آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کون ہیں؟
ترجمہ: سید احمد رضوی
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ حاج سید مجتبی خامنہ ای مد ظلہ العالی، رہبر معظم اور شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای قدس سرہ کے دوسرے فرزند ہیں،
جو 1969ء (1348 ہجری شمسی) میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مقدماتی حوزوی تعلیم مدرسہ مبارکہ آیت اللہ مجتہدی تہرانی میں حاصل کی اور دفاع مقدس (ایران عراق جنگ) کے دوران مجاہدین اسلام کے ساتھ محاذوں پر حاضر رہے۔ جنگ کے بعد 1989ء (1368 ہجری شمسی) میں قم مقدسہ تشریف لے گئے اور 1992ء (1371 ہجری شمسی) تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال تک تہران میں قیام کیا اور حوزوی تعلیم جاری رکھی۔
1997ء (1376 ہجری شمسی) میں شہیدہ زہرا حداد عادل سے شادی کی اور اسی سال اعلیٰ حوزوی تعلیم اور معنوی فیوض کے لیے دوبارہ قم ہجرت فرمائی۔
علمی مقام و اساتید:
انہوں نے سطح عالیہ کے دروس حضرات آیات: احمدی میانہ جی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر اساتید قم سے اخذ کیے۔
خارج فقہ و اصول کی تعلیم اپنے والد شہید آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے علاوہ حضرات آیات: شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتہدی تہرانی اور شیخ محمد مؤمن قمی سے حاصل کی۔
انہوں نے مسلسل 17 سال تک مختلف خارج فقہ و اصول کے دروس میں فعال شرکت کی۔ عربی میں علمی تقریرات پیش کرنا، اساتید سے باہر علمی نکات پر نقد و بحث، اور علمی آزادی نے انہیں علمائے کرام میں ممتاز مقام عطا کیا۔
علمی نوآوریاں اور مکتب فکری:
ذہانت، محنت، اور علمی دیانت نے انہیں فقہ، اصول، رجال جیسے علوم میں متعدد مستحکم نظریات ایجاد کرنے میں مدد دی۔ ان کا فکری نظام منظم اور مربوط ہے، اور وہ اسلامی علوم میں اپنے اصولوں پر کاربند ہیں۔ حکم شرعی کی حقیقت، احکام کے مراتب، ملاکات احکام، تعدد حکم، احادیث کی منتقلی معارف، اور کتب کے ارتقا جیسے موضوعات پر ان کی تحقیقات نے ایک جامع علمی مکتب تشکیل دیا ہے۔ شیخ انصاری، آخوند خراسانی، نائینی، عراقی، اصفہانی، بروجردی اور امام خمینی (رح) کے فقہی و اصولی مکاتب پر عبور نے ان کے نظریات کو مزید استحکام بخشا۔ ائمہ (ع) کے اصحاب کی آثار اور متقدمین امامیہ کی آراء خصوصاً “ارتکاز عصر معصوم” پر توجہ ان کے استنباطی عمل کا اہم حصہ ہے۔
تدریسی خدمات:
تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ تہران کے مدرسہ آیت اللہ مجتہدی میں مقدماتی دروس سے آغاز کیا، 1995ء (1374 ہجری شمسی) سے “معالم” پڑھانا شروع کیا۔ والد ماجد کی ہدایت پر شہید صدر کی “حلقات” کی تدریس شروع کی۔ 1997ء (1376 ہجری شمسی) میں قم منتقل ہونے کے بعد 1998ء (1377 ہجری شمسی) میں امام خمینی (رح) کے حرم میں “رسائل” و “مکاسب” کی تدریس کا آغاز کیا۔ بعد ازاں خصوصی طور پر خارج فقہ (نماز کے مسائل) کی تدریس شروع کی۔
2004ء (1383 ہجری شمسی) میں دوبارہ “حلقات” اور 2005-2006ء (1384-1385 ہجری شمسی) میں مدارس قم میں “مکاسب” جیسے سطوح عالیہ کے دروس دیے۔ 2007ء (1386 ہجری شمسی) میں ان کا درس مدرسہ فیضیہ منتقل ہوا اور 2008ء (1387 ہجری شمسی) میں دفتر قم میں خارج فقہ (نماز) کا خصوصی درس شروع ہوا۔ 2009ء (1388 ہجری شمسی) سے طلبہ کی درخواست پر دفتر قم میں خارج فقہ عام کا درس اور پھر 2010ء (1389 ہجری شمسی) سے خارج اصول کا درس باقاعدہ طور پر شروع ہوا جو “استصحاب” تک جاری رہا۔
