1

ایام فاطمیہ کی اہمیت ہمارے لئے ایام محرم کی طرح ہے، علامہ علی اصغر سیفی کی وفاق ٹائمز سے گفتگو

  • News cod : 27610
  • 06 ژانویه 2022 - 12:34
ایام فاطمیہ کی اہمیت ہمارے لئے ایام محرم کی طرح ہے، علامہ علی اصغر سیفی کی وفاق ٹائمز سے گفتگو
ایام فاطمیہ کے اندر ضروری ہے کہ ہم بی بی اور امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مابین جو رابطہ ہے اس کو بیان کریں یہ تو واضح سی بات ہے کہ امام زمان کی بی بی مادر اور حجت ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی فرزند مرحوم علامہ حافظ سیف اللہ جعفری، 1975ء میں چونیاں ضلع قصور میں پیدا ہوئے۔1990ء میں میٹرک کے بعد جامعۃ الرضویہ عزیز المدارس میں دینی علوم کے حصول کے لئے داخلہ لیا۔1995ء میں سلطان الافاضل کے امتحانات پاس کرکے حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا۔ 1998ء میں حوزہ علمیہ کے اعلیٰ سطحی دورس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر عج لاہور میں بعنوان استاد درس و تدریس میں مصروف عمل رہے۔

2000ء میں پاکستان سے دوبارہ ایران آئے تاہم حوزہ علمیہ قم میں مجتہدین عظام کے درس خارج سے کسب فیض کرتے رہے اور آپ کو الٰہیات اور مہدویت جیسے اہم موضوعات پر مکمل مہارت حاصل ہے۔ تقریباً 20 سال سے فقہی ، کلامی اور مہدویت کے موضوعات پر درس و تدریس کے علاوہ کلامی،قرآنی، اصولی،مہدوی اور فقہی موضوعات میں تحقیق و تالیف اور ترجمہ کر چکے ہیں۔
آپ کے چالیس سے زیادہ مقالات اور کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں اور اس وقت وفاق المدارس الشیعہ پاکستان شعبۂ قم اور موسسۂ فقہی دارالثقلین کے سربراہ ہیں اور سات سال سے مدرسہ الامام المنتظر عج کے ادارۂ تعلیم و تربیت کے نائب سربراہ اور اس ادارے کے علمی گروہ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

وفاق ٹائمز نے ایام فاطمیہ کی مناسبت سے ان سے گفتگو کی ہے جسے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

وفاق ٹائمز: آپ کی نظر میں ایام فاطمیہ کی اہمیت اور ضرورت کیا ہے؟
علامہ سیفی: ایام فاطمیہ کی اہمیت ہمارے لئے ایام محرم کی طرح ہے۔امام حسینؑ کی عزاداری کی طرح مکتبِ تشیع میں ایام فاطمیہ بھی شعائرِ الٰہی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللَّهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَي الْقُلُوبِ
جو بھی پروردگار کے شعائر کا احترام کرے گا یہ اس کے قلب کے پاکیزہ ہونے کی نشانی ہے،
کیونکہ ایام فاطمیہ کے اندر دین زندہ ہوتا ہے اس میں ہمارے مسلمات و عقائد اسی طرح ائمہ علیہم السلام کی سیرت بالخصوص بی بی دو عالم کی سیرت،اوصاف،مختلف فرامین اور بی بی کا اس وقت جو انفرادی و اجتماعی کردار تھا جو کہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے،دوسرے لفظوں میں مکتبِ تشیع زندہ ہوتا ہے ان ایام میں ہمارے علمائے دین مخفی پہلوؤں کو بی بی فاطمہ س کی نگاہ سے بیان کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ بی بی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زندگی گزاریں۔
بی بی کی زندگی ایک الہی زندگی تھی اور مکمل طور پر سنت رسول ص کے مطابق زندگی بسر کر رہی تھیں سنت رسول اور پرودرگا کے فرامین قرآن کا خلاصہ ہیں۔بی بی کی زندگی تو مکمل دین ہے تو لہٰذا ہم ایام فاطمیہ میں دوبارہ دین کو لوگوں کے اندر زندہ کرتے ہیں اور بی بی مقامِ محورِ ولایت ہیں اور ہمارے تمام ائمہ علیہم السلام نے بی بی کو اپنے اوپر حجت قرار دیا ہے لہٰذا بی بی کی وہی نگاہ ہے جو مکتب اہلبیت علیہم السلام کی نگاہ ہے۔
اس اعتبار سے یہ ایام ہمارے لئے بہت اہمیت کے حامل ایام ہیں۔  

