وفاق ٹائمز، حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میںحجة الاسلام مولانا تطہیر حسین زیدی نے نماز عیدالاضحی پڑھائی۔ خطبہ عید میں انہوں نے کہا سید المرسلین حضرت محمد مصطفی نے فرمایا صلہ رحمی کرو۔ جو صلہ رحمی کرے گا میں رسول اللہ ضمانت دیتا ہوں کہ اسے70 شہیدوں کا ثواب عطا کروں گا۔انہوں نے کہا عید کا دن نفرتوں کے خاتمہ اورآج محبتوں کے پھیلانے کا دن ہے۔
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کثرت سے نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا ہی عبادت نہیں ہے بلکہ عبادت خلق خدا میں غور و فکر کرنا ہے۔عید کے دن کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ جو اپنے عقائد کا اظہار اللہ اکبر یا لفظ لبیک کہ کر نہ کر رہا ہو۔ لبیک کا معنی ہے : اے اللہ ہم نے سب کچھ تیرے پر قربان کر کے تیرے دربار میں حاضر ہیں۔ ہم نماز عیدمیں ۹ مرتبہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! محمد و آل محمد پر درود و سلام بھیج اور ہمیں ہر اس نیکی میں داخل کر دے جس میں تو نے محمد و آل محمد کو داخل کیا اور ہر اس برائی سے ہمیں بچا کہ جس سے تو نے محمد و آل محمد کو بچایا۔
مولانا تطہیر زیدی نے کہا عید الاضحٰی پر سارے قرآن یا کامل سورہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان آیات کی تلاوت غور و فکر اور تدبر سے کریں جس میں حضرت ابراہیم کی قربانی کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم کو بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ جیسا عظیم اور مطیع فرزند عطا فرمایا۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس بیٹے کی قیمت کیا ہوگی۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے جناب اسماعیل ؑ کو بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے اللہ کی راہ میں قربان کر رہا ہوں۔ جواب دیا: بابا ! دیر کس بات کی آپ اللہ کے حکم کو جاری کیجیے میں صبر کروں گا۔جب بیٹے کو لے کر چلے توشیطان انسانی صورت میں آ کر حضرت ابراہیم کو بہکانا چاہا تو حضرت ابراہیم نے تو شیطان ہے لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم تو یہ سنتے ہی شیطان بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی کیوں اس لئے کہ کہیں بیٹے کی محبت اللہ کی محبت پر غالب نہ آ جائے۔ جب چھری حضرت اسماعیلؑ کی گردن پر چلائی اور یقین ہو گیا کہ بیٹا ذبح ہو گیا تو دیکھا کہ نہ تو چھری پر خون ہے نہ اسماعیل ؑ کی گردن پر چھری کا نشان ہے۔ تین مرتبہ اس عمل کو دہرایا تو آواز پروردگار آئی۔ اے ابراہیم تونے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔












