19

خداوند متعال مؤمنوں کا سرپرست ہے ,حجت‌الاسلام‌ رفیعی

  • News cod : 47222
  • 13 می 2023 - 13:36
خداوند متعال مؤمنوں کا سرپرست ہے ,حجت‌الاسلام‌ رفیعی
خطیب حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 258 میں حضرت ابراہیم(ع) کے علمی جدال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز دین الٰہی کی جانب دعوت سے کیا، کہا کہ خداوندعالم قرآن کریم میں مشرکین کے ساتھ گفتگو کرنے کی تاکید کرتا ہے؛ « قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ»

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام‌ رفیعی نے حرم مطہر حضرت معصومہ (س) میں سلسلہ وار درس تفسیر سورہ بقرہ کے موقع پر، اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ خود خداوندمتعال مؤمنوں کا سرپرست ہے، انہیں نور کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور شیطان، طاغوت کا ولی و سرپرست ہے، کہا کہ خداوند عالم سورہ بقرہ کی 258 اور 259ویں آیت میں توحید اور قیامت کیلئے مثالیں ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے حضرت ابراہیم(ع) اور نمرود کی مثال بیان کرتا ہے۔

انہوں نے نمرود کی ظلم و جور سے بھرپور حکومت کی خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جب پادریوں نے نمرود کے لئے پیشگوئی کی کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تمہارے تخت و تاج کو الٹ دے گا تو اس نے حکم دیا کہ کوئی بچہ پیدا نہ ہو سکے، جو بھی ہو اسے قتل کر دیا جائے، کہا کہ جس وقت حضرت ابراهیم(ع) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ نے انہیں کئی سال تک غار میں رکھا اور ان کی حفاظت کی۔

خطیب حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 258 میں حضرت ابراہیم(ع) کے علمی جدال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز دین الٰہی کی جانب دعوت سے کیا، کہا کہ خداوندعالم قرآن کریم میں مشرکین کے ساتھ گفتگو کرنے کی تاکید کرتا ہے؛ « قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ»

انہوں نے نمرود کے مقابل میں حضرت ابراہیم(ع) کے احتجاج کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم(ع) نے نمرود سے کہا: میرا خدا ہے کہ جو زندہ کرتا اور موت دیتا ہے «يُحْيِي وَيُمِيتُ»؛ تم کہ جو خدا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہو کیا یہ کام کر سکتے ہو؟؛ نمرود نے حضرت ابراہیم(ع) کے جواب میں 2 شخص کو بلوایا، ایک کو قتل کیا اور دوسرے کو آزاد کر دیا اور بولا کہ میں بھی مار سکتا ہوں اور زندہ بھی کر سکتا ہوں۔

استاد رفیعی نے مزید کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت کے مطابق؛ حضرت ابراہیم(ع) نے نمرود کے مغالطہ کے مقابل میں اس سے کہا کہ جس کو مارا ہے اسی کو زندہ کر کے دکھاؤ کہ نمرود نے اپنے مغالطہ پر تاکید کرتے ہوئے اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میرا خدا سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اگر تم خدا ہو اور صاحب قدرت ہو تو اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ؛ نمرود اس کام سے عاجز تھا «فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ».

انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت « أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ» کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نمرود کے مقابل میں توحید پر کئے گئے دو استدلال کی جانب اشارہ کرتی ہے، کہا کہ یہ آیت اس نکتہ کی جانب تاکید کرتی ہے کہ اس دنیا میں جس کسی کے پاس بھی قدرت ہے، دولت ہے، حکومت ہے یہ سب خدا کی جانب سے ہے خواہ مؤمن کے پاس ہو خواہ کافر کے پاس۔ نہایتاً قارون اس سے غلط استفادہ کرتے اور جہنمی ہو جاتے ہیں اور حضرت سلیمان اس سے صحیح استفادہ کرتے ہیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=47222