وفاق ٹائمز:ایام فاطمیہ کیسے ظہورِ امامِ زمانۂ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے زمینہ ہو سکتے ہیں؟
علامہ سیفی: ایام فاطمیہ کے اندر ضروری ہے کہ ہم بی بی اور امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مابین جو رابطہ ہے اس کو بیان کریں یہ تو واضح سی بات ہے کہ امام زمان کی بی بی مادر اور حجت ہیں۔ بی بی کے فرامین میں امام زمان کا ذکر ہوا ہے اور امام زمان کے فرامین میں بھی بی بی کا ذکر ہوا ہے، لیکن جو خود امام زمان کے حوالے سے بی بی کے فرامین ہیں ان کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے،تو ہمارے سامنے ایک معیار آئے گا کہ زمانے کے امام کے لئے کس طرح جدوجہد کی جائے بی بی کو ہم دیکھیں تو آپ اپنے زمانے کی جو حجت تھی امیر المؤمنین کے لئے کیسے جدو جہد کی؟امام علیہ السلام کو مقامِ حکومت تک پہنچانے کے لئے مقامِ خلافت تک پہنچانے کے لئے،جو کہ امام کا حق تھا ہم دیکھتے ہیں بی بی گھر تک محدود نہیں رہیں بی بی کا لوگوں سے ملنا اور بی بی کا وہ خطبہ جو آپ نے خلیفۂ اول کے دربار میں دیا اور اس کے اندر دین کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کی خاطر گھر سے نکلنا جیسے آج امام غائب ہیں ان کی خاطر ہم اپنے اپ کو تیار کریں اور ان کی معرفت اور ان کی منشاء کے مطابق چلنا اور جو ذمہ داری ہے ان کو نبھانا اور اس طرح جدوجہد کریں جس طرح بی بی نے اپنے زمانے کے امام امیر المؤمنین کے لئے جہدو جہد کی تھیں بی بی کے امام زمان کے بارے میں بھی فرامین موجود ہیں جس میں ہمارے لئے جدوجہد کا پہلو ہے یہاں تک کہ فرماتی ہیں میرا بیٹا مظلوم ہے کیونکہ آپ لوگ انہیں یاد نہیں کرتے ان کے لئے قدم اٹھائے۔
ایام فاطمیہ میں ہم بی بی کو اپنے لئے مشعل راہ اور اسوہ قرار دیں گے اور اسی طرح قدم اٹھائیں گے جس طرح بی بی نے امیر المؤمنین کے لئے قدم اٹھایا تھا۔

وفاق ٹائمز:حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کیسے عالمین کی خواتین کیلئے نمونہ ہیں؟

