محقق محترم نے سب سے پہلے سلیم ابن قیس اور ان کی کتاب کا اجمالی تعارف پیش کیا اور اس کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کتاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ سلیم ابن قیس کی کتاب، جس کا اردو میں ترجمہ **”اسرار آل محمد”** کے عنوان سے ہوا ہے، عالمِ اسلام اور بالخصوص عالمِ تشیع کی قدیم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کتاب تاریخی اور حدیثی اعتبار سے عالمِ تشیع کی پہلی کتاب مانی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلیم ابن قیس کے متعلق شیعہ علم رجال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے اصحاب خاص میں سے تھے اور انہوں نے امام باقر علیہ السلام کے زمانے کو بھی درک کیا ہے، جیسا کہ ابو جعفر برقی نے اپنی کتاب “الطبقات” (رجال البرقی) میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
سب سے اہم نکتہ جو حجت الاسلام آقای فدا علی حلیمی نے بیان کیا، وہ یہ تھا کہ شیعہ علم رجال کے ماہرین نے سلیم ابن قیس کی کتاب کو معتبر قرار دیا ہے اور اس کی حجیت متعدد طرق سے ثابت ہے۔ البتہ اس کی روایات کو بھی دیگر معتبر کتابوں کی طرح پہلے کتابِ خدا اور قطعی سنت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
نشست کے اختتام پر ان مہمانانِ گرامی اور اساتذۂ محترم کو، جنہوں نے مسلسل تین علمی نشستوں میں شرکت کی تھی، گواہی نامے عطا کیے گئے۔
اس علمی نشست میں قم المقدسہ کی مختلف تنظیموں، مؤسسوں، مدارس اور جوامعِ روحانیت کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ طلباء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔
علمی نشست کا اختتام امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی دعا کے ساتھ ہوا۔
**معاونتِ پژوهش مدرسۃ الولایہ، شعبہ قم المقدسہ**












