30

نظام ولایت فقیہ کے خلاف عالمی سازشیں

  • News cod : 7323
  • 06 ژانویه 2021 - 18:31
نظام ولایت فقیہ کے خلاف عالمی سازشیں

تحریر :علی محمد رضا صالحی ۔  جنگیں ہمیشہ تلواروں کے سہارے نہیں جیتی جاتیں ۔ خاص طور پر وہ جنگیں جن کے تانے بانے […]

تحریر :علی محمد رضا صالحی

۔  جنگیں ہمیشہ تلواروں کے سہارے نہیں جیتی جاتیں ۔ خاص طور پر وہ جنگیں جن کے تانے بانے نظریات اور عقائد کے سرچشموں سے جا ملتے ہوں ۔  نظریات کی فھمائش و ابلاغ اور غلبہ وتروئج، وہ کار ِگراں ہے، جس کے لئے عام انسانی اعصاب و مزاج نہیں ، بلکہ آہنی وفولادی عزم وارادوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔  اسلام جیسا دین ، آئیڈیالوجی ، نظام عقائد ونظریات اور معرکہ آرا مکتب جس کے کاندھوں پر پوری نوع بشریت کی ہمہ جہت ہدایت وسعادت ، تربیت وارتقا، حریت واستقلال ، عدالت وانصاف کی قیام کا بارِگراں ہو ، جس مکتب کا مطمعِ نظر عالمی انسانی سماج کی معاشرتی  روحانی ، مادی ، اخلاقی ،فکری نظریاتی ،سیاسی، معاشی ،علمی فنی ،عدالتی ۔۔۔۔۔۔تربیت و نجات ہو ۔  ایک ایسا نورانی مکتب ( اسلامِ عزیز ) جو انسانیت کو آلودگیوں اور کثافتوں کی سطح سے اٹھا کر ملاء اعلی تک پرواز کی ضمانت دیتا ہو ، جو خون ریز جنگوں ، شرمناک مفسَدوں اور فطرت سے بھیانک انحرافوں کی عذاب میں سسکتی انسانیت کی زمین کو نورانیت و پاکیزگی ، مھر وصفا اور امن و سکون کا گہوارہ بنانے کی صلاحیت اور توانائی رکھتا ہو ۔  جس مکتب کی انسان پرور تعلیمات کی سٹرٹیجی یہ ہو کہ “انسانیت شعوروآگہی کی اُس معراج پر فائز ہو جائے ،جہاں ہاتھ میں مشعل لے کر ڈھونڈنے کے باوجود، انسانی سماج میں جہالت ، بے شعوری اور ظلم کی پرچھائی بھی دکھائی نہ دے ۔  جہاں کی فضاوں میں روحِ عدالت اس قدر سماجائے کہ “شیر اور بكري ” بے خوف ایک گھاٹ پر پانی پی سکتے ہوں ۔ ایسی دنیا جہاں ایک “خاتون” اگر تنِ تنھا مشرق کے کنارے سے مغرب کی آخری کونے تک سفر کرے توبھی کسی نگاہ ِکج یا نگاہ ِ پست کے اٹھنے کاشائبہ تک نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یقیناًایسے اُولوالعزم  مکتب کے بحر علوم میں شناوری اور ماہرانہ غواصی کے لئے غیر معمولی فھم و فراست ، فطانت و دیانت کے علاوہ بے مثال جرات وایثار، عمیق بصیرت اور قابل رشک زمانہ شناسی بھی درکار ہے ۔  شیطانوں ، شیطنتوں اور شیطانی نظاموں سے لبالب چھلکتی اس بے تاب دنیا کا حق بنتاہے کہ وہ اس پاکیزہ مکتب کے خلاف ہمہ جہت ہتھکنڈوں کا بیکراں میدان کارزار سجائے رکھے ، اس نورانی مکتب کی صاف و شفاف چشمے کو دھندلانے کی بساط بھر کوشش کرتا رہے ، اس مکتب کے فرزندوں پر تہمتوں کے تیر برساتارہے اور ظلم کے پہاڑ توڑتا رہے ۔  طول تاریخ پر پھیلی یہ سلسلہء کارزار دشمن کی دقیق مکتب شناسی کا بیّن ثبوت ہے ۔ جہاں ایک طرف اس حیات بخش مکتب کے پیروکار بڑی حد تک اس مکتب کی روح ، اسرارو رموز اورالہی راہ وروش سے ناآشنا اور بیگانہ رہے، وہیں دشمن بروقت مکتب شناسی کے ذریعے اس مکتب کے خلاف پیہم پیکار میں مصروف رہا ۔  معاصر قریب میں دشمن کی پتھرائی ہوئی نگاہوں نے مکتب نورانیء اسلام کی موّاج توانائی و طاقت کا تازہ ترین معجزہ، انقلاب اسلامی کی” انفجار نور” کی صورت میں دیکھا ہے ۔، جس نے مفکرینِ عالم اور عالمی نظریہ پردازوں کے اذھان میں زلزلہ برپا کردیا ہے ۔  ایک ایسا زمانہ جو عصرِ ٹیکنالوجی سے موسوم ہوچکا تھا ۔ جو دین ، آئیڈیالوجی اور الہیات پر عقیدہ واعتقاد کو ریشمی پارچے میں لپیٹ کر عجائب خانوں کی زینت بنانے کا تہیہ کرچکاتھا ۔ جس میں عالمی استکبار ،استعمار اوراستحصالی قوتوں نے امتِ مسلمہ کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ” جغرافیہء اسلام ” اور اس کی بے پناہ وسائل کو طاغوتی سیاست کے دسترخوان پر ہرن کے ران کے گوشت کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہڑپنے کی ٹھان رکھی تھی ۔ اس وقت پورے عالم پر ایک سکہ چلتاتھا ؛ ” طاغوتی قوتوں کاسکّہ ”   ناامیدی خوف دہشت اور بے سروسامانی اور خانقاہیت کی اس بہیانک تاریک شب میں انسانی فکروشعور ظلم کے خلاف قیام ،استقلال ،آزادی مقاومت ،اسقامت اور عزت و شھادت ۔۔۔۔۔۔جیسےمکتبی زمزموں کو بھول کر ناآشنا ہوچکی تھی ۔ مکتبی راہوں سے بھٹکی سرگرداں امت ہرطاغوت کی طرف نگاہِ ترحم سے دیکھتی اور جس طرف طاغوت کی باہیں كهلي ديكهتى، اسی سمت گوشہء عافیت میں سمٹ جاتی ۔  مکتب فراموشی اور طاغوت پناہی کی اسی شبِ دیجور کے زمانے میں ایک مکتب شناس، دین شناس، قرآن شناس اور اسرارورموزعاشورا سے باخبر شجاع و بابصیرت فقیہ امام خمینی رح نے مکتبِ اسلام کا حقیقی عَلم اٹھاکر ، مشرق ومغرب کی “خداستیز طاقتوں” سے پنجہ آزمائی کاآغاز کردیا ۔  سائنس و ٹیکنالوجی کے عروج  اورمادہ پرستی کے دور میں یہ بڑاانوکھا شِعار اور قیام تھا ۔ ایمان اور آئیڈیالوجی کے سھارے ایڈوانس ٹیکنالوجی سے لیس فرعونی نظاموں سے ٹکرانا ۔ خون کی طاقت سے تلوار کامقابلہ کرنا ۔…  اس زمانے کے سنجیدہ عالمی سیاستدان مذاق میں بھی ،قم اور تھران کی سڑکوں پر اٹھنے والی صداوں کا ذکرکرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔  یہاں تک کہ میدانِ کربلا میں روز عاشورامام حسین علیہ السلام کی لشکر ِیزید کے مدِمقابل مقاومت واستقامت، ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو فوقیت، اسلام عزیز پر سب کچھ نچھاور کرنے کا عھد، دین محمدی ص کی بقااوراحیاء کے لئے ایثار وشجاعت ۔۔۔۔۔۔ کا بر سر منبر ببانگِ دُھل تذکرہ کرنے والوں کی واضح اکثریت بھی جب افکارِ عاشورا اور راہِ سیدالشھداع کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کا مرحلہ آگیا تو اس عاشورائی  تحریک سے اپنی راہیں جدا کر بیٹھے ۔  عالمی طاقتوں کی طرف سے فیصلہ کن دباؤ ، اندرونِ ملک بربریت وانسانیت کُش جارحیت اور ہمہ جہت محاصرہ اور اعصاب شکن تنھائی کے باوجود ، امام خمینی رح نے اپنے علم ، تقوی ، بصیرت اور زمانہ شناسی ، خداوند ِعالمین کی نصرت اور الہی وعدوں پر پختہ یقین اور توکّل اور سیرت ائمہ اطھار ع بالخصوص سیرت امام حسین ع پر چلتے ہوئے ، ہزاروں عاشقان ِخدا کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں، دوہزارسالہ شہنشاہیت کا تختہ الٹ کر بارہ سو سالوں سے  متروک ومھجور ” نظام ولایت ” کا پرچم بلند کردیا ۔  