بین الاقوامی ڈیسک: سعودی عرب اور یمن کے تعلقات دہائیوں سے کشیدہ اور پیچیدہ رہے ہیں۔ 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت نے انصاراللہ کے خلاف طویل اور خونی جنگ کو جنم دیا۔ موجودہ کشیدگی تاریخی اختلافات، سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت، توانائی کے راستوں پر کنٹرول کی خواہش اور غیر سرکاری مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث بڑھ رہی ہے۔ مختلف صوبوں میں تازہ کشیدگی ریاض کے مفادات کو مستحکم کرنے اور صنعا کے بڑھتے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جو پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
یمن اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ کشیدگی کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔ یمن میں ریاستی کمزوری اور شمالی سرحدوں پر غیر سرکاری مسلح گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ نے سعودی عرب کو طویل المدتی سکیورٹی خدشات میں مبتلا کر دیا۔ شمالی یمن کی جنگ کے بعد یہ تنازع صرف لڑائی کے میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ توانائی کے راستے، صحرائی علاقوں اور دفاعی اہم مقامات پر بھی کنٹرول کی جنگ میں بدل گیا۔
الجوف، الودیعة اور المہرہ میں موجودہ حالات اسی پرانے تنازع کا حصہ ہیں، جہاں سعودی فورسز کی نقل و حرکت، سلفی گروہوں کی سرگرمیاں اور سرحدی حقائق کو مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں پوشیدہ مذاکرات، سکیورٹی کے معاملات اور جغرافیائی سیاسی کشمکش کے پس منظر میں ہورہی ہیں۔ اسی لیے موجودہ کشیدگی صرف وقتی تشدد نہیں، بلکہ یمن اور سعودی عرب کے تعلقات میں دیرپا مسائل اور حل طلب اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔
خفیہ مذاکرات کے سائے میں بڑھتی کشیدگی
گزشتہ چند ماہ کے دوران، مسقط اور دوحہ میں جاری خفیہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ مشرقی یمن کی غیر مستحکم صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب نے الجوف کی سرحدی لائنوں اور المہرہ تک پھیلے صحرائی علاقے پر اپنی توجہ بڑھا دی ہے اور ایک نیا دفاعی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے؛ یہ حکمت عملی براہ راست 2020 کے تجربے سے متاثر ہے، جب الجوف کے بڑے حصے اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ میدان میں جھڑپوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق، سعودی حمایت یافتہ فورسز نے حالیہ ہفتوں میں توانائی کے مراکز کے قریب دوبارہ تعیناتی کے لئے نقل و حرکت کی، لیکن نجاتِ ملی حکومت کی فوجی یونٹوں نے کئی مقامات پر ان پیش قدمیوں کو روک دیا۔
دوسری جانب، الودیعہ میں تشکیل دی گئی سلفی یونٹوں کے بارے میں رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ فورسز سعودی عرب کی نئی حکمتِ عملی میں صحرائی راہداریوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے کلیدی کردار ادا کررہی ہیں۔ ایسے اقدامات ایک نازک تین سالہ جنگ بندی کے ماحول میں جاری ہیں، جس نے صنعاء کے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ ریاض زمینی سطح پر نئی حقیقتیں قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمال مشرقی یمن میں کشیدگی کا پرانا نمونہ دوبارہ فعال ہوگیا ہے اور حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
توانائی کے تحفظ کی جنگ
یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، خاص طور پر الجوف اور المہرہ میں، اور ریاض کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے ڈرون کے غیر معمولی استعمال نے امن مذاکرات کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ صنعاء کا موقف ہے کہ سعودی عرب اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے بجائے اسرائیل کی سلامتی اور بحیرۂ احمر کے استحکام کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صنعاء نے دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ تنازع محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ ریاض کی اس حکمت عملی سے جڑا ہے جس کے تحت وہ تیل کی پائپ لائن کو بحیرۂ عرب تک لے جانا چاہتا ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو۔
موجودہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ منفی صلح ٹوٹ چکی ہے۔ صنعاء اب اقتصادی محاصرے کو جنگ کے خطرے سے زیادہ نقصان دہ سمجھتا ہے۔ غزہ جنگ کے بعد یمن کے مسئلے کو اسرائیل کی سلامتی سے جوڑنا اور سعودی عرب کا جدید نیابتی جنگ کی طرف جانا، جس میں یمن کی مرکزی حکومت کے خلاف کرائے کے فوجیوں کو فضائی مدد فراہم کی جا رہی ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر کوئی جامع معاہدہ نہ ہوا جو صنعاء کے اقتصادی مفادات اور ریاض کے سکیورٹی خدشات دونوں کو حل کرے، تو بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع ہونا یقینی ہے۔
اسی دوران ریاض اور صنعاء کے درمیان سفارتی رابطے بھی بڑھ گئے ہیں، لیکن علاقائی سطح پر جیوپولیٹیکل عوامل نے معاملہ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انصاراللہ نے اسرائیلی اہداف پر سرحد پار حملے وقتی طور پر روک دیے، جسے امریکی ذرائع ایک غیر رسمی سمجھوتہ قرار دیتے ہیں۔ اس نے مسقط میں مذاکرات کے لئے موقع پیدا کیا، مگر صنعاء کی یہ شرط کہ کشیدگی میں کمی کو جنگ اور محاصرے کے خاتمے میں بدلا جائے، سیاسی بیانات کو مزید سخت بنا رہی ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب اور عرب امارات کی مشترکہ فوجی مشقیں اس بات کی نشانی ہیں کہ جنوبی جزیرۂ عرب میں سکیورٹی کے نئے فارمولے بنائے جارہے ہیں۔ یورپی سکیورٹی اداروں کی رپورٹس بھی اسی تجزیے کی تائید کرتی ہیں۔ ساتھ ہی امریکہ کی پالیسی کہ عراق اور لبنان میں غیر ریاستی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے اور انصاراللہ پر دباؤ بڑھایا جائے مقاومتی بلاک کو اس یقین تک لے آئی ہے کہ خطے میں ایک وسیع تر سکیورٹی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل جاری ہے۔
حاصل سخن
آخر میں کہا جاسکتا ہے کہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ بندی کے ٹوٹنے کا امکان اتفاقی نہیں بلکہ ریاض کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انسانی رنج و مصائب اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سعودی اقدامات نے پورے خطے کو دوبارہ خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ نازک جنگ بندی، جو ابتدا ہی سے انصاف کے بجائے طاقت کے توازن پر قائم تھی، اب جنوبی یمن کی مستعفی حکومت کی حمایت اور اقتصادی محاصرے کے تسلسل کے باعث مکمل طور پر ڈھے جانے کے قریب ہے۔
ایسی صورت حال کے وسیع اثرات ہوں گے جن میں سرحدی جھڑپوں کا دوبارہ آغاز، انسانی بحران کی شدت میں اضافہ، قحط اور لاکھوں یمنیوں کی بے دخلی، اور بحیرۂ احمر میں عدم استحکام شامل ہیں جس کے نتیجے میں عالمی معیشت شدید متاثر ہوگی۔ مزاحمتی قوتوں کے لیے یہ لمحہ خطرہ نہیں بلکہ یمن کے عوام کے ساتھ یکجہتی کو مضبوط کرنے کا موقع ہے، جہاں انصاراللہ کو دی جانے والی لاجسٹک اور سفارتی حمایت سعودی–امریکی اتحاد کے مقابلے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔
درست حکمت عملی یہی ہے کہ عالمی اداروں کے ذریعے انصاف کے مطالبے کو مضبوط کیا جائے، ثالثوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ سعودی عرب کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کریں، اور دفاعی منظرناموں کے لیے تیاری کی جائے تاکہ حقیقی استحکام ممکن ہو۔ جنگ بندی کی ناکامی خطے کی طاقتوں کے لیے ایک سخت انتباہ ہے کہ پائیدار امن صرف قبضے کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے












