0

حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کا انٹرویو |قسط 4

  • News cod : 22329
  • 12 سپتامبر 2021 - 19:27
حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کا انٹرویو |قسط 4
کوٹ ادو میں ہر روزایک پارہ قرآن پاک کا زبانی پڑھتا تھا جیسے ہمارے اہلسنت پڑھتے ہیں اور ان کی تراویح ختم ہوجاتی اور ہم اس پورے پارے کے ترجمہ کا خلاصہ بتاتے تھے کہ کیا ہے

(گذشتہ سے پیوستہ)

سوال : اس وقت حوزہ نجف میں طلاب کی کل تعداد کتنی تھی؟ اور پاکستانی طلاب کتنے تھے ؟
جواب:نجف اشرف میں اس وقت طلاب کی تعداد زیادہ سے زیادہ 5000 تھی۔ جس میں ہر قسم کے طالب علم تھے، ایرانیوں کی اکثریت تھی، افغانی بھی تھے۔ پاکستانیوں کی تعداد تقریبا کوئی 25 یا 26 سے زیادہ نہیں تھی۔ البتہ جس میں پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد کے بھی تھے۔ اس کے علاوہ بلتستان کے تقریبا 15،20 کے قریب رہتے تھے۔ اس طرح کل ملا کر ساری تعداد 45، 46 ہوجاتی ۔ طلباء کی مجلس ہوتی تھی اور بلتستانی حضرات اپنی زبان میں مجلس کرتے تھے۔
پاکستانی اور ہندوستانی طلباء مل کر بھی مجلس کرلیتے تو 40،35 تک کی تعداد ہوجاتی تھی۔ ہمارے ساتھی جو پاکستانی تھے اور پہلے سے رہ رہے تھے ان میں مولانا شیخ منظور نجفی، یہ سرگودھا سے تشریف لے گئے تھے اور 1952 ء میں پہنچ گئے تھے۔ مولانا صادق علی نجفی جو بعد میں دوبئی میں ہوتے تھے۔ اس زمانے میں اے جی آفس کی ملازمت چھوڑ کر گئے پھر اس کے ایک سال بعد مولانا حسن ظہیر گئے۔ اسکے علاوہ جامعۃ المنتظر کے مولانا غلام حسین صاحب، مولانا ملک اعجاز حسین صاحب، مولانا کرامت علی شاہ صاحب، یہ 4 ساتھی تو ہم نجف اشرف سے تھے۔ مولانا ضمیر باقر صاحب بھی یہیں جامعۃ المنتظر سے گئے تھے۔ ایک ڈیرہ غازی خان کے تھے حاجی رمضان بھولے بھالے تھے لیکن مجالس وغیرہ پڑھتے تھے۔ مولانا کاظم علی نجفی صاحب تھے، احمد پور سیال جھنگ سے گئے تھے۔ ہم سے کچھ پہلے مولانا عاشق حسین نجفی بھی وہاں پڑھ رہے تھے جو جامعۃ المنتظر سے گئے تھے۔ بہر حال ابتداء میں یہی طالب علم تھے جو وہاں پڑھتے تھے اور بھی کچھ حضرات تھے۔
سوال : اس وقت کے چند مشاہیر مدرسین کون تھے؟
جواب: آیت اللہ خوئی کو علم کا پہاڑ کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں آیت اللہ محسن حکیم مرحوم مرجع تقلید تھے۔ اسی طرح آقای شاہرودی بہت بڑی شخصیت تھے۔ ان کا درس بھی ہوتا تھا۔ آقای شیخ حسین حلی ابتدا میں تو ہمیں پتہ نہ چلا کہ یہ بہت بڑے عالم ہیں کیونکہ ان کی شکل و صورت ہماری طرح ہی تھی تو بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ بہت بڑی شخصیت ہیں وہ بھی درس خارج دیتے تھے۔ مرزا باقر زنجانی اس زمانے میں درس خارج دے رہے تھے۔
کاظم ترک اس وقت صرف کفایہ کا درس پڑھاتے تھے اور کوئی نہیں۔ ملا صدرا بھی مکاسب رسائل پڑھایا کرتے تھے البتہ ملا صدرا نے مکاسب کا درس شروع کیا۔ سب سے اچھا درس مکاسب کا آقای جواد تبریزی کا تھا اور اس درس میں 100 سے زیادہ طلاب ہوا کرتے تھے۔ آقا جواد تبریزی کا درس سب سے زیادہ تھا یعنی یہ اس وقت کے مشاہیر مدرسین سمجھے جاتے جاتے تھے۔
سوال : اس وقت کے اساتذہ اور طلاب کے مالی حالات کیا تھے؟
جواب:نجف اشرف کی زندگی میں سب سے اچھی چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ پیسے تو اکثر طلباء کے پاس نہیں ہوتے تھے۔ ہمارا شہریہ صرف ۴ دینار تھا۔ ایسی صورت میں پھر دکان پر چلے جاتے اور روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء خرید کرنی ہوتی تھیں۔ انہوں نے کبھی یہ طلب نہیں کیا تھا کہ کسی آدمی کو ساتھ لائیں۔ رجسٹر آگے کردیتے اپنا نام بھی لکھتے اور سامنے پاکستان بھی لکھ دیتے وہ ہمیں روز مرہ کی چیزیں دے دیتے اور جب ہمیں شہریہ مل جاتا تو ادا کردیتے۔ ایک دفعہ میری بیگم مریض ہوگئیں تھیں تو کوفہ کی ہسپتال میں ان کو داخل کرایا کوفہ اس وقت تین میل دور تھا تو روزانہ پھر دو تین دفعہ بس پر سفر کرکے جانا پڑتا تھا بلکہ ایک دفعہ میں اتنا مجبور ہوا کہ جن سے میں سودا لیا کرتا تھا اس سے میں نے ۵ درہم ادھار لئے حالانکہ پیسے ان سے ادھار لینا معمول نہیں تھا لیکن اس نے مجھے دے دیا۔ اساتذہ اور طلاب کا شہریہ تو بہرحال اتنا ہی تھا جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ۔ایرانی حضرات کو شہریہ بھی تقریبا تمام مجتہدین کا ملتا تھا اور اس کے علاوہ بھی ان کے علاقے کا کوئی آدمی آتا تو گھر جاتا چائے پینے کے بعد جاتے وقت ان کے تکیہ کے نیچے پیسے وغیرہ رکھ کر چلا جاتا، ان کی حالت بہت بہتر تھی لیکن انڈین، افغانی، پاکستانی مالی لحاظ سے بہت کمزور تھے۔
سوال : نجف اشرف میں آپ کب تک مقیم رہے؟ کس سطح تک تعلیم حاصل کی اور وطن واپسی کب ہوئی؟
جواب: نجف اشرف میں 1968ء تک رہا ہوں۔ میرے والد صاحب 11 جنوری 2003ء کو فوت ہوگئے ہیں۔ یہ جس وقت ہمارے بھائی مولانا قاضی سید نیاز حسین نقوی پیدا ہوئے تھے اس کے دو سے تین مہینے بعد ایک پھوڑا نکلا تھا ۔ اس کا انہوں نے آپریشن کرایا اور زندگی میں پہلی دفعہ میں نے چھٹی لی اورمولوی صاحب قبلہ نے مجھے خود بھیجا تو میں علی پور گیا۔ 15 دن وہاں ان کے ساتھ رہا تھا۔ پھر مولوی صاحب قبلہ نے فرمایا ان کو جلال پور ننگیانہ لے آئیں۔ ڈاکٹر تقی شاہ تو آنکھوں کے تھے لیکن بہت بڑا ہسپتال تھا وہاں ان کے توسط سے تقریبا ۶ آپریشن ہوئے اب اس کے بعد وہ کام کرنے کے قابل نہیں تھے۔
