2

آیت اللہ بہجت کی برسی کے حوالے سے ان کے فرزند علی بہجت کا خصوصی انٹرویو

  • News cod : 17477
  • 18 می 2021 - 14:41
آیت اللہ بہجت کی برسی کے حوالے سے ان کے فرزند علی بہجت کا خصوصی انٹرویو
آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔

وفاق ٹائمز- آیت اللہ بہجت کی برسی کے حوالے سے ان کے فرزند علی بہجت کا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے:

حضرت آیت اللہ بہجت کے فرزند ارجمند حجۃ الاسلام و المسلمین علی بہجت نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ تاریخ شیعہ گواہ ہے کہ بہت سارے شیعہ علماء نے اپنی زندگی میں کافی تکلیفیں اٹھائیں، لیکن ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے سلوک عملی کے ساتھ ساتھ سلوک انفسی بھی اپنائے رکھا ۔ یقینا انہی افراد کو ہی سلوک الی اللہ اور یقین کی منزل تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی ، جن میں سے ایک آیت اللہ بہجت بھی تھے۔

آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔ اگر کوئی گندم کی تلاش میں نکل جائے تو اسے بھوسہ بھی مل سکتا ہے۔

علی بہجت کا کہنا تھا کہ 12 سال کی عمر میں بھی عبادتوں کے متعلق آیت اللہ بہجت کی آنکھیں کھل چکی تھیں اور وہ گناہوں کی حقیقت کو دیکھ سکتے تھے۔ 14 سال کی عمر میں وہ آیت اللہ نائینی مرحوم کی نماز جماعت میں شریک ہوتے تھے اور ان کے آفاقی سلوک کا ادراک کر سکتے تھے۔ وہ اپنی زندگی میں بچپن کی معصومیت کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو چکے تھے اسی لئے ان کی زندگی آلودہ نہ تھی اور وہ آرام سے پرواز کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ بہجت آقائے قاضی کے تلامذہ میں سے تھےان کے باہمی تعارف کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ علامہ طباطبائی مرحوم کہتے تھے کہ ہم نے نجف اشرف میں 5، 6 سال رہنے کے بعد آقائے قاضی کے حضور جانے کا طریقہ سیکھا تھا، لیکن آیت اللہ بہجت شروع سے ہی ان کے حضور میں پہنچ گئے تھے۔

علی بہجت نے اپنے والد بزرگوار اور آیت اللہ قاضی کے تعارف کا واقعہ انہی کی زبانی کچھ یوں نقل کیاکہ آیت اللہ بہجت کہتے تھے کہ میں کربلا میں مقیم تھا۔ ایک شخص ہر جمعرات کو نجف سے کربلا زیارت کرنے آتا تھا اور ہمارے مدرسے میں آکر وضو کرتا تھا۔ میں اسے اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دیتا تھا تو وہ میری دعوت کو قبول کرکے میرے کمرے میں آتا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ علامہ طباطبائی کے بھائی تھے ان کے ذریعے میں نے آقائے قاضی کا نام سنا ۔ ایام جوانی میں جب آیت اللہ بہجت حوزہ علمیہ نجف میں آقائے قاضی کی خدمت میں علمی مسائل لے کر جاتے تو ایک دفعہ انہوں نے مسائل کو حل کرنے کے بعد آیت اللہ بہجت سے کہا: “أشهد أنّک فاضل”پھر اس دن سے ہمیشہ ان کو “فاضل گیلانی” کہہ کر پکارتے تھے۔

آقائے قاضی اور ان کے درس کے متعلق آیت اللہ بہجت کہتے تھے کہ میں نے جتنا عرصہ ان سے استفادہ کیا ، کبھی بھی ان سے ایک سوال نہ کیا اور اس عرصے میں کوئی ایسا سوال بھی ایسا نہ تھا جو میرے ذہن میں ابھرا ہو اور میرے استاد نے اس کا جواب نہ دیا ہو۔ علی بہجت کےمطابق آیت اللہ بہجت نے اس بات کو بیان کرنے کے بعد مسکراتے ہوئے کہا کہ دو تین مرتبہ استاد نے میرا نام لے کر کہاکہ “ان کے سوال کا جواب یوں ہے۔” یہاں تک کہ میرے پاس بیٹھے شاگرد نے میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر کہا: تو نے تو کوئی سوال ہی نہیں پوچھا تھا، پھر استاد نے کیوں کہا: ” ان کے سوال کا جواب یوں ہے۔” ؟؟!
آیت اللہ بہجت کو بہت اچھے اچھے اساتذہ ملے۔ البتہ وہ استاد کی تلاش میں نہ گئے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم کیا، کیونکہ جو شخص صحیح راستے کا انتخاب کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے استاد فراہم کرتا ہے۔ در حقیقت انسان کو ایسے اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے جو اسباق کے لب لباب کو اس کی ہتھیلی پر رکھ دے۔

