وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ، ڈیرہ اسماعیل خان سانحہ پارہ چنار کے خلاف قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ملک گیر احتجاجی کال پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر کی قیادت میں بعد از نماز نماز جمعہ کوٹلی امام حسین سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی سے مرکزی نائب علامہ محمد رمضان توقیر،سابق ضلعی صدر مولانا کاظم حسین مطہری،سید زاہد حسنین بخاری، مجلس وحدت مسلمین تنویر عباس مہدی ایڈوکیٹ اور سید غضنفر عباس نقوی نے خطاب کیا۔
علامہ محمدر رمضان توقیر نے کہا کہ ہم پاڑاچنار میں ہونے والے دلخراش ،انسانیت سوز واقع کی بھر مذمت کرتے ہیں۔ سیکورٹی کے حصار میں نہتے مسافروں کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مارے شہداء کے قاتل حکومت وقت ہے نہ کہ دہشت گرد ہیں۔ ہمارے قاتل حکومت وقت اور اداروں کے لوگ ہیں۔ ۔ہم وفاقی و صوبائی حکومت سے نہیں مقتدر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں۔جو پاکستان کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔
لاچار اور بے بس حکومتوں سے کیا مطالبہ کرنا ہے انکو کرسی و اقتدار کی جنگ سے فرصت نہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومت قومی خزانہ سے عیاشی کی زندگی گزار رہی ہے ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ پاڑا چنار کے مسئلے پر گورنر اور وزیراعلی کو پہلے بھی مل چکے ہیں مگر ان سے مایوس ہے۔
صوبائی حکومت سے ہم کیا مطالبہ کریں گے وہ تو اپنے لیڈر کے لیے خود بھیک مانگ رہی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ شوشہ اٹھاتے ہیں زمینوں کا جھگڑا ہے۔ آپ کو شرم نہیں آتی یہ بات کرتے ہوئے۔چھ ماہ کا شیر خوار زمین کےلئے شہید ہو رہا ہے؟
سلام پیش کرتا ہوں پاکستان کے غزہ پارہ چنار کے مومنین کو پے در پے دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود آج بھی میدان عمل میں موجود ہیں۔کل پاکستان کا غزہ پارہ چنار کے مومنین آپکو کرتے ہیں کل انکے لئے نکلو گے۔
آخر میں علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ قیادت، بزرگوں کے لائحہ عمل اور پارہ چنار کے غیور مومنین کی آواز پر ہر وقت آمادہ و تیار ہیں۔
احتجاجی ریلی میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدیدار اور مجلس وحدت مسلمین، جعفریہ سٹوڈنٹس ،امامیہ سٹوڈنٹس ،سول سوسائٹی اوردیگر تنظیموں کے نمائندوں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور پارہ چنار کے شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درد تھے۔مظاہرین نے ڈیرہ اسماعیل خان پشاور روڈ مظاہرین نے بند کر دیا۔












