1

آیت اللہ علامہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کا انٹرویو (قسط ۲)

  • News cod : 18423
  • 08 ژوئن 2021 - 17:10
آیت اللہ علامہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کا انٹرویو (قسط ۲)
قوم و ملت کی تمام خرابیوں کی وجہ منبر کا جاہل ذاکروں اور بے دین مولویوں کے قبضہ میں چلے جانا ہے۔ قوم میں جہالت ہو یا عقائد کی خرابی۔ بد عملی ہو یا اتحاد کا فقدان، سب کچھ اسی وجہ سے ہے لہٰذا تطہیر منبر اشد ضروری ہے اور اس کیلئے دیندار علماء اور خطبا کی ضرورت نا گزیر ہے۔

سوال: حوزہ علمیہ نجف اشرف کی اپنی اس وقت کی زندگی کے ایک دن کا صبح سے شام تک کا حال اس طرح بیان فرمائیں کہ اس زمانہ کے طالبعلم کی زندگی کی مکمل تصویر سامنے آجائے؟
جواب: میں وہاں دو کام کرتا تھا۔ درس بھی پڑھتا تھا اور تدریس بھی کرتا تھا۔ دن یوں گزر جاتاتھا اور رات کو مطالعہ بھی کرتا تھا۔ تصنیف و تالیف اور ترجمہ کا کام بھی شروع کردیا تھا اور یوں وقت گزرتا تھا اور صبح کی نماز کے علاوہ کوشش ہوتی تھی کہ ہر نماز حضرت امیر علیہ السلام کے حرم مبارک میں ادا کی جائے۔
سوال: آپ کے زمانہ تحصیل میں حوزہ کے کل طلبہ اور پاکستان کے تمام طلبہ کی تعداد تقریبا کتنی تھی؟ اگر مناسب سمجھیں تو اپنے چند پاکستانی ساتھیوں کے نام ذکر فرمادیں؟
جواب: مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء کی تعداد تقریبا ایک ہزار تھی۔ پاکستان کے ساتھی طلبہ میں چند مشہور علما کرام میں سے مولانا سید صفدر حسین نجفی مرحوم، مولانا سید صادق علی شاہ مرحوم، مولانا سید محمد حسین شاہ مرحوم، مولانا شیخ بخش مرحوم، مولانا اختر عباس نجفی مرحوم، شیخ غلام حسن جاڑا، مولانا سید امیر حسین مرحوم، مولانا محمد حسن مرحوم، مولانا محمد بخش برادر مولانا اختر عباس وغیرہ اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائے۔
سوال: آپ کے زمان تحصیل میں حوزہ کے چند مشاہیر مدرسین کون کون تھے اور ان کی وجہ شہرت کیا تھی؟
جواب: بعض مراجع تقلید کے اسماء گرامی اپنے اساتذہ کرام کی فہرست میں ذکر کردئیے ہیں بعض کی شہرت اصول فقہ میں بعض کی فقہ میں اور بعض کی معلومات عامہ میں زیادہ تھی۔
سوال: اس زمانہ میں اساتذہ اور طلبہ کے مالی حالات وہاں عام طور پر کیسے تھے اور گزر بسر کیسے ہوتی تھی؟
جواب: ہمارے زمانہ میں اساتذہ کرام اور طلاب عظام کے مالی حالات متوسط تھے۔ نہ زیادہ مالدار نہ زیادہ غریب و نادار۔
سوال: آپ نے عراق میں کب اور کس درجہ تک اپنی تعلیم مکمل کی اور کب وطن مراجعت فرمائی؟
جواب: علم کی تو کوئی انتہا نہیں ہے (وفوق کل ذی علم علیم)۔ بہر حال جب ملکہ اجتہاد پیدا ہوگیا اور اپنے ملک کی ضروریات کے مطابق علم حاصل کرلیا تو فورا واپس آگیا تاکہ اپنا فریضہ علمی ادا کیا جائے۔
سوال: پاکستان واپس آکر کب اور کہاں سے آپ نے اپنی دینی خدمات کا آغاز فرمایا؟
جواب: جب میں 1960 ء میں واپس آیا تو کافی مدارس علمیہ قائم ہوچکے تھے۔ تقریبا سب کی طرف سے دعوت بھی تھی لیکن سرگودھا کے مومنین کرام بالخصوص قدوۃ الصالحین پیر سید فضل شاہ کی خواہش پر سرگودھا شہر کے مدرسہ دارالعلوم محمدیہ میں پرنسپل بننے کو ترجیح دی۔
