وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مدرسہ امام المنتظر قم عج میں ماہ مبارک رمضان میں دورہ امامت و خلافت کا انعقاد کیاگیا ہے جس سے استاد حجت الاسلام والمسلمین یعقوب بشوی نے درس دیتے ہوئے کہا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
موضوع امامت و خلافت ایک وسیع موضوع ہے اس پر سیکڑوں کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں جناب شہرستانی کے بقول اس مسئلہ پر سب سے زیادہ تلوار چلی ہے یعنی اس مسئلہ پر سب سے زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے اس مسئلہ میں شیعہ وسنی کے نظریات الگ الگ ہیں شیعہ اس کو اعتقادی مسئلہ سمجھ کر ادلہ قائم کرتے ہیں اہل سنت اس کو فقہی مسئلہ قرار دیتے ہیں
قرآن مجید میں کچھ مناصب کو بیان کیا گیا ہے
خلافت
نبوت
رسالت
امامت
انہوں نے کہا کہ خلافت اور امامت الگ الگ منصب ہے ان سب مناصب کا اختیار خدا کے ہاتھ میں ہے بشر کا حق نہیں ہے بعض نے ولایت کو بھی شامل کیا ہے لیکن یہ کوئی منصب نہیں ہے
خلافت یعنی جانشین بننا قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں ہے
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اے رسول اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں اور انہوں نے کہا کہ کیا اسے بنائے گا جو زمین میں فساد برپا کرے اور خونریزی کرے جب کہ ہم تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں تو ارشاد ہوا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو خلافت کا تعلق عالم ملک یعنی عالم مادہ سے ہے اور فرشتے اس منصب کے اہل نہیں تھے لیکن جو خدا کی طرف سے خلیفہ ہو تو اس کا عالم ملکوت میں بھی اختیار ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلافت موضوع ہی ایسا ہے کہ جہاں پر اختلاف پیدا ہو کیونکہ یہ اختیار کا نام ہے اور دوسرا یہ کہ خلافت انسانی معاشرے کی ضرورت ہے لہذا فرشتوں نے کہا ہمیں خلیفہ بنا دیا جائے اور خلیفہ بننے کی دلیل ہماری عبادتیں ہیں لیکن خدا نے رد نہیں کیا کیونکہ یہ بھی ظلم شمار ہوتا ہے بلکہ ان کا امتحان لیا کہ جس میں وہ فیل ہوگئے
اسی طرح حضرت دواد علیہ السلام کے بارے میں ہے
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَاب
اے داؤد علیہ السّلام ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہِ خدا سے منحرف کردیں بیشک جو لوگ راہِ خدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روزِ حساب کو یکسر نظرانداز کردیا ہے
قرآن کا تیسرا خلیفہ حضرت ہارون علیہ السلام ہے وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اورجب موسٰی علیہ السّلام اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو غیظ و غضب کے عالم میں کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت بری حرکت کی ہے۔ تم نے حکمِ خدا کے آنے میں کس قدر عجلت سے کام لیا ہے اور پھر انہوں نے توریت کی تختیوں کو ڈال دیا اور اپنے بھائی کا سرپکڑ کر کھینچنے لگے۔ ہارون علیہ السّلام نے کہا بھائی قوم نے مجھے کمزور بنا دیا تھا اور قریب تھاکہ مجھے قتل کردیتے تو میں کیا کرتا۔ آپ دشمنوں کو طعنہ کا موقع نہ دیجئے اور میرا شمار ظالمین کے ساتھ نہ کیجئے
حضرت ہارون علیہ السلام کو جب حضرت موسی علیہ السلام خلیفہ بنا کر چلے گئے اور تیس راتوں کا وعدہ تھا لیکن دس راتیں اضافی ہوگئیں اور جب وہ واپس آئے تو دیکھا کہ سب لوگ راہ ہدایت سے دور ہوگئے ہیں پس یہاں بھی جھگڑا ہوا
اور چوتھا خلیفہ امام علی علیہ السلام ہیں جیسا کہ حدیث منزلت میں آیا ہے
أنتَ مِنّی بِمَنزلةِ هارونَ مِنْ مُوسی، اِلّا أنـّه لانَبیّ بَعدی اور خود قرآن مجید میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب ہوا