ہماری گائیں، بھینسیں، بیل کے ۴ جوڑے ہوا کرتے تھے جو ہل وغیرہ چلاتے تھے۔ یہ سب پھر ختم ہوگئے، کھاتے رہے ان کو، جو نوکر تھے جس کو رکھا جاتا تھا وہ کام کیا کرتا ؟ انہوں نے پھر اصرار کیا کہ میں واپس آجاوں۔ خطوط شروع ہوگئے تھے اس وقت تو مجھے تھوڑا عرصہ ہوگیا تھا۔ 1968ء میں آقای خوئی سے ہم نے درس خارج پڑھ کر واپس آئے ۔ ضد کی بحث سے لے کر اصول عملیہ تک اور اسی طرح ان کے درس خارج فقہ میں بھی ہم تقریبا کتاب الحج تک پہنچ چکے تھے۔ آقای خمینی کے درس میں درس خارج، مکاسب پڑھے ہیں۔
سوال : آپ نے پاکستان میں کب اور کہاں کہاں پڑھایا؟
جواب: نجف اشرف میں جب نہیں گیا تھا تو جامعۃ المنتظر لاہور میں، میں آیا تو یہاں مولانا اختر عباس نجفی صاحب قبلہ سے ملاقات ہوئی تو یہ مجھے معانقہ کی حالت میں ملے ہمارا پہلا موقع تھا کہ کوئی استاد ہم سے معانقہ کر کے ملے۔ چونکہ مولانا محمد یار شاہ صاحب کے ہاں تو مصافحہ کیاجاتا تھا یا گھٹنے پر ہاتھ رکھا جاتا تھا تو انہوں نے اس وقت فرمایا کہ اگر ہماری پڑھائی پسند ہو تو آپ نے پڑھانا بھی ہے۔ تو جیسے میں نے عرض کیا کہ 1958 ء سے میں نے پڑھا بھی رہا ہوں۔ عراق جانے کا کرایہ بھی جامعۃ المنتظر نے دیاتھا۔ بہر حال واپسی پر جامعۃ المنتظر سے دعوت دی گئی اور کرایہ بھی بھیجا گیا البتہ جس وقت گھر میں، میں واپس آیا ہوں تو ایک دن حافظ محمد ثقلین صاحب استاد العلماء کا میرے پاس پیغام لائے کہ قبلہ آپ کو بلا رہے ہیں۔ اس وقت میں ملتان سے آیا تھا اور گھر بھی نہیں پہنچا، نہ ہی ناشتہ کیا تھا۔
مولانا ملک اعجاز حسین صاحب کی کتابیں لایا تھا جو ان کے حوالے کیں ریلوے اسٹیشن سے ہی حافظ ثقلین صاحب نے استاد العلماء کے حکم پر مجھے گھوڑی پر بٹھا کر ان کی خدمت میں پہنچایا تو استاد العلماء نے فرمایا کہا گیا تھا؟ باب العلوم کیلئے آپ کی ضرورت ہے لہٰذا آپ میرے ساتھ چلیں۔ میں نے ان کو کہا کہ میری دعوت ہے میں نے وعدہ کیا ہوا ہے۔ لیکن انہوں نے سنی ان سنی کردی تو مجھے وہ ملتان لائے۔ مجھے مدرسہ میں بٹھا کر خود سید جلیل شاہ گردیزی کے پاس چلے گئے وہ باب العلوم ملتان کے متولی تھے۔ انہوں نے وعدہ کر لیا کہ یہاں یہ پڑھائیں گے۔ میری تنخواہ 300 روپے معین کی گئی۔ مجھے کہا کہ آپ یہاں قیام کریں میں جاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ قبلہ میں اب آیا ہوں نجف سے فلاں فلاں پھوپھیاں آئی ہیں ان سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے میرے لئے 15 دنوں کی چھٹی لی۔
10 اکتوبر 1968 ء کو میں جامعۃ المنتظر لاہور آیا اور وائس پرنسپل کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ جب میں وسن پورہ میں تھا تو سرگودھا کی طرف سے بھی مجھے دعوت ہوئی تھی لیکن میں نہیں گیا کیونکہ میں یہاں پڑھا رہا تھا تو گویا ایک ہی مدرسہ جہاں میں نے تدریس کی اور یہیں سے ہی پڑھاتھا واپسی ادھر ہی ہوئی ۔
