وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام و المسلمین ناصر رفیعی نے گذشتہ رات حرم کریمہ اہل بیت(س) کے امام خمینی ہال میں ہفتہ بسیج کی مناسبت سے منعقد محفل میں ایمان اور عقیدہ کو بسیجیوں کی اہم ترین خصوصیت بیان کرتے ہوئے کہا: دشمنوں کے مقابلے میں بسیج کی بہادری اور مقاومت، صبر اور استقامت، فائدہ مندی اور کوشش، کسی توقع کے بغیر ہونا، محنت اور بلند ہمت ہونا نیز تحمل اور برداشت رکھنا بسیج کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یقیناً صحیح فکر کے دفاع کیلئے سرمایہ لگانا پڑتا ہے، کہا: جس طرح اہل بیت علیہم السلام نے خالص الہی تفکر کے دفاع کیلئے مختلف حوالوں سے فداکاری کی، بسیج بھی شجرہ طیبہ کی مصداق بنتے ہوئے طاقت، تحمل، صبر و استقامت کے ساتھ تمام مشکلات اور بحران سے نکل جائے گی۔
حرم کریمہ اہل بیت(س) کے خطیب نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بسیج جیسی مقدس رضاکار ٹیم کو نقصان پہنچا، لوگوں کا نقصان ہوگا اور کہا: بسیج ایک مردمی طاقت ہے جو سیلاب، زلزلہ، آتش سوزی و غیرہ جیسے مواقع میں لوگوں کے شانہ بشانہ ان کی مدد کیلئے حاضر رہی ہے؛ لہذا دشمن کے پراپیگینڈوں اور ان کی تبلیغات سے اپنے جوانوں اور بچوں کو محفوظ رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
حجت الاسلام و المسلمین رفیعی نے سورہ بقرہ کی آیت 246 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: سورہ بقرہ کی آیت نمبر 246 حضرت موسیٰ(ع) کے دور کے بعد والے عرصے کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ بنی اسرائیل انتشار کا شکار ہوگئی اور جنگ میں شکست کھا گئے تھے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آیات الہی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم یہود کو انتشار اور اختلاف سے رہائی اور نجات دلانے کیلئے اپنی طرف سے پیغمبر بھیجا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے طالوت نامی ایک بہادر اور طاقتور جوان جو کہ گلہ بانی کرتا تھا کو بنی اسرائیل قوم کی رہبری کیلئے متعین کیا اور حضرت اشموئیل نبی کو اس کا تعارف کروا دیا۔
جامعۃ المصطفی کی علمی کمیٹی کے ممبر نے سورہ بقرہ کی آیت 247 کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ملک کو چلانے کا معیار پیسہ اور شہرت نہیں ہونا چاہیئے اور ملک کو چلانے والا باید عالم، بہادر اور طاقتور ہو اور مسائل کا تجزیہ کرنا جانتا ہو؛ کہا: اللہ تعالیٰ نے جب طالوت کو کمانڈر کی صورت میں متعارف کیا، بنی اسرائیل قوم نے بہانہ تراشیاں کرتے ہوئے اپنے نبی کی سرزنش کرنا شروع کردی کہ ایک فقیر گلہ بان کو کیوں ہماری رہبری کیلئے منتخب کیا گیا جبکہ ہم اس سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔
حجت الاسلام و المسلمین رفیعی نے کہا کہ مدیریت میں پیشہ، معاشرتی مقام ، شکل و صورت اور دولتمند ہونا کوئی معیار نہیں ہے اور کہا: حضرت اشموئیل نے طالوت کو کمانڈر بنانے میں قوم یہود کے اعتراضات کے جواب میں فرمایا: «قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ» اللہ تعالیٰ نے اسے منتخب کیا ہے اور اسے علم اور توانائی اور خاص جسمانی طاقت بخشی ہے اور اللہ تعالی جسے چاہے حکومت عطا کر دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آیات الہی کی رو سے معاشرے کے لیئے توانمند مدیر اور رہبر کی خصوصیات کے بارے میں کہا کہ اسےعلم اور بہادری جیسی دو اہم خصوصیات سے آراستہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا: امام خمینیؒ شروع سے ہی اسلامی حکومت کے نظریے کے تحت تدبیر اور بہادری کے ساتھ منحوس پہلوی رجیم کے سامنے کھرے ہوگئے اور قوم کی حمایت کے ساتھ شاہنشاہی نظام کو ایران سے ختم کیا۔












