1

فتح اور شکست میں الہی قانون کیسے اپنا اثر دکھاتا ہے؟ قرآن کی روشنی میں رہبر انقلاب اسلامی کا بصیرت افروز بیان

  • News cod : 35806
  • 04 جولای 2022 - 16:05
فتح اور شکست میں الہی قانون کیسے اپنا اثر دکھاتا ہے؟ قرآن کی روشنی میں رہبر انقلاب اسلامی کا بصیرت افروز بیان
قرآن مجید الہی سنتوں کے بیان سے بھرا ہوا ہے، میں نے عرض کیا کہ قرآن کی ابتدا سے لے کر اختتام تک جیسے جیسے آپ دیکھتے ہیں، الہی سنتوں کو بیان کیا جاتا ہے اور دوہرایا جاتا ہے، کئي جگہ یہ بھی کہا گيا ہے: سُنَّۃَ اللہِ الَّتی قَد خَلَت مِن قَبلُ وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبدیلًا(فتح آیت 23) –چار پانچ مقامات پر اس طرح کا بیان ہے–

وفاق ٹائمز، سورۂ آل عمران میں دو مواقع ہیں اور تعجب کی بات ہے کہ یہ دونوں ہی باتیں ایک ہی سورے میں اور ایک ہی قضیئے سے متعلق ہیں، البتہ دو معاملوں سے متعلق ہیں لیکن یہ دونوں معاملے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دو طرح کی سنتوں کو بیان کیا جا رہا ہے: فتح کی سنت، شکست کی سنت۔ ایک سورۂ آل عمران کی آيت نمبر 173 میں ہے: اَلَّذینَ قالَ لَھُمُ النّاسُ اِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَکُم فَاخشَوھُم فَزادَھُم ایماناً وَ قالوا حَسبُنَا اللَہُ وَ نِعمَ الوَکیلُ. فَانقَلَبوا بِنِعمَۃٍ مِنَ اللَہِ وَ فَضلٍ لَم یَمسَسھم سُوء۔ اس کا قصہ آپ نے سنا ہی ہوگا، جنگ احد ختم ہو گئي، حمزہ سیدالشہداء جیسا انسان اس جنگ میں شہید ہو گيا، پیغمبر مجروح ہو گئے، امیر المومنین زخمی ہو گئے، کافی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے، تھک ہار کر، زخمی ہو کر مدینہ واپس لوٹے، ادھر قریش، یہی دشمن جو کچھ نہیں کر پایا تھا – اس نے چوٹ پہنچائي تھی لیکن مسلمانوں سے جیت نہیں پایا تھا – یہ لوگ مدینے کے باہر، مدینے سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر اکٹھا ہوئے، انھوں نے فیصلہ کیا کہ آج رات حملہ کریں گے، یہ لوگ تھکے ہوئے ہیں، یہ کچھ کر نہیں پائيں گے، آج ہی کام ختم کر دیں گے۔ ان کے ایجنٹ مدینے کے اندر آ گئے اور انھوں نے خوف پھیلانا شروع کر دیا: اَلَّذینَ قالَ لَھُمُ النّاسُ اِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَکُم فَاخشَوھُم، انھوں نے کہا: تمھیں پتہ ہے، خبر بھی ہے کہ وہ لوگ اکٹھا ہو گئے ہیں، لشکر تیار کر لیا ہے، تمھیں تباہ کر دینا چاہتے ہیں! آج رات حملہ کر دیں گے اور ایسا کر دیں گے، ویسا کر دیں گے! خوف پھیلانے کا کام۔ جن لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قالوا حَسبُنَا اللہُ وَ نِعمَ الوَکیل، انھوں نے کہا: جی نہیں، ہم نہیں ڈرتے، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پیغمبر نے فرمایا: وہ لوگ جو آج احد میں زخمی ہوئے ہیں، اکٹھا ہوں۔ وہ سب اکٹھا ہو گئے، آپ نے فرمایا: ان کے مقابلے میں جاؤ! وہ لوگ گئے اور انھیں شکست دے کر لوٹے: فَانقَلَبوا بِنِعمَۃٍ مِنَ اللہِ وَ فَضل، کافی زیادہ مال غنیمت کے ساتھ لوٹے اور انھیں کوئي مشکل بھی پیش نہیں آئي، دشمن کو شکست دی اور لوٹ آئے۔ یہ سنت الہیہ ہے۔ بنابریں اگر دشمن کی جانب سے خوف پیدا کرنے کی کوشش کے جواب میں آپ نے حقیقی معنی میں اس بات پر یقین رکھا کہ “حَسبُنَا اللہُ وَ نِعمَ الوَکیل” اور اپنے فرائض کو پورا کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہے۔ سورۂ آل عمران کا یہ حصہ، ہمارے سامنے اس سنّت کو بیان کرتا ہے۔ یہ احد کے بعد کا واقعہ تھا، مثال کے طور پر احد کی جنگ ختم کے کچھ گھنٹے بعد کا۔

معاملے کا دوسرا حصہ، خود احد کے اندر کا ہے، جنگ احد میں پہلے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئي تھی، یعنی انھوں نے پہلے حملہ کیا اور دشمن کو مغلوب کر دیا، پھر جب اس درّے کو دنیا طلبی کی وجہ سے گنوا دیا تو معاملہ بالکل پلٹ گيا، قرآن مجید سورۂ آل عمران میں ہی اسے بیان کرتا ہے اور کہتا ہے: وَ لَقَد صَدَقَکُمُ اللہُ وَعدَہ، اللہ نے تم سے اپنا وعدہ پورا کر دیا – ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم راہ خدا میں جہاد کروگے تو ہم تمھیں فاتح بنا دیں گے، ہم نے اپنے وعدے کو پورا کر دیا – اِذ تَحُسّونَھُم بِاِذنِہ، اللہ کے اذن سے تم ان پر دباؤ ڈالنے اور انھیں اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہو گئے، پہلے تمھیں کامیابی حاصل ہوئي۔ تو یہاں خدا نے اپنا کام کر دیا، خدا نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کر دیا لیکن پھر تم نے کیا کیا؟! خدا کے اس وعدے کی تکمیل پر شکر کرنے کے بجائے، اس الہی فضل و کرم کا شکر کرنے کے بجائے، حَتّىٰ اِذا فَشِلتُم، تمھارے قدم ڈھیلے پڑ گئے، تمھاری آنکھیں مال غنیمت پر ٹک گئيں، تم نے دیکھا کہ کچھ لوگ، مال غنیمت اکٹھا کر رہے ہیں تو تمھارے قدم ڈھیلے پڑ گئے، وَ تَنازَعتُم؛ تم ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے، تم میں اختلاف ہو گيا۔ دیکھیے، ان قرآن جملوں پر سماجیات کے لحاظ سے علمی تحقیق ہونی چاہیے، یہ کہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ملک، ایک حکومت، ایک ریاست پیشرفت کرے، کیسے وہ جمود میں پڑ سکتی ہے اور کیسے زوال کا شکار ہو جاتی ہے؟ ان باتوں کو قرآن کی ان آیات میں تلاش کیجیے۔ حَتّىٰ اِذا فَشِلتُم وَ تَنازَعتُم فِی الاَمرِ وَ عَصَیتُم. تم نے نافرمانی کی، پیغمبر نے تم سے کہا تھا کہ یہ کام کرو، تم نے نہیں کیا، پھر جب ایسا ہو گيا، مِن بَعدِ ما اَراکُم ما تُحِبّون، جو تم چاہتے تھے، یعنی نصرت الہی، اسے اللہ نے تمھیں دے دیا تھا، دکھا دیا تھا، تم مکمل نصرت تک پہنچنے ہی والے تھے لیکن تم نے اس طرح کا عمل انجام دیا، پھر مِنکُم مَن یُریدُ الدُّنیا وَ مِنکُم مَن یُریدُ الآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُم عَنھُم(آل عمران آیت 152) یہاں بھی خداوند عالم نے اپنی سنّت پر عمل کیا، صَرَفَکُم عَنھُم، ان پر سے تمھارا تسلط ختم کر دیا، یعنی تم مغلوب ہو گئے، یہ سنت الہی ہی تو ہے۔ وہاں سنت الہی یہ تھی کہ دشمن کی طرف سے خوف پھیلائے جانے کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ اور آگے بڑھو، یہاں سنت الہی یہ ہے کہ دنیا، دنیا طلبی، آرام پسندی کی خواہش، کام نہ کرنے، زحمت نہ اٹھانے اور آسان کام تلاش کرنے وغیرہ جیسی باتوں کے ذریعے اپنے آپ کو اور دوسروں کو تباہ کرو۔ یہ دونوں آیتیں سورۂ آل عمران میں ایک دوسرے کے قریب ہیں، یہ دو سنّتوں کو بیان کرتی ہیں۔

قرآن مجید الہی سنتوں کے بیان سے بھرا ہوا ہے، میں نے عرض کیا کہ قرآن کی ابتدا سے لے کر اختتام تک جیسے جیسے آپ دیکھتے ہیں، الہی سنتوں کو بیان کیا جاتا ہے اور دوہرایا جاتا ہے، کئي جگہ یہ بھی کہا گيا ہے: سُنَّۃَ اللہِ الَّتی قَد خَلَت مِن قَبلُ وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبدیلًا(فتح آیت 23) –چار پانچ مقامات پر اس طرح کا بیان ہے– کہ خداوند عالم فرماتا ہے: الہی سنتوں میں کوئي تبدیلی نہیں آتی، اللہ کے قوانین، ٹھوس قوانین ہیں۔ کسی کے ساتھ خدا کی رشتہ داری نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ ہم مسلمان ہیں، شیعہ ہیں، اسلامی جمہوریہ ہیں اس لیے ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں، نہیں! دوسروں اور ہم میں کوئي فرق نہیں ہے، اگر ہم نے اپنے آپ کو پہلی طرح کی سنتوں کے مطابق ڈھالا تو اس کا نتیجہ وہ ہے، اگر دوسری طرح کی سنتوں کے مطابق خود کو ڈھالا تو اس کا نتیجہ یہ ہے، یہ یقینی ہے، اس میں کوئي تبدیلی نہیں ہوگي۔

امام خامنہ ای

28 جون 2022

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=35806