ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حکومت نے تمام مشکلات کے باوجود عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہ کر مسائل کے حل کی کوشش کی اور آئندہ بھی قومی اتحاد، دفاعی صلاحیت اور عوامی بیداری کے سہارے ملک ترقی اور سربلندی کی راہ پر گامزن رہے گا۔
صدر نے بارہ روزہ جنگ کی مناسبت سے ایرانی قوم کے نام اپنے پیغا میں کہا ہے کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عوام نے بے شمار مشکلات، سختیوں اور معاشی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ ان حالات میں عوام کے صبر و استقامت نے حکومت پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کی اور حکومت نے تمام تر محدودیتوں اور دباؤ کے باوجود ایک لمحے کے لیے بھی عوامی مشکلات سے نظریں نہیں چرائیں۔
صدر نے کہا کہ حکومت کے تمام خادمین نے شب و روز محنت کرتے ہوئے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے، ان کے مسائل کا بوجھ کم کرنے اور ملک کو درپیش مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ حکومت کا عوام سے عہد مضبوط اور اٹوٹ ہے اور جس طرح عوام نے ایران کو تنہا نہیں چھوڑا، حکومت بھی مشکل اور تنگ حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بارہ روزہ استقامت اور تیسری مسلط کردہ جنگ میں تاریخی دفاع کے بعد قومی یکجہتی کا تحفظ، دفاعی صلاحیت میں اضافہ اور عوامی بیداری کا تسلسل موجودہ چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے ناگزیر تقاضے ہیں۔
صدر نے کہا کہ ایرانی عوام نے ایک بار پھر اپنی مزاحمت سے تاریخ کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے عزت، استقلال اور قومی سلامتی کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء، بالخصوص اس جنگ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں نے قوم کی تاریخ میں ایک نئی اور درخشاں داستان رقم کی ہے۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا سب سے بڑا اور پائیدار سرمایہ عوام کی بے مثال یکجہتی، نوجوانوں کی غیر معمولی صلاحیتیں اور روشن مستقبل کی امید ہے۔ جس طرح قوم ماضی کے سخت امتحانات سے سربلند اور کامیاب ہو کر نکلی ہے، اسی طرح آئندہ بھی ایمان، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے ملک کے وقار اور عظمت کے پرچم کو بلند رکھے گی۔












