بشریت کو ہمیشہ طاقتور اور مستکبر طبقات نے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان مظلوموں کو ان ظالم و فاسد حکمرانوں سے نجات کی ضرورت تھی، اور یہ نجات اسلام نے جہاد کی صورت میں پیش کی۔ جہاد فقط مسلمانوں کے دفاع کیلئے نہیں، بلکہ دنیا کے تمام مظلوموں کے دفاع کیلئے بھی ہے۔
رسول اللہ ص کی سیرت میں یہی حقیقت نظر آتی ہے کہ مدینہ کے اطراف میں بسے ہوئے ظالم حکمرانوں کو آپ نے تین راستے دکھائے۔ حق کو قبول کریں،
یا اسلامی حکومت کے تابع ہو کر جزیہ دیں، یا پھر جنگ کیلئے تیار ہوجائیں۔
ان تینوں صورتوں میں اصل ہدف مستضعفین کو نجات دینا اور اجتماعی عدالت کو برقرار کرنا تھا۔ یعنی انسانوں کو ظالم و مستکبر طبقات کے چنگل سے آزاد کرکے انہیں الٰہی عادلانہ حکومت کے تابع لایا جائے تاکہ عوام ظلم سے نجات پا سکیں۔
اسی بنیاد پر اسلام میں جہاد کا اصلی ہدف آزادی اور اجتماعی عدالت کا قیام ہے۔
جہاد کے اصولِ آزادی کو دیکھا جائے تو ایک چیز نمایاں نظر آتی ہے۔ لوگوں کی عدالت سب سے اہم ہے، اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ ظالم و مستکبر حکومتوں کو ہٹا کر ان کی جگہ عادل حکومت قائم کرنا جہاد کا سب سے بڑا مقصد ہے۔
اسلام میں عقیدہ اجباری نہیں ہے۔ کسی کو اسلام کے عقیدے پر لانے کیلئے کوئی جبر نہیں۔ لیکن حکومت ایک لازمی امر ہے۔ ضروری ہے کہ تمام انسان حکومتِ الٰہی کے تحت آئیں۔ کسی طاغوت کیلئے حکومت کرنے کی اجازت نہیں۔ یا تو اسلامی حکومت کو خود تسلیم کرے، یا جنگ کے ذریعے اسے قبول کرے۔
اسلام میں عقیدہ کی آزادی اور حکومت کے اجباری ہونے کا فلسفہ بھی بالکل واضح ہے۔ کیونکہ حکومت وہ ادارہ ہے جس کے ذریعے یا تو ظلم و ستم مسلط کیا جاسکتا ہے یا عدل قائم کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ عدل انبیاء علیہم السلام کا سب سے بنیادی ہدف ہے، اس لئے لوگوں کو ظالموں سے نجات دینا اور عدل قائم کرنا لازمی ہے۔ یہ ہدف اسی وقت ممکن ہے جب ان ظالم و فاسد حکمرانوں سے حکومت چھینی جائے، یا انہیں مجبور کیا جائے کہ اسلامی عدالتی نظام کے تحت برتاؤ کریں۔ یعنی جزیہ دے کر اسلامی اجتماعی عدالتی نظام کو برقرار رکھیں۔ اس کے علاوہ تیسرا راستہ نہیں۔
رسول اللہ ص چونکہ رحمت للعالمین ہیں، اس لئے ان کی سیرت میں تمام انسانوں کیلئے رحمت نظر آتی ہے۔ آپ نے ہر ظالم حکمران کے سامنے نسخہ آزادی پیش کیا تاکہ ان کے استحصال کے شکنجے میں جکڑے ہوئے مستضعفین کو عدل کی رحمت عطا کریں اور انہیں ظلم کے چنگل سے نجات دلائیں۔
آج غزہ اسی رحمت جہاد کا محتاج ہے تاکہ اس ظالم و مستکبر حکومت سے ان مظلوموں کو نجات عطا کرے۔











