35

حدیث غدیر میںخاتم الانبیا ءنے حضرت علی ؑکی ولایت و امامت کا اعلان کیا ، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

  • News cod : 48567
  • 08 جولای 2023 - 12:08
حدیث غدیر میںخاتم الانبیا ءنے حضرت علی ؑکی ولایت و امامت کا اعلان کیا ، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی
ان کا کہنا تھا ہے کہ ولایت و امامت کو برادران اہل سنت بھی تسلیم کرتے ہیں۔لیکن اہل تشیع نے فرمان رسول کو صحیح معنوں میں سمجھا اور اس پر عمل کیا ۔ہمارے برادران اہل سنت اس حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سیدریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ حدیث غدیر متفقہ ہے۔ تمام مکاتب فکر اسے تسلیم کرتے ہیں ۔ غدیر کے مقام پرخاتم الانبیا ءحضرت رسول خدا نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کا اعلان کیا کہ ختم نبوت کے بعد سلسلہ امامت شروع ہے۔اس نعمت خداوندی سے امت مسلمہ بہرہ مند ہے۔انہوں نے کہا عید غدیر کے دن خدا نے پانچ تمغے اور امتیاز بخشے ہیں۔ایک یہ کہ غدیرکے دن کافر مایوس ہوگئے۔دوسرا یہ کہ اے میرے حبیب کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔تیسری یہ کہ اللہ نے تکمیل دین کا اعلان کردیا۔چوتھا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت مکمل کردی۔پانچواںیہ کہ دین مبین اسلام کو اللہ نے اپنا پسندیدہ دین بنا دیا۔

ان کا کہنا تھا ہے کہ ولایت و امامت کو برادران اہل سنت بھی تسلیم کرتے ہیں۔لیکن اہل تشیع نے فرمان رسول کو صحیح معنوں میں سمجھا اور اس پر عمل کیا ۔ہمارے برادران اہل سنت اس حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکے۔

جامع مسجد علی جامعة المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا برادران اہل سنت نظریہ امامت و ولایت کو مانتے ہیں مگر اس طرح ماننا کہ یہ نبوت کے اختتام کے بعد اسی تسلسل کے ساتھ صاحبان عصمت و طہارت تشریف لائے اور امامت کے منصب پر فائز ہوئے ، اس طرح وہ ماننے کو تیار نہیں۔بلکہ انہوں نے امامت کا نظریہ معصومینؑ سے منسوب کرنے کی بجائے اسے عام کردیا کہ ہر آدمی کو امام بنادیا۔حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام حنبل وغیرہ۔حتیٰ کہ چند افراد کو نماز باجماعت پڑھانے والا بھی سنیوں کے ہاں امام کہلاتا ہے۔ جبکہ اہل تشیع تسلیم کرتے ہیں کہ امامت کے سلسلے کی ہر کڑی کو حتماً معصوم ہونا چاہیے،کیونکہ پہلا امام حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی تھے جو معصوم بھی تھے اور امام بھی لہٰذا امام کو معصوم ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھاکہ 12اماموں کے حوالے سے موجود روایت کو سامنے رکھتے ہوئے اہل سنت برادران 12 کی تعداد بھی مکمل نہیں کرسکتے۔ یزید پر آکر رک جاتے ہیں۔ یزید اور اس کی ناخلف اولاد کو نہیں مانتے اور پھر آخر میں حضر ت عمر بن عبد العزیز پر چلے جاتے ہیں مگر ان کی تلاش مکمل نہ ہو سکی۔انہوں نے زور دیا کہ اسلام کی صحیح تبلیغ اور اتحاد امت کے لئے ضروری ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع ایک دوسرے کے پروگراموں میں شرکت کریں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=48567