علی بہجت کے مطابق آقائے قاضی کے درس کے متعلق آیت اللہ بہجت کہتے کہ ان کا ہر درس انتہائی اہمیت اور وقعت کا حامل تھا، لیکن انہیں کسی بھی صورت تحریری شکل نہیں دی جا سکتی تھی۔

آیت اللہ بہجت کے بارے میں آقائے قوچانی کی رائے بیان کرتے ہوئے علی بہجت کاکہنا تھا کہ آقائے قوچانی مرحوم کہتے تھے کہ آیت اللہ بہجت جب 22 سال کے تھے تو ان کے مقامات کی تعداد 20 تھی، لیکن میں انہیں بیان نہیں کرسکتا۔

علی بہجت نے مزید کہا: وہ نماز پر مر مٹتے تھے اور زیارت ائمہ علیہم السلام کے ذریعے دوبارہ زندگی پاتے تھے۔ اسی لئے مسلسل 40 سال تک ہر سال ڈھائی مہینے حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو جاتے رہے، لیکن ان 40 برسوں میں وہاں اپنے لئے کوئی گھر وغیرہ کا بندوبست نہیں کیا۔ ہمیشہ طلوع فجر سے 2 گھنٹے قبل جاگتے اور عبادت کرنے لگ جاتے تھے۔ جب سورج نکلنے کا وقت قریب آتا تو حرم چلے جاتے تھے۔
زیادہ دیر تک عبادت کرنے کی وجہ سے حرم جانے سے پہلے انتہائی ناتواں دکھائی دیتے تھے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب حرم سے واپس لوٹتے تو ترو تازہ اور خوش نظر آتے تھے۔ گویا حرم جا کر بالکل ڈوب جاتے اور مست ہو کر نکل آتے تھے ۔ اسی لئے واپس آکر میرے ساتھ ہلکا پھلکا مزاح کر تے تھے۔ ان کی یہ ناقابل بیاں توانائی ہمیں حیران کر دیتی تھی۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلے میں بھی یہی حال تھا ۔ 1324 ہجری شمسی سے رحلت تک ان کا یہ معمول تھا کہ روزانہ 2 گھنٹے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم میں گزارتے تھے۔ ایک گھنٹہ کھڑے ہوکر اور ایک گھنٹہ بیٹھ کر زیارت کرتے۔ ہمیشہ “زیارت جامعہ کبیرہ “پڑھتے اور کئی بار دوسروں کی نیابت میں “زیارت امین اللہ ” بھی پڑھتے تھے۔

وہ اپنے درس و بحث میں انتہائی سنجیدہ اور عبادت و بندگی میں بہت کوشاں تھے۔ لوگوں کو حیرانی ہوتی کہ علم و مطالعے سے وابستہ کوئی شخص اس طرح بھی عبادت کرتا ہے!! اسی طرح درس و بحث کے لحاظ سے پائی جانے والی سنجیدگی سے ان کے ملکوتی سیر و سلوک میں بھی کوئی کمی نہیں آتی تھی۔

آیت اللہ بہجت کی زندگی کے نظم و ضبط کے حوالے سے علی بہجت کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تمام امور میں نظم و ضبط کے پابند تھے اور اپنے پورے وقت سے استفادہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب آپ ایک میز سے اٹھ کر دوسرے میز پر جاتے ، یا الماری سے کوئی کتاب اٹھانے کے لئے اٹھتے اور اس مختصر وقت میں ان سے کچھ پوچھا جاتا تو کہتے: کیا یہ سوال کرنے کا وقت ہے؟ یعنی وہ مختصر وقت کے لئے بھی بے کار نہ رہتے تھے۔
اگر میں اخبارات کی سرخیاں پڑھتا، تو فرمانے لگتے: کیا آپ فارغ ہیں جو اخبارات کی سرخیاں پڑھنے لگے ہیں؟ یقینا یہ بھی ایک سچ ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو اخبارات پڑھتے رہتے ہیں، لیکن گزشتہ مہینے کیا کچھ ہوا تھا انہیں کچھ معلوم نہیں۔ اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو نہ اخبار پڑھتے ہیں اورنہ ٹی وی دیکھتے ہیں، لیکن انہیں معلوم ہے کہ آنے والے مہینے میں کیا کچھ ہونے والا ہے!!
آیت اللہ بہجت بہت کم سوتے تھے ۔ بعض اوقات بیٹھے بیٹھے تھوڑی دیر کے لئے سوجاتے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ آپ بیٹھے بیٹھے کیوں سوجاتے ہیں َ؟ تو فرماتے: میں اس لئے نہیں لیٹتا تاکہ نیند مجھ پر غالب نہ آئے۔