سوال: اب تک کون کون سے مدارس/مساجد/ اداروں سے آپ وابستہ رہے ہیں؟
جواب: گیارہ سال اور کچھ ماہ اسی مدرسہ سے وابستہ رہا۔ تدریسی فرائض کے علاوہ تبلیغی مجالس و محافل اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی شروع رہا۔ اس کے بعد بوجوہ استغفی دے کر فارغ ہوگیا۔ باقی مدارس کے علاوہ جامعۃ المنتظر لاہور کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا لیکن میں نے نئے مدرسے کی تشکیل و تاسیس کو ترجیح دی اور تین ایکٹر رقبہ پر مشتمل جامعہ علمیہ سلطان المدارس الاسلامیہ زاہد کالونی سرگودھا میں علمی و عملی فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔ پانچ مدرسین تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ پچاس کے لگ بھگ طلبہ پڑھ رہے ہیں۔
سوال: اس وقت کون کون سے مدارس علمیہ/ عصری تعلیمی ادارے/ تنظیمیں آپ کی نگرانی و سرپرستی میں کام کر رہی ہیں؟
جواب: تمام مدارس دینیہ اپنے ہیں کیونکہ مقصد تاسیس ایک ہے بالخصوص مدرسہ باقر العلوم کوٹلہ جام، جامعہ نقویہ پنجگرائیں، بھکر شہر کا جامعہ قرآن و عترت، جماعہ اسدیہ۔ لیہ کا جامعہ الزہرا (س) اور ضلع جھنگ کا جامعہ امام سجاد (ع) خاص توجہ کا مرکز ہیں۔
سوال: آج کل آپ کی علمی عملی مصروفیات کیا ہیں؟
جواب: تصنیف و تالیف پر زیادہ توجہ ہے۔ اسلامیات کے ہر موضوع پر تفسیر القرآن ہو یا علم حدیث، علم کلام ، علم عقاید ہو یا فن مناظرہ ، علم فقہ یا معلومات عامہ یا بعض معصومین کے سوانح حیات ہو، ہر موضوع پر میری تحقیقی دوچار کتابیں موجود ہیں۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
سوال: اپنے تمام قلمی آثار کا تذکرہ فرمادیں۔
جواب: مجلدات کی تعداد ساٹھ پینسٹھ کے لگ بگ ہے ان کا اجمالی تذکرہ کردیا گیا ہے۔
سوال: مدارس علمیہ کے موجودہ درسی نصاب سے کیا آپ مطمئن ہیں؟
جواب: بالکل نہیں ہوں۔ ہمارے مدارس دینیہ ہوں یا ایران و عراق کے مراکز علمی، نحو و صرف اور ادب وغیرہ کی کتب کی بھر مار ہے۔ مقدماتی علوم پر بڑا زور دیا جاتا ہے مگر ذوالمقدماتی علوم یعنی قرآن و حدیث پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی ۔ نہ قرآن مجید کی کوئی تفسیر داخل نصاب ہے اور نہ کتب اربعہ میں سے کوئی کتاب حالانکہ ضرورت اور اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ ابتدائی کلاسوں اور متوسط کلاسوں کیلئے عقائد شیخ یا عقائد مجلسی اور بڑی کلاسوں کیلئے تفسیر مجمع البیان یا تفسیر صافی، اصول و فروع کافی اور عقائد میں عماد الاسلام غفرآن مآب یا ان کے فرزند سلطان العلما کی حدیقہ سلطانیہ یا علامہ کی کفایۃ الموحدین یا میری کتاب احسن الفوائد برائے مطالعہ متعین کی جائے۔
سوال: کیا آپ اس نصاب میں کوئی تبدیلی تجویز کرنا چاہیں گے؟
جواب: ذوالمقدمہ پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے اور قرآن و محمد و اال محمد علیہم السلام کے فرمان کو داخل نصاب کرنا چاہئے۔
سوال: کیا آپ مدارس کے داخلی نظام اور علمی و معنوی ماحول سے مطمئن ہیں؟