علامہ سیفی:حضرت فاطمہ ؑ صرف زنان عالم اور خواتین کے لئے نمونۂ عمل نہیں ہیں بلکہ ہمارے لئے بھی نمونہ ہیں بلکہ ساری امت کے لئے اسوۂ حسنہ ہیں، یہ امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا بڑا مشہور فرمان ہے:رسول اللہ (ص) کی بیٹی فاطمہ زہرا (س) میرے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔
بی بی جب ہمارے امام کے لئے اسوہ ہیں تو ہمارے لئے بھی اسوہ حسنہ ہیں ہمارے امام فاطمی ہیں،لہٰذا ہمیں بھی اپنی زندگی میں فاطمی اوصاف پیدا کرنا چاہئے۔
بی بی کونسی صفات کی وجہ سے خواتین کے لئے اسوہ حسنہ بن سکتی ہیں؟
عام طور جو ہمارے ماہرین ۵ پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ پروردگار کی معرفت خود خدا کی عبودیت ہے اس پہلو میں بی بی سب کے لئے اسوہ ہیں جیسا کہ امام حسن ؑ سے نقل ہوا ہے پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتی تھیں اور لوگوں کا نام لے کر دعا کرتی تھیں اور اپنے لئے دعا نہیں کرتی تھیں جب امام نے پوچھا آپ اپنے لئے دعا کیوں نہیں کرتیں تو فرمایا پہلے ہمسایہ پھر ہم ،یا ہم دیکھتے ہیں خود پیغمبر بی بی کی عبادت کو دیکھ کر یا مقام عبودیت کو دیکھ کر فرماتے تھے میری بیٹی اپنے عقائد میں مقام یقین تک پہنچی ہوئیں ہیں اور ایک دفعہ جبرئیل آتے ہیں اور پروردگار کا پیغام پہنچاتے ہیں اور پیغمبر سے فرماتے ہیں آپ فاطمہ سے کہیں کہ جو حاجت ہے وہ مجھ سے مانگیں تو بی بی فرماتی ہیں مجھے لذت عبادت کے علاوہ کوئی چیز نہیں چاہئے جس شخص کو لذتِ عبادت حاصل ہو اس کو کسی دوسری چیز کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہے۔میں اپنی حاجت روائی کے لئے اللہ تعالیٰ کے کریم وجود پر نظر رکھنا چاہتی ہوں۔
ہم دیکھتے ہیں بی بی نے خدا کو چاہا ہے اور خدا کے علاوہ بے نیاز ہیں یہ ہمارے لئے اسوہ ہے تمام امور میں خدا کو مد نظر رکھیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں بی بی ہماری خواتین کے لئے ایک زوجہ کے اعتبار سے بھی بہترین مشعل راہ ہیں کہ بی بی نے کس طرح اپنے شوہر کے ساتھ وقت گزارا اور ہم دیکھتے ہیں،ایک وقت ایسا آیا کہ جب امیرالمؤمنین علیہ السلام گھر آئیں تو دیکھا کہ کھانا نہیں ہے اور بی بی سے پوچھتے ہیں تو فرماتی ہیں کھانا تھوڑا سا تھا بچوں کو کھلایا ہے اور میں خود بھی بھوکی ہوں فرماتے ہیں آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا تو آگے سے فرمایا کہ جب بابا کے گھر سے میری رخصتی ہوئی تھی تو میرے بابا نے فرمایا تھا کہ کبھی بھی فرمائش کر کے اپنے شوہر کو مشکل میں نہ ڈالنا تو شرم آتی ہے مجھے آپ کے حالات کا علم ہے اور میں کوئی فرمائش کروں اور آپ اس کو پورا نہ کرسکیں اور