2

امام زمان عج کی غیبت کےاسباب قسط 4

  • News cod : 41377
  • 14 دسامبر 2022 - 15:04
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب قسط 4
ضرت صالح علیہ السلام کی غیبت سب سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کی غیبت کو بیان کرتے ہیں ۔۔۔ اس حوالے سے جناب شحام نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ھے جس میں امام صادق ع فرماتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام جب غائب ھوئے تھے

امام زمان عج کی غیبت کےاسباب

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

چوتھادرس : غیبت انبیاء ، حضرت صالح ع کی غیبت،حضرت موسیٰ ع کی غیبت

موضوع
ھماری گفتگو کا موضوع امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت اور اس کی تاریخ ہے
عرض کیا تھا کہ ایک بہترین کتاب (کمال الدین) جو کہ شیخ صدوق رح نے تحریر فرمائی ھے. اس کی ایک خصوصیت یہ ھے کہ اس کے اندر انبیاء علیہم السلام کی غیبت بیان ھوئی ھے۔۔۔اس سے یہ معلوم ھوتا ھے کہ کسی بھی حجت خدا کی غیبت کوئی دنیا میں نیا واقعہ نہیں ھے ۔۔۔ اس سے پہلے بھی الٰہی حجتیں غائب ھوتی رھی ھیں ۔۔۔۔ ھم بھی وہاں سے کچھ انبیاء کے غیبت کے نمونے اور مثالیں آپ کی خدمت میں بیان کریں گے ۔۔۔

حضرت صالح علیہ السلام کی غیبت
سب سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کی غیبت کو بیان کرتے ہیں ۔۔۔ اس حوالے سے جناب شحام نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ھے جس میں امام صادق ع فرماتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام جب غائب ھوئے تھے( اپنی قوم کی نافرمانیاں اور سرکشی دیکھ رھے تھے کہ میری تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ھورھا ۔۔۔) جب وہ غائب ھوئے تھے تو اس وقت ایک خوش اندام شخصیت رکھتے تھے جوان تھے چہرے پر گھنی داڑھی تھی ،دبلا جسم تھا متوسط قد ۔۔۔۔ لیکن جب غیبت کا زمانہ گزار کر واپس آئے تو ان کی قوم تین حصوں میں تقسیم ھوچکی تھی.ایک حصہ تو منکرین کا تھا جو حجت خدا کے منکر تھے اور وہ مانتے ھی نہیں تھے کہ یہ حضرت صالح ع ھیں. (چونکہ حضرتِ صالح ع ایک مدت کے بعد آئے تو ظاھر ھے بڑھاپا تھا ۔۔۔ )
قوم کا ایک حصہ شک میں تھے کہ یہ صالح ع ھے یا نہیں ۔۔۔ جبکہ ایک گروہ آپ کی معرفت رکھتا تھا آپ کو پہچانتا تھا اور یقین کی منزل پر تھا کہ آپ پیغمبر خدا حضرت صالح ع ھیں ۔۔۔ فرماتے ھیں کہ جب قائم بھی غیبت کے بعد ظہور فرمائیں گے تو اس وقت اسی طرح ان کے ماننے والے بھی تین حصوں میں تقسیم ھونگے ۔۔۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیبت
اسی طرح ھم دیکھتے ھیں کہ اس کتاب کے اندر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیبت کا بھی ذکر ھوا ھے اور یہ نبی اکرم ﷺ سے امیر المومنین ع نے نقل کی روایت کہ جب حضرت یوسف ع کا آخری وقت آیا تو پورے خاندان اور عزیز و اقارب کو جمع کیا اور ان کو وصیت کی تو ساتھ آئندہ زمانے میں بنی اسرائیل کو جو حالات پیش آئیں گے اس پر بھی گفتگو کی اور بتایا کہ ایک سخت زمانہ آنے والا ھے کہ جس میں مردوں کو قتل کیا جائے گا، خواتین کے پیٹ چاک ھونگے ،بچوں کو مارا جائے گا اور پھر اس زمانے میں ایک قائم ع کے منتظر رھنا جو کہ لاوی بن یعقوب ،حضرت یعقوب علیہ السلام کے بڑے بیٹے کی نسل سے ظاھر ھونگے ان کے منتظر رھنا ۔۔۔ حضرت یوسف ع کی وفات کے بعد بالآخر وہ دور آیا کہ جو بنی اسرائیل پر ایک سخت دور تھا ان کو غلام بنایا گیا۔ان پر ظلم ڈھائے گئے پھر وہ بھی زمانہ آیا کہ جب مردوں کو قتل کیا جانے لگا اور خواتین کے بھی پیٹ چاک ھونا شروع ھو گئے اور جیسا کہ آپ جانتے ھیں کہ لڑکے مارے جانے لگے اور لڑکیاں رکھی جاتی تاکہ بعد میں کنیزیں بنائی جائیں ۔۔۔ تو اسی دوران ایک عالم بزرگوار تھے ایک فقیہ تھے اس زمانے میں جو لوگوں کو اس سخت دور میں صبر کا درس دیتے تھے اور ایک قائم ع کے ظہور کی خبر دیتے تھے ۔۔۔ کہتے ھیں چار سو سال گزر چکے تھے اس سخت دور میں اور لوگ تنگ آچکے تھے ۔۔۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنے اس عالم پر پتھر بھی مارے کہ اگر کوئی ایسا قائم ع تھا تو کیوں ظہور نہیں کیا وہ بھی بیچارے لوگوں کے شر سے غائب ہوگئے۔ یعنی کسی جگہ مخفی ھوگئے پھر لوگوں نے رابطہ کیا خط وکتابت کی کہ آپ جہاں بھی ھیں آئیں آپ کی باتوں سے ھمیں سکون ملتا ھے ۔۔۔ پھر اس عالم کے ساتھ رات کو بیٹھے ھوئے تھے اب یہ وہ زمانہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ھوچکے تھے اور فرعون کے محل میں حضرت آسیہ کے ھاں پرورش پائی اور جوان ھوچکے تھے تو کہتے ھیں کہ وہ عالم آدھی رات کو چاندنی رات تھی اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھا ھے، موجودہ زمانے کے حالات اور قائم کے ظہور کی گفتگو کررھا تھا تو وہیں حضرت موسیٰ ع گزرے آپ بلند قامت تھے اور گندمی رنگت،چاند کی روشنی میں چمک رھی تھی۔ آپ کا چلنے کا اندازہ اور ظاھری خصوصیات جب اس عالم نے دیکھی تو وہ علامات پہچان گیا کہ یہ وھی ھستی ھے جن کے ھم منتظر ھیں تو وہ آیا آپ کے قدموں میں گرا کہا کہ میں خدا کا شکر ادا کرتا ھوں کہ اللّٰہ نے موت سے پہلے مجھے آپ کی زیارت کروا دی ۔۔۔۔۔ باقی جو لوگ تھے وہ بھی سمجھ گئے کہ یہ تو وھی شخصیت ھیں جسکی بشارت دی گئی تھی وہ بھی حضرت موسیٰ ع کے پاس آئے اور سب نے خدا کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کیا ۔۔۔ حضرت موسیٰ ع اس وقت مقام نبوت پر فائز نہیں تھے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اللّٰہ آپ سب کی مشکلات دور کرے اور وہاں سے چلے گئے اور پھر ایک واقعہ پیش آیا جو کہ قرآن میں بھی ذکر ھے وہ قبطی کا اور بنی اسرائیل کے ایک شخص کی لڑائی اور حضرت موسیٰ ع نے اس