جواب: مطمئن نہیں ہوں۔ علمی اور معنوی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: مدارس کے داخلی نظام اور علمی و معنوی ماحول میں بہتری کیلئے آپ کوئی تجاویز دینا پسند کریں گے؟
جواب: اس مقصد کیلئے میں یہ تجویز دینا پسند کرتا ہوں کہ نصاب تعلیم میں تبدیلی لازم ہے۔ نصاب میں قرآن مجید کی کوئی مناسب تفسیر اور کتب اربعہ میں سے کوئی کتاب اور عقائد ایمانیہ میں سے کوئی کتاب مقرر کی جائے۔ منبر پر نا اہلوں کی وجہ سے لوگوں کو خراب عقائد کی اصلاح کیلئے نصاب میں تبدیلی لازمی ہے۔
سوال: مدارس علمیہ پاکستان کی فعالیت کو ایک صدی مکمل ہونے کو ہے۔ مگر مدارس کے علمی معیار میں جتنی ترقی پہلے بیس تیس سالوں میں ہوئی اس رفتار سے گذشتہ چالیس پچاس سال میں کوئی قابل ذکر علمی اضافہ نہیں ہوا۔ ہمارے مدارس نے درسی کتب، شروح و حواشی یا دیگر علوم و فنون میں طرز اول کی علمی کتب یا نظریہ پر داز علمی شخصیات پیدا نہیں کیں۔ چند کتب اور متون کی ترجمہ نما تدریس پر بات رکی ہوئی ہے۔ آپ کی رائے میں اس رکود اور پسماندگی کے اسباب کیا ہیں اور مجموعی علمی جہش اور ترقی کیلئے کیا ہونا چاہئے؟
جواب: سہل انگاری اور آرام طلبی کے علاوہ اس کی کوئی اور وجہ نہیں حالانکہ ماحول اور زمانے کے بدلنے سے اس کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ اس لئے نئے ماحول کے مطابق نئی کتابیں مرتب ہونی چاہئیں، سابقہ مفید کتابوں کے تراجم ہونا چاہئیں اور بعض متون کی جامع شرحوں کی ضرورت ناگریز ہے۔
سوال: ہمارا قومی منبر بھی شدید انحراف اور زوال کا شکار ہوچکا ہے۔ کیا یہ مدارس علمیہ اور بزرگان قوم کی ایک طرح کی ناکامی نہیں ؟ اس قومی بحران کو دور کرنے کیلئے آپ کی رائے میں کیا اقدامات ہونے چاہئیں؟
جواب: میری تحقیق کے مطابق قوم و ملت کی تمام خرابیوں کی وجہ منبر کا جاہل ذاکروں اور بے دین مولویوں کے قبضہ میں چلے جانا ہے۔ قوم میں جہالت ہو یا عقائد کی خرابی۔ بد عملی ہو یا اتحاد کا فقدان، سب کچھ اسی وجہ سے ہے لہٰذا تطہیر منبر اشد ضروری ہے اور اس کیلئے دیندار علماء اور خطبا کی ضرورت نا گزیر ہے۔
سوال: آپ کی نگاہ میں نسل جدید کو کن موضوعات پر زیادہ توجہ دینا چاہئے اور اس کیلئے اس کیا کرنا چاہئے؟
جواب: قرآن اور آل محمد علیہم السلام کے فرمان اور علمائے اعلام کے کلام پر نگاہ رکھنے والوں کے نزدیک سب سے پہلے عقائد کی صحت، عمل کی ضرورت، قوم کے اتحاد و اتفاق پر توجہ دینا ضروری ہے۔
سوال: آپ کی چند پسندیدہ کتب اور علمی و قومی شخصیات کونسی ہیں؟ اور پسندیدگی کی وجوہات کیا ہیں؟
جواب: اس سوال کا جواب تفصیل طلب ہے۔ چند سطروں میں مختصر جواب سے تشنگی دور نہیں ہوگی۔
سوال: کیا مدارس کے اندر تحصیلات کے تکمیلی مرحلے پر تبیلغ، تدریس، ترجمہ و تالیف، تحقیق، مدیریت و قومیات جیسے شعبے قائم کرکے طلبہ کی عملی تربیت کی ضرورت سے آپ اتفاق فرماتے ہیں؟
جواب: اس کی ضرورت نا قابل انکار ہے۔ مدارس ایسا کریں گے تو خدا اور رسول اور آئمہ ہدا علیہم السلام کے نزدیک سرخرو ہونگے اور قوم و ملت کی صحیح خدمت کرکے ماجورو مثاب ہوں گے اور تشکیل مدارس کے صحیح مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