زحمت میں پڑیں یہ ایک دل سوز زوجہ کی طرف سے ہماری شادی شُدہ خواتین کے لئے اسوہ ہے اسی طرح جب امیر المؤمنین سے پوچھا گیا کہ آپ بی بی فاطمہ س کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو فرمایا بی بی کو دیکھ کر مجھے خدا یاد آتا تھا بی بی کی ساری زندگی خدا کے لئے تھی اسلئے میری فاطمہ سے محبت تھی کہ آپ خدا کے لئے زندگی کرتی تھیں صفاتِ خدائی جناب فاطمہ کےاندر تھیں جن کی وجہ سے امام ان سے محبت کرتے تھے ان ساری چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعنوان زوجہ ان کا گھر میں کردار ہے ان کو پڑھنا چاہئے اور خواتین اپنے گھروں میں اس سیرت کو سامنے رکھیں ایام فاطمیہ میں ہم بی بی کے کچھ فضائل اور مصائب پڑھ کر ختم نہ کریں بلکہ ہم اپنے اندر فاطمی صفات کو پیدا کریں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ فاطمہ کون تھیں اور ہم فاطمی شیعہ بن سکتے ہیں یا نہیں؟
بی بی کا ایک اور کردار بعنوان مادر بچوں کی تربیت کرنا ہے یہ کردار بھی ہماری خواتین کے لئے مشعل راہ ہے امام حسنؑ و امام حسینؑ کی کس طرح تربیت کی کس طرح رسول اللہ کے پاس بھیجتی تھیں کہ آنحضرت سے کچھ سیکھیں اور تکلیف کے عنوان سے جب بھی آپ کو کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تو آپ اسے بیان کرتی تھی یعنی ماں والی محبت مثلاً اس زمانے میں ایک بڑا مسئلہ پیش آیا تھا کہ مدینے میں پانی کی قلت ہوگئی بچے پیاسے تھے تو بی بی سے برداشت نہیں ہوا اور اپنے خاندان کی عظیم ہستی پیغمبر کے پاس آتی ہیں اور ان سے متوصل ہوتی ہیں اور پیغمبرﷺ اپنی زبان سے بچوں کی تشنگی دور کرتے ہیں کہ جب کوئی مشکلات آئیں تو اپنے خاندان کے عظیم اور نیک و بزرگ کی طرف رجوع کرنا یہ بھی ایک مشعل راہ ہے یا وہ واقعہ جس کی وجہ سے سورہ انسان نازل ہوا اس میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب یہی بچے بیمار ہوتے ہیں تو بی بی اللہ کی بارگاہ میں روزہ نذر کرتی ہیں شفا کے لئے پھر اس حالت میں بی بی ۳ دن بھوکی رہیں اور اسیروں فقیروں اور محتاجوں کو کھانا کھلایا تو اللہ کو یہ کام بہت پسند آیا۔خدا نے شان فاطمہ میں سورہ انسان کو نازل فرمایا اور بچوں کو بھی شفا ہوئی یہاں پر دیکھتے ہیں ماں بچوں کی تکلیف پر خدا کی بارگاہ میں نذر کر رہی ہیں اور عبودیت کے مقام کو بیان کر رہی ہیں اور ساتھ میں لوگوں میں انفاق کے ذریعے سے اپنے گھر کی مشکلیں دور کر رہی ہیں۔
اور ایک آخری کردار وہ وصیت کرنا کہ میرے بعد میرے بچے تنہا نہ رہیں آپ کسی خاتون سے شادی کریں تاکہ بچوں کو ماں کی تربیت اور آغوش میسر ہو یہ بھی بہت عظیم کردار تھا لہذا سیدہ کی زندگی ہماری خواتین کے لئے مکمل نمونہ عمل ہے۔