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے
کہ اپنے اقربین کو انداز کریں اور قرآن میں بشارت سے زیادہ انداز ہے جو انسان کو ہدایت پر باقی رکھتی ہے پھر اس مجلس میں فرمایا
ایکم یبایعنی تم میں سے کون میری بیعت کرئے گا
فیکون اخی ووزیری ووارثی وخلیفتی ووصیی فیکم من بعدی
تاکہ وہ میرے بعد میرا بھائی وزیر وارث خلیفہ اور وصی بن جائے
بعض اہل سنت کی کتابوں میں خلیفتی کوحذف کردیا ہے تو مولا علی علیہ السلام کھڑے ہوئے تو پھر فرمایا
فاسمعوہ واطیعوہ پس اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو
پس خلافت ایک منصب ہے دوسرا منصب نبوت ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں چار نبی تھے خود حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل حضرت اسحاق حضرت لوط علیہم السلام اور قرآن مجید میں بھی بعض انبیاء علیہم السلام کے نام آئے ہیں
اس کے بعد منصب رسالت ہے اور ۳۱۳ رسول ہیں
نبوت ایک بڑا منصب ہے لیکن اس سے بڑا منصب امامت ہے اب دیکھتے ہیں کہ یہ جعلی منصب ہے یا خدائی منصب ہے قرآن مجید سورہ بقرہ میں ارشاد ہے
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم علیہ السّلام کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس آیت میں چند نکات ہیں
1 امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوئی
2 رب کا کلمہ استعمال کیا کیونکہ امامت کا تعلق انسانی حیات سے ہے اور رب کا تعلق بھی انسانی تکامل سے ہے
3 انی یعنی خدا کا ذاتی اختیار ہے
4 جاعل اسم فاعل کا صیغہ استعمال کیا ہے کہ حال اور استبقال دونوں میں معنی دیتا ہے یعنی یہ فعل مسلسل جاری ہے
5 امامت نبوت سے بڑا منصب ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی اور رسول تھے پھر امامت ملی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک عظیم شخصیت تھے کیونکہ قرآن مجید میں ہے
وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِين
اور اسی طرح ہم ابراہیم علیہ السّلام کو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہوجائیں
پھر انہیں خلیل اللہ کا لقب بھی ملا لیکن انہوں نے کسی بھی منصب کہ تمنا نہیں کی سوائے منصب امامت کی اور انسان ہمیشہ بڑے منصب کی تمنا کرتا ہے پس یہیں سے معلوم ہوا کہ امامت کا دائرہ نبوت سے وسیع ہے
6 خدا فرماتا ہے کہ یہ میرا عہدہ ہے اور ظالم اس تک نہیں پہنچ سکتا پس اس کے اہل کا پاکیزہ ہونا چاہیے سراپا عادل ہونا چاہیے جیسے مولا علی علیہ السلام مولا فرماتے ہیں
وَاللهِ! لَوْ اُعْطِیْتُ الْاَقَالِیْمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ اَفْلَاكِهَا، عَلٰۤی اَنْ اَعْصِیَ اللهَ فِیْ نَمْلَةٍ اَسْلُبُهَا جِلْبَ شَعِیْرَةٍ مَّا فَعَلْتُهٗ
خدا کی قسم! اگر ہفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانوں کے نیچے ہیں مجھے دے دیئے جائیں کہ صرف اللہ کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جو کا ایک چھلکا چھین لوں تو کبھی بھی ایسا نہ کروں گا
اسی وجہ سے کسی نے کہا قتل فی محرابہ لشدہ عدلہ علی کو محراب عبادت میں شدت عدل کی وجہ سے شہید کردیا گیا
اس آیت سے عصمت بھی ثابت ہوتی ہے کہ جو عادل ہوگا تو وہ گناہ نہیں کرے گا اور وہی معصوم بھی ہوگا اس کے علاوہ عصمت پر کافی قرآنی دلائل موجود ہیں
7 امامت خدا کی طرف سے انتصابی حق ہے انتخابی نہیں ہے لیکن اہل سنت اس کو انتخابی مانتے ہیں
پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ امامت نبوت سے اعلی منصب ہے
باقی گفتگو اگلی نشست میں کریں گے