سوال: اگر آپ اتفاق فرماتے ہیں تو اس کے حوالہ سے کچھ راہنمائی فرمائیں کہ یہ مہم کیسے انجام پائے؟
جواب: سابقہ سوال کے جواب میں اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک اعلی حوزوی اقدار کونسی ہیں کہ جن کی پاسداری حوزات علمیہ کیلئے لازم ہے اور ان کونسل بہ نسل منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
جواب: کام، کام، کام،۔۔۔۔ تب ملے گا آرام۔۔۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ انشاء اللہ
سوال: مدارس علمیہ کی نئی نسل کے مہتممین/ پرنسپل حضرات کو آپ کیا پیغام دینا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں؟
جواب: مدارس دینیہ کے جواں سال مدرسیں کو بزرگ علمائے اعلام کی راہ علم و عمل میں کوششوں اور کاوشوں کا مطالعہ کرنے کی تاکید کروں گا کہ انہوں نے کن مشکل حالات و سانحات کا سامنا کر کے علم حاصل کیا اور کونسی مشکلات کا سامنا کر کے آنے والی نسلوں کیلئے کیا کارنامے سر انجام دئیے اور کس طرح جانوں کے نذرانے پیش کر کے ہماری دنیا و آخرت سنوارنے کیلئے کاوشیں کیں۔ شکر اللہ مساعیہم الجمیلہ و جزاہم جزاء الخیر بجاہ محمد و آل محمد علیہم السلام
سوال: مدارس علمیہ کے جوان مدرسین حضرات کو آپ کیا پیغام دینا پسند فرمائیں گے؟
جواب: میں وہی نصیحت کرنا پسند کروں گا جو قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ (لیس للانسان الا ما سعی) ہر انسان کو دنیا و آخرت مین وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کدو کاوش، جدوجہد کرتا ہے۔ حدیث میں معصوم فرماتے ہیں (یقول العلم اعطنی کلک اعطیتک) بعضی تو مجھے اپنا پورے کا پورا دے دے تب میں تجھ کو اپنا کچھ حصہ دوں گا۔ اس سلسلہ میں رسالہ منیۃ المرید فی آداب المفید و المستفید کا مطالعہ کرنا بہت مفید رہے گا۔ انشاء اللہ
سوال:مدارس علمیہ کے طلبہ کو آپ کیا نصیحت فرمانا چاہیں گے؟
جواب: اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ آپ کے سوالات کے جوابات میں ضرورت کی سب باتیں بیان کردی گئی ہیں۔ بس خلوص نیت اور عملی جدوجہد اور درست طریقہ پر عمل کرکے کامیابی کو یقینی بنائیں۔ انشاء اللہ
سوال: آخری سوال مگر ہمارے لئے بہت اہم سوال یہ ہے کہ باقر العلوم فاونڈیشن کیلئے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ ہم آپ کے تجربات اور فرمودات سے پورا پورا استفادہ کر کے مدارس علمیہ کی علمی اور فکری ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
جواب: خلوص نیت، عملی جدوجہد اور درست طریقہ پر عمل کر کے کامیابی کو یقینی بنائیں۔
آخر میں تہہ دل اور صمیم قلب سے آپ کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ بزرگان کا سایہ ملت کے سر پر تا دیر قائم رکھے اور صحت و سلامتی کے ساتھ آپ کو طول عمر کرامت فرمائے اور آپ کی شاندار خدمات کو ہمارے لئے مشعل راہ اور اسوہ عمل قرار دے۔ آمین بجاہ محمد و آلہ الطاہرین۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18423

آپکی رائے

  1. ماشااللہ بہت ہی خوب اچھی کاوش بزرگ علما سے استفادہ کرنا چاہیے