پیغامِ محبت
تحریر: مرتضیٰ علی
سیاسی گہما گہمی اور زور و شور کا یہ سلسلہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ہمارے لئے تمام سیاستدان قابل احترام ہیں۔ کبھی کبھار سوچتا ہوں تو بسا اوقات ہمارے معاشرے کے اندر ہمارے اندر یہ عنصر ضرور دیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر کسی دوسرے پارٹی یا سیاسی کارکن سے نظریاتی اختلاف پایا جائے تو یہ ایک نفرت کا یا پھر انا کا مسئلہ اختیار کر لیتا ہے جو کہ کسی بھی معاشرے کے لئے نیک شگون نہیں ہے بلکہ ایک المیہ ہے۔
ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ جیتنا ایک نے ہی ہے جس کو عوام کی حمایت حاصل ہو جو کہ کوئی بھی خدمات کی وجہ سے حاصل ہوئی ہوگی۔ لیکن ہم اگر ماضی کی طرف اپنی نظروں کو دوڑائیں تو ایسے کئی واقعات دیکھنے کو ملتا ہے کہ ‘کوئی جیت کر بھی ہار جاتا ہے اور کوئی ہار کر بھی جیت جاتا ہے۔’
تو آئیے۔۔۔!! اس تحریر کے اصل مقصد کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے حلقوں کی بات کرے تو جتنے بھی سیاستدانوں نے الیکشن لڑی تقریباً سب تعلیم یافتہ اور سیاسی بصیرت کے حامل امیدوار تھے۔
اگر حلقہ نمبر 2 سکردو کی بات کرے تو کاظم میثم، محمد ذاکر ایڈووکیٹ، سید محمد علی شاہ، محمد سعید بلتستانی، شبیر حافظی، افضل کچوراوی، حاجی منظور یولتر صاحب سب نے اپنا اپنا منشور پیش کیا، سب نے اپنے اپنے بساط کے مطابق عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن عوام نے ایسے شخص کو انتخاب کر لیا جس کے اندر زیادہ صلاحیت پائے جاتے ہوں یا عوام کی نظروں میں ان سے زیادہ امیدیں وابستہ ہوں۔
مگر بات کچھ یوں ہے کہ ایک دوسرے کے لئے محبت کی بات کرو، ایک دوسرے کو جوڑنے کی بات کرو، جب ہم ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارا حقوق چھین کر ہڑپ نہیں کرسکتا۔ مگر یہ محبت کون کس شروع سے شروع کرے۔۔؟ صرف ایک منتخب نمائندہ آپکو شہد کی نہریں نہیں بہا سکتا۔ اس کے لئے تمام سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے، ایک دوسرے کا دست بازو بن کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے تب جا کے ہم اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے، یہ ہے پیغامِ محبت۔ پیغامِ محبت کا یہ بنیادی اینٹ انہی سیاستدانوں نے ہی رکھنا ہے اور رکھنا بھی چاہیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ سیاستدان لوگ ایک دوسرے کے لئے مثال بنیں، اجتماعی مفادات کے حصول کے لئے اور اجتماعی نقصانات سے بچنے کے لئے آپ لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں، ایک دوسرے سے محبت کے ذریعے عوام کو آپس میں جوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں بے شمار آیتوں میں محبت کر کے جوڑے کی بات ہی تو کی ہوئی ہے جو کہ آج سے چودہ سو سال قبل ہم پہ ایک مقدس کتاب کی شکل میں اتار دی ہے۔ لہذا..! اپنے اندر غریبوں کے لئے احساس پیدا کریں، مثبت چیزوں کو معاشرے کے اندر پھیلانے کی کوشش کریں۔ نفرتوں کا خاتمہ کریں، اور محبتوں کو فروغ دیں۔
مجھ سے ممکن ہی نہیں یار یہ نفرت وفرت
میں محبت ہوں۔۔!! محبت ہی سدا بانٹوں گا
محبت ایک قلبی کیفیت ہے اور ایک جذبہ ہے۔ وطن میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل و زبان و عقائد ونظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک مقصد اعلیٰ کی خاطر، تمام تر علاقائی، لسانی و سماجی تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف انسان دوستی، وطن دوستی اور مروت و اخلاص کی بنیاد پر ایک دوسرے سے حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نفرتوں کا خاتمہ ہونا چاہیے اور محبتوں کو فروغ دیں۔
علاوہ ازیں بحیثیت قوم ہمیں اپنے اندر یکجہتی و تکثیریت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یکجہتی کو صاحبان علم کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:
اجتماعی مفادات کے حصول کے لئے اور اجتماعی نقصانات سے بچنے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات، تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک مقصد اعلیٰ کی خاطر، نیت و کاوش اور سعی و کوشش کرنے کو یکجتی کہا جاتا ہے۔
جبکہ شاعر کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:
جدا ہر گز نہ ہوں مل کر رہیں سب ایک مرکز پر
یہ ہے اسلام کا پیغام یکجہتی ضروری ہے
اگرچہ یکجہتی ضروری ہے لیکن تکثیریت کا بھی لوگوں کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔
شاعر تکثیریت کو کچھ بیان کرتے ہیں کہ:
سب سے کریں محبت تکثیریت یہی ہے
سب کی کریں گے خدمت تکثیریت یہی ہے
اپنے وطن کی خاطر، اپنے چمن کی خاطر
باہم رکھیں اخوت، تکثیریت یہی ہے
اخلاص اور وفا سے مل جل کے ہم بنائیں
اپنے وطن کو جنت تکثیریت یہی ہے
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔۔آمین












