26

دین اسلام پیار محبت اور کردار سے پھیلا ، تبلیغ دین کے لئے مراسم پیدا کرنا ضروری ہے، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

  • News cod : 44000
  • 12 فوریه 2023 - 18:05
دین اسلام پیار محبت اور کردار سے پھیلا ، تبلیغ دین کے لئے مراسم پیدا کرنا ضروری ہے، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی
وفا ق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے پیغام ولایت و امامت کو دنیا تک پہنچانے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ دین اسلام پیار محبت اور کردار سے پھیلا ہے۔ منبر رسول کو تبلیغ دین کے لئے صحیح استفادہ کر نا چاہیے۔حیرت ہے کہ ہم نے توحید ، نبوت، امامت،نماز ، روزہ ، حج ، زکوة ، اور اخلاق کے لئے استعمال نہیں کیا۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وفا ق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے پیغام ولایت و امامت کو دنیا تک پہنچانے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ دین اسلام پیار محبت اور کردار سے پھیلا ہے۔ منبر رسول کو تبلیغ دین کے لئے صحیح استفادہ کر نا چاہیے۔حیرت ہے کہ ہم نے توحید ، نبوت، امامت،نماز ، روزہ ، حج ، زکوة ، اور اخلاق کے لئے استعمال نہیں کیا۔ مجلس میں ہم عام طور پر امیر المومنین علی ، امام حسین اور فاطمة الزہرا علیہم السلام کا ذکر بھی ہو جاتا ہے لیکن باقی آئمہ کی سیرت طیبہ کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر ہم اس منبر کو صحیح استعمال کرتے ، اور عام لوگوں تک پیغام امامت صحیح انداز سے پہنچاتے تو وہ بھی اہل بیت ؑکے پیروکار ہو جاتے۔کچھ لوگوں نے اہل بیت کے مقابلے میں اپنے امام بنا لئے اور ان کے فتووں کے مطابق عمل کرتے ہیں ، حالانکہ فقہ حنفی کے بانی امام ابوحنیفہ، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے۔

علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ہم مکتب اہل بیت کو ماننے والے اللہ ، رسول اور امام کو اولواالامر مانتے ہیں اورنبوت، رسالت، خلافت ، امامت اور ولایت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ اس لئے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام تک پیغام امامت و ولایت منتقل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تبلیغ دین کے لئے ایک دوسرے سے مراسم پیدا کرنا ضروری ہے۔عام لوگوں کو اپنی محافل و مجالس میں بلائیں اور ان سے اچھے مراسم و تعلقات پیدا کریں۔ اگر ان میں سے کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو ہمیں سب سے پہلے ان کے گھر جا کر تجہیز و تکفین میں حصہ لینا چاہیے ۔حافظ ریاض نجفی نے کہارسول اسلام کی مکی زندگی میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جاتے تھے لیکن جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد نبوی میں مواخات کا سلسلہ قائم کیا۔ ہر مسلمان کو اس کی طبیعت دیکھ کر دوسرے کا بھائی بنایا۔ جیسے حضرات ابوبکر رضی اللہ عنہہ اورحضرت عمررضی اللہ عنہہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ اور جب سب صحابہ کو بھائی بنا چکے تو حضرت علی ؑ نے عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے کس کا بھائی بنایا تو فرمایا: ” یا علی! انت اخی فی الدنیا و الآخر“۔ تو میرا دنیا اور آخرت میں بھائی ہے۔ اور پھر قرآن کریم نے انہیں نفس رسول قرار دیا۔ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ ؑ کے بارے میں فرمایا” جس جس کا میں حاکم ہوں اس اس کا علی حاکم ہے“۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین چار دن بیمار رہے ، ان کی رحلت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بنائے ہوئے خلیفہ کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ وہ ابھی چھوٹے ہیں اور اپنا خلیفہ معین کر لیا۔ جناب فاطمہ زہراؑ نے فرمایا تھا کہ ابھی تم جو اختلاف ڈال رہے ہو اس کا اثر قیامت تک رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اختلاف اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=44000