44

ماہ محرم اور قیام عاشورا سے توحید کی سربلندی کی تحریک کا آغاز ہوا اور کربلا اسی قرآنی اصول کی بنیاد پر انسانیت کو ظلم و باطل کے سامنے متحد ہونے کی دعوت کا نام ہے، صدر جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان

  • News cod : 36698
  • 30 جولای 2022 - 22:45
ماہ محرم اور قیام عاشورا سے توحید کی سربلندی کی تحریک کا آغاز ہوا اور کربلا اسی قرآنی اصول کی بنیاد پر انسانیت کو ظلم و باطل کے سامنے متحد ہونے کی دعوت کا نام ہے، صدر جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کی دینی اور انسانی ذمہ داری اسی دعوت حق کو عام کرنا اور اس الہی تحریک کے اغراض و مقاصد کی صحیح تشریح کرنا ہے اور اس کے لئے سب سے اہم پلیٹ فارم مجالس و جلوس عزا اور منبر و ماتمی حلقے ہیں۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ،صدر جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان حجت الاسلام و المسلمین محمد حسین حیدری نے ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں عزاداری امام حسین علیہ السلام کو شعائر دینی اور انسانیت کی میراث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہ محرم الحرام کی آمد دنیا کے حریت پسندوں کو تاریخ انسانیت کی دین اور حق کی سربلندی کے لئے اٹھنے والی سب سے عظیم تحریک کی یاد دلاتی ہے، چونکہ اسی مہینے اور قیام عاشورا سے ہی توحید کی سربلندی اور کلمہ حق پر تمام انسانیت کو متحد کرنے کے قرآنی اصول پر قیام حسینی کی تحریک کا آغاز ہوا لہذا کربلا اسی قرآنی اصول پر ظلم اور باطل کے خلاف متحد ہونے کی دعوت کا نام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کی دینی اور انسانی ذمہ داری اسی دعوت حق کو عام کرنا اور اس الہی تحریک کے اغراض و مقاصد کی صحیح تشریح کرنا ہے اور اس کے لئے سب سے اہم پلیٹ فارم مجالس و جلوس عزا اور منبر و ماتمی حلقے ہیں۔
حجت الاسلام حیدری نے کہا کہ آج کے دور میں عزاداری کو ہر زمانے سے زیادہ اس کی حقیقی روح کے ساتھ منانے کی ضرورت ہے۔ کربلا کا اصلی درس توحید اور دینی اصولوں کی بالادستی کے لئے سربکف ہونا اور مسکتبرین اور انسانیت کے دشمنوں کے صفیں باندھنا ہے۔ برائیوں کا مقابلہ اور نیکیوں کو عام کرنا ہے۔ آج کے دور میں اسلام اور توحیدی اقدار کو درپیش مشکلات کا حل حسینی پرچم کے سائے توحید کا نعرہ بلند کرنا ہے۔ امام حسین کی ذات گرامی نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالم انسانیت کے اتحاد کا محور قرار پا سکتی ہے۔ تمام مسلمانوں اور خاص طور پر مکتب امام حسین کے پیروکاروں کو اپنی اندرونی رنجشوں اور مسلکی اختلاف مٹا کر باہم متحد ہو کر مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے کہ جو ملکی اور عالمی حالات کا عین تقاضا ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=36698