سوال آپ کن مساجد یا اداروں سے وابستہ رہے ہیں؟
جواب : سب سے پہلے 1969 ءمیں، میں امامیہ کالونی جا کر رہا ۔ خدا درجات بلند کرے مولانا صفدر حسین نجفی کے وہاں 10 مرلے زمین تھی ڈیڑھ مرلے تو لوگوں نے کسی اور طرف کر دی تھی اور باقی ساڑھے آٹھ مرلہ پر اس وقت 5000 اور کچھ سوروپے خرچ ہوئے تھے ۔ مجھے دو کمرے ڈال دیے تھے اور چار دیواری واش روم وغیر ہ تھا ۔ ماہ رمضان میں بغیر دعوت کے وہاں کی مسجد میں، میں نے رمضان شریف پڑھایا ۔ میں نے سوچا اگر لوگ نہیں بلا رہے تو مجھے خود جانا چاہیے کیونکہ میں مولوی ہوں میرا کام تبلغ ہے ۔ نجف اشرف سے پڑھ کر آیا ہوں ، میں نے دیکھا کہ پہلے دن 3 آدمی تھے دوسرے دن جب گیا تو پھر بھی وہی 3 آدمی تھے ۔ پھر خادم مسجد کے علاوہ جو آدمی تھے میں نے ان کی ڈیوٹی لگائی کہ ہر گھر میں جائیں اور انہیں مسجد میں آنے کی دعوت دیں اور جو دو تین بڑے آدمی تھے ایک سادات سنکھترہ رہتے تھے اور ایک مہاجرین یہ دو بڑے گروپ تھے وسن پورہ سے گئے تھے ۔ سنگھتر سادات کے بڑے سید ابرار شاہ صاحب کو میں نے کہا اور مہاجرین کے زیدی صاحب ہوتے تھے شاعر بھی تھے ان کے گھر میں چلا گیا جہاں سب سید مہدی شاہ سے ناراض تھے ، اس کی مسجد میں کیسے جائیں ۔ میں نے کہا مسجد تو خانہ خدا ہے ۔ چائے پر 12،10 آدمی اکٹھے ہو گئے ۔ بات چیت ہوئی اور پھر مجھے گھر تک چھوڑنے آئے تو ان کو بھی میں نے نماز کیلئے آنے کو کہا ۔ اس کے بعد 80 کے قریب آدمی شام کو ہوتے تھے اور 80 کے قریب آدمی صبح کی نماز میں ہوتے تھے اور میں با قاعدہ درس قرآن دیتاتھا آدھا گھنٹا اور پھرفورأ جامعہ المنتظر کی طرف آجاتا تھا ۔ شام کو تو بچے بھی ہوتے تھے لیکن صبح کے ٹائم کوئی بچہ نہیں ہوتا تھا ۔ سارے بزرگ ہوتے تھے 80 آدمی اس مسجد میں ۔ پھر مغل پورہ کی مسجد میں نجف جانے سے پہلے بھی میں نے کئی جمعہ پڑھائے تھے ۔ اس وقت ایک تھڑا ہوتا تھا جس پر شامیانے لگا کر جمعہ پڑھایا جاتا تھا ۔ حافظ سبطین صاحب یہاں رہتے تھے تو وہ ایران چلے گئے ۔ اور پھر مجھے مغل پورہ کی مسجد کے چار آدمیوں کا وفد دعوت دینے آیا اور تقریبا گیارہ سال تک اس مسجد میں نماز پڑھاتا رہا ہوں ۔ اور اس مسجد کو عروج تک پہنچایا ہے ۔ جتنے ایرانی علماء آئے ہیں آیت الله یحیی نوری ہیں ناطق نوری ہیں اور جتنے حضرات آئے ہیں ان کو ہم باقاعدہ دعوت دیتے رہے ہیں۔