گھریلو تعلقات کو نبھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ دسترخوان پر کافی دیر تک بیٹھے رہتے، اسی دوران صلہ رحمی کا فریضہ بھی نبھاتے تھے، کیونکہ اس وقت مجھ سمیت پورے افراد خاندان کی احوال پرسی کرتے۔ لوگوں کی مشکلات کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں کا نام لے لے کر پوچھتے کہ فلاں شخص کا کام ہوگیا کہ نہیں؟ اس شخص کی بیٹی کا مسئلہ حل ہوگیا کہ نہیں؟ اگر کسی مشکل کا حل ہمارے بس میں نہ ہوتا ، یا ہم اسے بھلا بیٹھتے تو آپ خود اسے حل کرتے تھے۔ چاول اور پھلوں کی پیداوار سے بھی ایک تہائی حصہ الگ کرکے دوسروں کو دیتے تھے،لہٰذا بعض اوقات تین چار مہینے ہمیں چاول میسر نہ آتا تھا۔

علی بہجت کا کہنا تھا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو والد صاحب کسی کو ناسزا کہنے اور گالی دینے نہیں دیتے تھے۔ میں کہتا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ غصے میں بھی ہو اور گالی بھی نہ دوں ؟تو کہتے تھے کہ تم لوگ کہو: “گل اناری” یعنی: انار کا پھول۔ کیونکہ انار کا پھول بھی انار ہی کی طرح ہوتا ہے، لیکن جب نزدیک سے دیکھو گے تو وہ انار نہیں ہوتا۔

دنیا کے مختلف مقامات پر رونما ہونے والے حادثات جیسے بغداد وغیرہ میں ہونے والے بم دھماکوں کی وجہ انہیں خاصی تکلیف ہوتی تھی۔ ان کے دکھ سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہ حادثہ ان کے عزیز و اقارب میں سے کسی کے ساتھ پیش آیا ہو۔ سوال و جواب کی نشستوں میں کچھ سوالوں کے جواب دینے کے بعد فرماتے تھے کہ آئے دن کہیں نہ کہیں کوئی دھماکہ ہوتا ہے جس کے باعث آرام و سکون نصیب نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات اور حادثات سے متاثر ہونے کی وجہ سے بعض اوقات درس و تدریس کی بابت ان کی جسمانی طاقت جواب دے جاتی تھی، اچانک رنج وغم میں ڈوبی ہوئی آواز میں پکارتے تھے: خدایا تو ہی رحم کر! ہم ان سے سوال کرتے تو جواب میں فرماتے: سفیانی کا خروج حتمی علامات میں سے ہے۔ یہ لوگ برائے نام قتل کرتے ہیں۔ تمہیں کیا پتہ؟ ہمیں ان درندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ نہیں معلوم ،دعا کرناچاہئے یا ظہور امام زمان علیہ السلام تک ایسے ہی رہنا چاہئے؟

علی بہجت نے کہا: میں نے بارہا دیکھا کہ اگر کوئی آیت اللہ بہجت سے کہتا کہ میں نے آپ کی یہ کرامت دیکھی ہے تو وہ سخت ناراض ہوجاتے تھے۔ وہ ایسی باتوں سے ناراض ہوکر کہتے : میری کیا حیثیت ہے؟ میں تو ایک فقیر ہوں۔ حالانکہ مد مقابل کو معلوم ہوتا کہ جو واقعہ بیان کیا گیا تھا وہ ان کی کرامات میں سے ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں ایک واقعہ یوں بیان کیا کہ ایک دفعہ کوئی شخص آیت اللہ بہجت کی خدمت میں آکر کہنے لگا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا: تو اس کا نام “زینب”رکھنا۔ میں نے عرض کیا: آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کے ہاں بچی ہوئی ہے؟ والد صاحب نے بات بدلتے ہوئے کہا: میں نے کب کہا اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی ہے؟ دراصل وہ ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ان کی شخصیت کو پہچانے۔
آیت اللہ بہجت کے فرزند ارجمند نے کہا: ان کے والد صاحب کی زندگی کا دھارا بہت ہی پیچیدہ تھا اور وہ اپنے کسی بھی صورت اپنے رازوں کو فاش ہونے نہیں دیتے تھے، اس لئے ان کے متعلق کسی ایک سوال کا جواب دینے میں ایک عرصہ لگ سکتا ہے۔ وہ حقیقی “عبد خدا” تھے اور ہمیشہ اس بات کا برملا اعلان کرتے رہتے تھے کہ میری کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کی شخصیت سے زیادہ آگاہ نہیں ہیں۔

جناب علی بہجت نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ 1363 ہجری شمسی میں علامہ جعفری نے مجھے خبردار کیا کہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے والد بزرگوار کے پاس آ جائیں۔ وہ ایک منفرد اور خصوصی شخصیت ہیں، لیکن ان کی خدمت میں رہنے کے بعد بھی مجھے ان کے بارے میں کوئی آگاہی حاصل نہیں ہوئی۔ البتہ بعض اوقات میں ان کے بعض افادات کو تحریر شکل میں ڈھالتا تھا ،لیکن یہ تحریریں بھی کسی پزل کے متفرق حصوں کی طرح ایک دوسرے سے جدا جدا دکھائی دیتی ہیں۔

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=17477