتے ہیں