محمد علی شیرازی ، آقای عبدالله شیرازی کے بیٹے اور ان سے جمعہ اور عصر کی نماز کے درمیان آدھا گھنٹا تقریر کراتے تھے ۔ اور پھر دسمبر 1992 ء سے یہاں جامعة المنتظر کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھا رہا ہوں ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ مولانا شمیم سبطین رضوی کے گھر لندن میں تھے تو انہوں نے مجھے پیغام دیا کہ سیٹھ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ میں نے کہا وہ آئیں گے تو ان کا بیٹا محمد رضا اور مولانا غدیری صاحب بھی ساتھ ہوں گے آپ کے پاس ان کی رہائش کا بندوبست ہے ؟ خود مولانا مجھے مانچسٹر لے گئے ۔ رات دس بجے سے صبح سحری تک میٹنگ ہوتی رہی وہ مجھے کہتے تھے کہ آپ جمعہ پڑھائیں تو میں نے کہا کہ ایک ہی تو چھٹی ہوتی ہے والدین اور بچوں کو وقت دینا ہوتا ہے ۔ بہرحال سحری کے وقت طے ہو گیا کہ میں جمعہ پڑھاؤں گا ۔ اور دسمبر 1992 میں پہلا جمعہ پڑھایا تھا اور الحمداللہ 1470 سے زیادہ جمعہ ہو چکے ہیں اور ابتداء میں تقریبا10,12 سال ایک جمعہ کا بھی میں نے ناغہ نہیں کیا ۔ حتی کہ اگر کراچی سے بھی مجھے آنا پڑا ہے تو میں نے جہاز سے آ کر جمعہ پڑھایا ہے ۔ البتہ طالب علمی کے زمانے میں یہاں رہتا تھا تو ایک ماہ رمضان منھاں شریف کوٹ ادو گیا ۔ کوٹ ادو کیلئے میں نے یہ کیا کہ جب وہ افطار وغیرہ کر لیتے تھے تو میں ایک پارہ قرآن پاک کا زبانی پڑھتا تھا جیسے ہمارے اہلسنت پڑھتے ہیں اور ان کی تراویح ختم ہوجاتی اور ہم اس پورے پارے کے ترجمہ کا خلاصہ بتاتے تھے ۔ اس سے اہلسنت حضرات بھی بہت خوش ہوتے تھے اصل تراویح تو یہ ہے کہ جس میں بتایا جارہا ہے کہ قرآن پاک کہتا کیا ہے ٹھٹھہ محمد شاہ میں بھی میں صبح درس قرآن دیا کرتا تھا ۔ درس قرآن سے طلاق کا مسئلہ بیان کر رہا تھا جو کہ دوسرے پارہ میں ہے تو وہاں ایک صاحب تھے جو 5,6 سال سے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے رہے تھے ۔ بڑے بڑے لوگوں نے کوشش کررکھی تھی لیکن وہ نہیں مان رہے تھے حتی کہ کئی مربعوں کے مالک حاجی حیدر شاہ جن کا کربلا میں مسافر خانہ ہے نے بھی کوشش کی لیکن بات نہیں بنی ۔ مجھے تو علم نہیں تھا اور میں نے کوشش کی تو بس بیان کر رہا تھا کہ اگرعورت اور مرد میں ناچاقی ہو جائے اور عورت کسی صورت بھی رہنے کیلئے تیار نہیں تو مردکو چاہیے کہ وہ طلاق دے ۔ ورنہ اگر یہ گناہ کرے گی تو مرد کو سزا ہوگی کہ جب وہ آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو آپ نے طلاق کیوں نہیں دی ۔ وہ آدمی نمازی تھا ہمارا بہت نیک آدمی تھا اور وہاں سید محسن علی شاہ تھے ہمارے میزبان بہت نیک آدمی تھے ان سے کہا کہ طلاق کے لئے تیار ہوں ۔ میں ان کی بیٹھک میں ہی مہمان کے طور پر تھا وہاں صیغہ طلاق پڑھایا گیا حتی کہ حاجی حیدر شاہ صاحب کہتے تھے کہ ہم حیران ہیں کہ اتنے امیر آدمی کی بات کو نہیں مانا آپ کی بات کو مان گیا ۔ میں نے کہا میری بات نہیں میں نے تو صرف قرآن مجید بیان کیا ہے اور احادیث ذکر کیں۔ مدارس بھی 2 ہی رہے ہيں ایک دارالعلوم محمدیہ جلال پور اور جامعہ المنتظر لاہور۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=22329