وفاق ٹائمز: ایام فاطمیہ میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

علامہ سیفی: ان ایام میں ہم پر ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر فاطمی صفات کو پیدا کریں اور گناہوں سے دوری اختیار کریں ۔
جیسا کہ ایک خاتون آئی اور بی بی سے سوال کیا کہ میرا شوہر آپ سے اور آپ کی اولاد سے محبت کرتا ہے آیا ہماری شفاعت ہوگی۔ اس وقت بی بی دوعالم نے تقوی کی طرف اشارہ کیا۔اہل تقوی نجات پائیں گے۔ اگر یہ ہمارے فرامین پر عمل بھی کرتا ہے تو یہ ہمارے شیعہ ہے ورنہ خدا کی کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں اور بی بی یہاں خبردار کرتی ہیں کہ گناہوں سے دوری اختیار کریں تو ہمیں بھی ان ایام میں پروردگار سے گناہ سے بچنے کا عہد کرنا چاہئے اور اپنے اندر کردارِ فاطمی کو پیدا کرنا چاہئے۔ ہمارے امام فاطمی ہیں انہوں نے بی بی کے نام سے حکومت قائم کرنی ہے ، چونکہ امام کی حکومت کے ناموں میں سے ایک نام دولت الزہراء ہے اور دولت الزہرا اس لئے ہے کہ اس حکومت میں بی بی کی آرزویں پوری ہوں گی، بی بی کے مقاصد پورے ہوں گے تو ہم بھی اپنے امام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے وجود میں بھی صفات فاطمی پیدا کرنے کی کوشش کریں،ایثار اور انفاق جیسی بنیادی صفات بی بی کی زندگی میں بہت زیادہ تھیں، اجتماعی تقوی کا خیال رکھیں جیسے بی بی بہت زیادہ خیال رکھتی تھیں جیسا کہ اس نابینا شخص کا واقعہ ہے، وہ دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن بی بی نے پھر بھی پردہ کیا اور جب پیغمبر اکرم ص نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میں تو نابینا نہیں ہوں یہ شخص نابینا ہے اور یہ میری خوشبوسونگھ سکتا ہے۔یہ بھی عمومی طور پر ہماری خواتین کیلئے درس ہے اور مردوں کے لئے بھی نمونہ ہے کہ ہم اپنے اجتماعی امور میں عفت کا خیال رکھیں تو بی بی کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے ظہور امام زمان کیلئے زمینہ فراہم کرنا ایام فاطمیہ میں ہماری ذمہ داری ہے۔

سوال:ان باتوں کے علاوہ کوئی اہم بات جو آپ عوام تک پہنچانا چاہتے ہوں۔

علامہ سیفی: اہم بات یہ ہے کہ ہم فضائل ، مصائب وغیرہ بیان کرتے ہیں لیکن ہمیں وحدت مسلمین کا بھی خیال رکھنا چاہئے ، بہت ایسی چیزیں ہیں جو حقیقت ہوں لیکن دشمنان اسلام یہ نہیں دیکھتے کہ شیعہ ہے یاسنی بلکہ وہ ان چیزوں کو اسلام کے خلاف استعمال کریں گے لہذا ہمیں اپنی صفوں میں وحدت المسلمین کا خیال رکھنا چاہئے۔
جیسے ہمارے آئمہ ؑ کا رویہ ہمیں بہترین نمونہ ہے کہ وہ ہر چیز کو بیان نہیں کرتے تھے بلکہ وحدت کا خیال رکھتے تھے اور یہی چیز رہبر معظم اور مراجع بھی بیان کرتے ہیں اور بی بی کے مصائب میں ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ اس سے ہمارے باقی مسلمان بھائیوں کے دل نہ دکھے۔
اور دوسرا یہ ہے کہ اہم اور مہم کا مسئلہ کہ امام زمان کے مقابلے میں دشمن شیطان اور ابلیس ہے تو ایک مہم کو اہم پر قربان کیا جا سکتا ہے ہمارے لئے اس وقت اہم یہ ہے کہ ہم سب مسلمان اکٹھے ہوں ، اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرکے امام مہدی (ع) کا سپاہی بنیں اور ابلیس اور ابلیس کے دشمنوں کے مقابلے میں اپنی صفوں کو مضبوط کریں اور اپنے چھوٹے چھوٹے اختلاف کو نظر انداز کریں یہ وہی سیرت ہے جس کی بی بی اور تمام آئمہ تاکید کرتے ہیں۔
آج کے دور میں اتحاد مسلمین اور تقریب المذاہب ہمارے لئے بہت ضروری ہے لہذا میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے یا تقریر کرتے ہوئے احتیاط کرنے کی ضرورت کہ ایسی بات نہ کی جائے جس سے مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف ہو۔

انٹرویو : اصغر عباس اسدی

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=27610

ٹیگز