قبطی کو مصری کو مارا اور وہ مر گیا پھر حضرت موسیٰ ع حکومت کے خوف کی وجہ سے مدائن چلے گئے حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس اور ان کی خدمت میں کچھ عرصہ رھے ۔۔۔۔ تو یہ غیبت کا زمانہ تھا یعنی وہ ھستی جس نے قائم بننا تھا۔ لوگوں کے لیے وہ غائب ھوگئے اور کہتے ھیں کہ یہ دوسرا زمانہ بڑا سخت گزرا لوگوں پر اور لوگوں نے بڑی دعائیں کی اللّہ کی بارگاہ میں کہ بالآخر حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس پلٹے الہی معجزات اور حکم نبوت کے ساتھ اور یوں بنی اسرائیل کو انہوں نے آزاد کروایا اور نجات دلوا دی ۔۔۔۔جناب ابو بصیر امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ھیں کہ حضرت موسیٰ ع کی دو غیبتیں تھیں بالآخر یہ جو دوسری غیبت تھی ان کی بہت سخت تھی ۔۔۔

اللّٰہ تعالیٰ توفیق دے کہ ھم بھی امام قائم ع کی غیبت میں ایمان پر باقی رہیں اور اس سخت دور کو صبر و توكل کے ساتھ گزاریں اور مولا ع کے ظہور کی تیاری کرتے رہیں ان شاءاللہ جس طرح خدا نے بنی اسرائیل کو ایک قائم کے زریعے نجات دلوائی ھمیں بھی اللّٰہ تعالیٰ ان شاءاللہ قائم آل محمد ص کے زریعے نجات دے ۔۔۔۔ آمین

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=41377