ان کی تدریس کا انداز منظم، منطقی، اور قدیم و جدید آراء پر نقد پر مبنی ہوتا ہے۔ اخلاق و تواضع، شاگردوں کی تربیت، اور ان کے سوالات کے لیے خصوصی وقت دینا ان کے دروس کی خصوصیات ہیں۔
کووڈ-19 سے پہلے ان کے خارج درس میں 400 سے زائد طلبہ شریک ہوتے تھے۔ 2023ء (1402 ہجری شمسی) میں 1300 طلبہ نے اندراج کروایا، لیکن پہلے جلسے میں 700 طلبہ کی شرکت کے بعد انہوں نے اچانک درس بند کرنے کا اعلان کر دیا، جس پر قم کے 1000 اساتذہ و طلبہ نے رہبر معظم کو خط لکھ کر درس بحال کرنے کی درخواست کی، تاہم انہوں نے اسے اپنا ذاتی فیصلہ قرار دے کر درس دوبارہ شروع نہ کرنے پر اصرار کیا۔
تالیفات و علمی کارنامے:
تدریس سے قبل وہ اپنے علمی مباحث کو تحریر شکل دیتے اور بعد ازاں انہیں ترتیب دیتے ہیں۔ ان کی فقہی و اصولی تحقیقات کی متعدد جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ شاگردوں نے ان کی تقریرات کو شائع کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے اصرار پر فی الحال صرف خاص علما تک محدود ہیں۔ والد ماجد کی ہدایت پر “حاشیہ بر عروۃ الوثقی” پر کام شروع کیا ہے۔
علمی و انقلابی اداروں کی بنیاد:
حوزہ علمیہ قم میں فقاہت کو فروغ دینے کے لیے انہوں نے مختلف فکری مکاتب کے حامل انقلابی فقہی اداروں اور مراکز کی حمایت کی۔ نیز خود مستقل علمی و فقہی مدارس قائم کیے، جہاں علمی و سماجی دغدغوں کے ساتھ محرومین کی خدمت پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان مدارس سے مخلص، انقلابی، اور عوام سے جڑے ہوئے عناصر کی تربیت ہوئی ہے۔ ان کا خاص اصرار ہے کہ یہ ادارے کسی ایک شخصیت کے بجائے امام خمینی (رح) اور شہید آیت اللہ خامنہ ای کی فکری خط پر مرکوز رہیں۔
سیاسی و سماجی خدمات:
آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کا تعلق قم و مشہد کے مراجع و بزرگان سے وسیع ہے۔ والد ماجد کی قریبی معاونت میں کئی اہم امور حکمرانی میں ان کا کردار رہا ہے۔ اخلاق و عرفان کے بزرگان (آیات بہاء الدینی، بہجت، کشمیری، مجتہدی وغیرہ) سے ان کے گہرے تعلقات رہے ہیں۔
ملکی انتظامی امور پر گہری نظر، مختلف ادوار میں اعلیٰ حکام کے ساتھ روابط، اور متعدد کاموں کے جلسوں کی صدارت نے انہیں وسیع تجربہ فراہم کیا ہے۔ معاشی استحکام، بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام، ارزان، تیز، جدید اور بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ، زراعت و مویشی پالنے میں انقلاب، مصنوعی ذہانت، اور دانش بنیاد منصوبوں جیسے شعبوں میں ان کی گہری تحقیق اور حکمت عملی موجود ہے۔
مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں، خصوصاً شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید حاج قاسم سلیمانی سے ان کے مستقل روابط رہے ہیں۔
دشمنی اور تحفظ:
ان کی علمی، سیاسی اور انقلابی خدمات کے باعث امریکہ و صہیونی حکومت نے ان کے خلاف مسلسل دشمنی اور شخصیت کشی کی کوششیں کیں، حتیٰ کہ جسمانی ترور کی بھی سازشیں کی گئیں، لیکن امام زمانہ (عج) کے امداد سے یہ سب ناکام رہے۔
مصنفین:
· حجۃ الاسلام و المسلمین مقدمی شہیدانی (حوزہ کے اساتذہ میں سے اور شاگرد)
· حجۃ الاسلام و المسلمین علی کرم زادہ (حوزہ کے اساتذہ میں سے اور شاگرد)












