وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مجلس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور زیارت عاشورا سے ہوا جس کی سعادت حجۃ الاسلام قاری سید جاوید الحسین بخاری نے حاصل کی۔ جس کے بعد شاعر اہلبیت عباس ثاقب نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ ناظم پروگرام سید ناصر عباس نقوی انقلابی نے زائرین کو اپنے قیمتی سامان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی اور مختلف نکات بیان کئے۔ انہوں نے تمام عزاداروں سے پاکستان میں قومی قیادت اور پلیٹ فارم کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔
خطیب کریمہ اہلبیت حجۃ الاسلام والمسلین سید شفقت علی نقوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام زمان عج صرف شیعوں کا امام نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کے امام ہیں۔ تمام مخلوقات کیلئے امام کی اطاعت واجب ہے۔ محرم فکری انقلاب کا مہینہ ہے، جب تک قوم میں فکری انقلاب نہیں آئے گا ترقی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہلبیت علیہم السلام کے سامنے تمام انسان برابر ہیں بندہ جیسا بھی ہو اسے در اہلبیت سے ہدایت اور نجات ملتی ہے۔ قرآن و اہلبیت کے ساتھ متمسک رہنے میں ہی تمام انسانوں کی نجات ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے اور قرآن میں تفکر و تدبر کرنا چاہئے۔
حجۃ الاسلام سید شفقت علی نقوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے عزادار کیلئے معیوب بات ہے کہ اسے قرآن پڑھنا نہ آتا ہو اور وہ قرآن پر توجہ نہ دے۔ شیعہ جہاں بھی ہو اسے دیگر سب سے بہتر ہونا چاہئے، شیعہ ڈاکٹر ہو، طالب ہو، انجینئر ہو جس ادارے میں بھی اسے وہاں سب سے بہتر اور اچھا انسان بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی اسلامی تربیت کریں۔ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو قرآن اور دین کی تعلیم بھی دلائیں اور بچیوں کو بچپن سے پردے کی تعلیم دیں۔
مجلس کے آخر میں ماتمی سنگتوں کی جانب سے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کروائی گئی جس کے بعد تمام عزاداروں میں نیاز امام حسین علیہ السلام تقسیم کی گئی۔














