20جولای
غیبت امام مہدی ع قسط (56)

غیبت امام مہدی ع قسط (56)

حال میں موجودہ دور میں ہونے والے حوادث کو بیان کیا گیا ہے اور دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان حوادث کے درمیان جو سب سے اہم حادثہ رونما ہوتا دکھایا گیا ہے (کہ جو نوسٹراڈيموس کے اشعار ميں بھي ہے) وہ انقلاب اسلامی ایران ہے، اس کے علاوہ گذشتہ اور حال کے بہت سے دوسرے نمونے فلم بین کو اس نتیجہ پر پہنچاتے ہیں کہ جو بھی آیندہ کی نسبت کہا گیا ہے وہ ضرور محقق ہوگا۔

14جولای
غیبت امام مہدی ع قسط (55)

غیبت امام مہدی ع قسط (55)

️دشمني کے وسائل: دشمن خصوصا عالمی استعماري طاقتيں اور صھیونیزم اس موجودہ دور میں دولت ،منفی پروپیگنڈا اور فریب دینے والے ظاہري نعرے مثلا حقوق بشر، حقوق خواتين اور ملتوں کے اساسی حقوق کا سہارا لیتے ہوئے ملتوں پر ظلم کو تحمیل کرنے اور انساني معاشروں میں فساد، منافقت، ریاکاری اور دھوکا دھی کے لئے کوشش کررہے ہيں اور اس کام کے لئے متعدد وسائل کے ذریعہ مدد دے رہے ہيں۔

01جولای
غیبت امام مہدی ع قسط (54)

غیبت امام مہدی ع قسط (54)

۴۔آمرانہ: عقيدہ مہدویت اور حضرت حجت عج اللہ فرجہ الشريف کے سب سے بڑے دشمن ، دنیا کے بڑے ظالم لوگ ہیں . آپ(ع) کی غیبت کے دن سے بلکہ آپ (ع) کی ولادت کے دن سے آج تک یہ ستمگر طبقہ اور ظالم لوگ ، آپ(ع) یعنی نور الھی اور شمشیر الھی سے دشمنی میں مصروف ہیں۔

14ژوئن
غیبت امام مہدی ع قسط (53)

غیبت امام مہدی ع قسط (53)

سلسلہ بحث مہدویت تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت) تمہید: ايک راہ اور عقيدہ کي عميق تشريح اور اس کے بيشتر کار آمد ہونے کے لئے ، ناگزير ہيں کہ اس کو لاحق خطرات و انحرافات اور اس کے دشمنوں کو پہچانا جائے تاکہ اس شناخت کے زير سايہ ان خطرات سے بچا جائے اور دشمنوں سے مناسب مقابلہ کيا جاسکے۔

05ژوئن
غیبت امام مہدی ع قسط (52)

غیبت امام مہدی ع قسط (52)

5قتل نفس زکيہ؛ ظہور کی پانچ حتمي علامات ميں سے ايک علامت نفس زکيہ کا قتل ہے اور اس سے مراد بھي بے گناہ مرد کا قتل ہے۔ متعدد روايات ميں وارد ہونے کي بنا پر اس کے علامت ظہور ہونے ميں کوئي شک نہيں، ليکن نفس زکيہ کے بارے ميں دو نکتے بڑي اہميت کے حامل ہيں:

01ژوئن
غیبت امام مہدی ع قسط (51)

غیبت امام مہدی ع قسط (51)

ليکن اس ندا کي تعداد اور وقت کے بارے ميں کچھ بھي نہيں کہا جاسکتا کيونکہ بعض روايات کي اسناد کے ضعيف ہونے کے ساتھ ساتھ ان ميں شديد اختلاف بھي پايا جاتاہے اور اس سے بڑھ کر بعض علامتوں کے وجود اورتحقق کے بارے ميں بداء کا احتمال بھي پايا جاتاہے۔ البتہ اس سلسلے ميں تقريباً قطعي اور يقيني آراء کا اظہار کياجاسکتاہے : ۱): يہ علامت کچھ اس انداز ميں واقع ہوگي کہ تمام لوگوں کو بشارت ديتے ہوئے آنحضرت (عج)کے ظہور کي طرف متوجہ کرے گي۔

29می
غیبت امام مہدی ع قسط (50)

غیبت امام مہدی ع قسط (50)

تیسری علامت:يماني کا خروج: حضرت امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کي حتمي علامات ميں سے ايک علامت يماني کا خروج ہے ۔ يماني ٬ يمن سے تعلق رکھنے والا ايک شخص ہے جو سفياني کے خروج کے ساتھ ہي قيام کرے گا اور لوگوں کو حق و عدالت کي طرف دعوت دے گا۔

15می
غیبت امام مہدی ع قسط (49)

غیبت امام مہدی ع قسط (49)

سفياني آ نحضرت کے مقابلے ميں قيام کرے گا اور جنگ و جدال کرے ذريعے آنحضرت کے مقدس وجود کو ختم کرنے کے درپے ہوگا۔ سفياني کي حکومت کي يہ خصوصيت اس روايت ميں بيان کي گئي ہے جو روايات خسف بيداء (يعني لشکر کا مقام بيداء پر زمين ميں دھنس جانا) کي طرف بطور علامت اشارہ کرتي ہے۔

10می
غیبت امام مہدی ع قسط (48)

غیبت امام مہدی ع قسط (48)

علاماتِ ظہور کا اجمالي تجزيہ: روايات کا اجمالي طورپر مطالعہ کرنے سے يہ بات اچھي واضح ہوجاتي ہے کہ بعض علامات ظہور پر دوسري بعض کي نسبت زيادہ زور ديا گياہے اور ان کے بارے ميں زيادہ سے زيادہ روايات وارد ہوئي ہيں۔ علاوہ از ايں يہ علامات دو مزيد خصوصيات کي بھي حامل ہيں:

04می
غیبت امام مہدی ع قسط (46)

غیبت امام مہدی ع قسط (46)

ج): عادي اور غيرعادي :عادي علامات سے مراد وہ قدرتي علامتيں ہيں جو دوسري چيزوں کي طرح بطور عادي وقوع پذير ہوں اور اس کے مقابلے ميں غير عادي علامات وہ علامتيں ہيں کہ جن کا وقوع قدرتي طور پر ممکن نہ ہو بلکہ يہ علامات معجزانہ طور پر وجود ميں آئيں گي۔