نظامِ ولایت یعنی ولایت الهى ، ولایتِ رسول اللہ ص اور ولایتِ ائمہ اطھار ع کا زمانہء غیبت میں تسلسل ۔زمانہء  غیبتِ معصوم ع میں ولایتِ ائمہء اطھار ع کی نیابت کا الہی بندوبست ۔ کہ جس کے بغیر امت کا شیرازہ بکھر جائے گا ۔ جس کے بغیر وحدتِ امت  ناممکن ہوگا ، جس کے قیام کے بغیر امت طاغوتوں کی دریوزہ گری میں مبتلا ہو کر طاغوت پرستی ، ذلت ، پستی اور بےبسی کی تصویر بنی رہےگی ۔ ولایت فقیہ یعنی وہ عظیم نعمتِ الہی ، جو امت کی وحدت ، عزت ، ہدایت ، سعادت ، ارتقا، ہمہ جہت پیشرفت  اور طاغوت وطاغوتی نظاموں کی ناامیدی و سرنگونی اور ظہور امام علیہ السلام کے لئے تیاری وزمینہ سازی کی ضمانت ہے ۔ جس کے قیام کے بغیرسماج کے لئے مختص اور معین  اسلامی قوانین و مقاصد   کا نفاذ ناممکن اور الہی وقرآنی احکامات معطل رہتاہے اور اسلامی معاشرے محض طاغوتی مقاصد کے حصول کی جولان گاہ بن کر رہ جائیں گے  ۔  تاریخ اسلام کے مشاہیر کے درمیان امام خمینی رح کی بصیرت و دین شناسی یقیناًبے نظیر ہے ۔ کہ آپ رح نے امت اسلامیہ پر اتمام حجت کردیا کہ انقلاب اسلامی اور نظام ولایت کی بنیادیں نہ مشرقی ہیں اور نہ مغربی ۔ یعنی یہ کسی خودساختہ “نظام کاچربہ” نہیں بلکہ خالصتاًاسلامی اور قرآنی ہے ۔جو مستند اسلامی روایتوں اور محکم علمی و منطقی منابع سے ماخوذ ہے ۔   ولایت شناسی اور اس الہی نظام کی تفھیم و تسلیم اور اس کی عالمگیر اثرات کے ادراک کے مرحلے میں بھی دشمنان ِاسلام ، امت مسلمہ پر سبقت لے گئے ۔ دشمن نے اوائل انقلاب اسلامی کے زمانے سے ہی نظام ولایت کی طاقت ، منطق اور راہ وروش کامطالعہ کرکے پیش بندی کا آغاز کردیا ۔   صدام کے ذریعے مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ ، چالیس سالہ ہمہ جہت معاشی دہشت گردی اور اقتصادی محاصرہ ، اندرون ملک اور دنیابھر میں نظام ولایت فقیہ اور افکار ِامام خمینی رح کے پیروکاروں کا بھیمانہ قتل عام اور ٹارگٹ کلنگ ، انقلاب اسلامی کاراستہ روکنے کے لئے خودساختہ جھادی اوراسلام کو بدنام کرنے والے دہشت گرد ٹولوں کی سرپرستی ، اسلامی انقلاب کے اثرورسوخ اور نفوذ کوروکنے کےلئے شدیدترین پروپیگنڈے ، ہمسایہ عرب ممالک کو نظام ولایت کے خلاف بھڑکانا ، مسلح کرنا اور انقلاب اسلامی کے خلاف خطے میں اسلحے کی دوڑ پیداکرنا ، سینکڑوں چھوٹی بڑی دہشت گرد تنظیموں کا قیام ، علمی وفنی سرمایوں کی ٹارگٹ کلنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مغربی طاقتوں کا کھڑا کیا ہوا سارا طوفان نظام ولایت کےہاتھوں ان کی پےدرپے شکست  کاانتقام اور نظام ولایت کا قصہ تمام کرنے کے منصوبے کے مختلف مراحل ہیں ۔  گزشتہ چالیس سالوں میں عالمی طاقتوں کی شیطانی اتحاد اور نظام ولایت ، مسلسل حالت جنگ میں ہے ۔عالمی نظاموں کی یہ جنگ ایک ہمہ جہت جنگ ہے ۔ جو بیک وقت سیاسی ،فکری ، نظریاتی ثقافتی ، عسکری ،جاسوسی، معاشی ، علوم وفنون،پروپیگنڈےاور میڈیا ۔۔۔۔۔۔۔  کے تمام تر میدانوں میں پوری شدت کے ساتھ لڑی جارہی ہے ۔   انتھک جھاداسلامی اور ایثاروفداکاری کی اس طویل جنگ میں جہاں ڈاکٹرمصطفی چمران ، سردار عماد مغنیہ اور سردار قاسم سلیمانی رح اور دیگر ہزاروں شھدائے راہ ولایت ، فرزندان انقلاب اسلامی اور پیروانِ راہ ِکربلا نے اپنے لہو سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی ہے، وہیں فکری ، عقیدتی ، اور شعوری وآئیڈیالوجیکل محاذ پر آیت اللہ مطھری رح ، آیت اللہ شھید بھشتی رح اور آیت اللہ مصباح یزدی رح جیسے سینکڑوں مجاھد علماءاور فقھاءکی جانفشانی اور فکری مبارزہ لائق تعظیم وتقلید ہیں۔ جنہوں نے نظام ولایت کو ایرانی نظام ، ایک ملک ، ایک قوم اور ایک جغرافیے کا نظام کہ کر، نظام ولایت کو  ایران کے جغرافیے تک محدود رکھنے کی طاغوتی، جاہلانہ اور حاسدانہ سازشوں کا علمی ، فکری اور استدلالی محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ اور اپنی زندگیاں نظام ولایت کی تبلیغ ، ترویج ، تفھیم اور اشاعت اور گوشہ واکناف عالم تک نور ِولایت پہنچانے میں صرف کئے ۔ اس راہ میں قیدوبندکی صعوبتیں جلاوطنی کی اذیتیں جھیلیں ، یہاں تک کہ اکثر علماء نے شھادت کی دہلیز تک نظام ولایت کاساتھ نبھایا ۔  اگرچہ کچھ افراد ہرقدم آگ برساتی  اور لہو مانگتی ،  طاغوت ستیزی کی اس راہ پر ڈگمگاگئے  مگر شجرِولایت کی اپنے لہو سے آبیاری کرنے والے عاشقوں کا یہ قافلہ خون کے آخری قطرے تک ولایت کے ساتھ کھڑے رہے اور کبھی بھی نظام ولایت کو پشت نہیں دکھایا۔ سلام ! قافلہء ولایت کےان  گمنام شھدا پر، جنہوں نے نظام ولایت کے ہاتھ پر کسی مفاد یامجبوری کے تحت بیعت نہیں کیا، بلکہ صرف اپنے خون اس شجرهء طیبہ کی آبیاری کے لئے قافلہء عشق میں شامل ہوگئے ۔ اس شجرہء طیبہء ولایت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی خیانت یہ ہوگی کہ ہم دسترخوان نظام ِ ولایت سے اپنا پیٹ تو بھریں ، ہم اور ہماری اولاد دسترخوان نظام ولایت پر پلیں ۔ جائیدادیں بنائیں ۔ سماج میں اعلی مقام ومنصب پر تو فائز ہوجائیں۔ مال امام ع کے اجازت نامے حاصل کرلیں ، ولایت فقیہ کی تصویر اور نعروں سے اقتدار کی کرسی تک پہنچ جائیں، مگر جب نظام ولایت کی ترویج و تبلیغ اورتقویت کا موقع آجائے تو نظام ولایت کا ہی انکار کر بیٹھیں کہ ولایت تو صرف ایران کا نظام ہے اور تفتان بارڈر پر ہی یہ قصہ تمام ہوگیا ہے ۔  ہمیں خون شھدائے راہ ولایت کی عدالت میں اپنے ضمیر  سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ یہ کیسا معیارِ ایمان ہے کہ ہم ہر خودساختہ طاغوتی نظام قبول کربیٹھیں ، مغربی جمھوریت پر مر مٹنے کو ہمیشہ تیار نظرآئیں ، بدترین آمریتیں ، فوجی حکومتیں ، بادشاہتیں ، بدعنوانی کی تمام حدیں پارکرنے والے کرپٹ عناصر ، شرعی والہی قوانین پائمال کرنے والےاور کتوں سے کھیلنے والے حکمران ، دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے سیاستدانوں کی حکومتیں تو ہمارے لئے قابل قبول ہوں مگر نظام ولایت ہماری نگاہوں میں ناقابل عمل اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=7323

ٹیگز