17

امام خمینی رح کی نظر میں اسلام ناب محمدی ص کی خصوصیات

  • News cod : 61839
  • 12 سپتامبر 2025 - 9:49
امام خمینی رح کی نظر میں  اسلام ناب محمدی ص کی خصوصیات
ائمہ اور عادل فقہا اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ حکومتی نظام اور ڈھانچے کو اس مقصد کے لیے استعمال کریں

حکومت اسلامی

فقہا اسلامی معاشرے کا حاکم

فقہا کا حکومت قائم کرنے کا وظیفہ

ائمہ اور عادل فقہا اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ حکومتی نظام اور ڈھانچے کو اس مقصد کے لیے استعمال کریں کہ احکامِ الٰہی کو نافذ کریں، نظامِ عادلانۂ اسلام کو برپا کریں اور عوام کی خدمت کریں۔ ان کے لیے حکومت بذاتِ خود سوائے مشقت اور رنج کے کچھ نہیں رکھتی؛ لیکن کیا کریں؟ وہ مامور ہیں کہ اپنا فریضہ انجام دیں۔ موضوعِ ولایت فقیہ ایک ماموریت اور فریضہ ہے۔

عدل پر مبنی حکومت میں امن و سکون

وہ تمام روایات جو عالم اور عادل فقیہ کی مدح و فضیلت میں آئی ہیں اور ان کی برتری کو عوام پر بیان کرتی ہیں، یہ سب دراصل اس منصوبے کا حصہ ہیں جو اسلام نے حکومتِ اسلامی کے قیام کے لیے مرتب کیا ہے۔ تاکہ امت کو ظالم حکمرانوں کے دربار سے مایوس اور بے رغبت کرے اور ظلم کی گھروں کو ویران کرے؛ اور فقہا کے در کو عوام کے لیے کھول دے وہ فقہا جو عادل، پارسا اور مجاہد ہوں اور احکامِ الٰہی کے نفاذ اور اسلامی نظامِ اجتماعی کے قیام کے لیے کوشاں ہوں۔

مسلمان اس وقت امن و سکون میں زندگی گزار سکتے ہیں اور اپنے ایمان اور اخلاقِ فاضلہ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں جب وہ حکومتِ عدل اور قانون کے سائے میں ہوں۔ ایسی حکومت جو اسلام نے اس کا نظام، طرزِ انتظام اور قوانین خود متعین کیے ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اسلامی حکومت کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں اور نافذ کریں۔ امید ہے کہ اسلامی حکومت اور اس کے اصولِ سیاسی و اجتماعی کا تعارف بڑے بڑے انسانی گروہوں میں فکری بیداری پیدا کرے اور وہ طاقت جو عوامی تحریک سے وجود میں آئے گی، اسلامی نظام کے استحکام کا باعث بنے۔

اسلامی حکمران کے لیے شناختِ قانون اور عدالت شرط

حاکم اور خلیفہ کو اولاً اسلام کے احکام کا علم ہونا چاہیے، یعنی وہ قانون دان ہو؛ اور ثانیاً عادل ہو، اور کمالِ اعتقادی اور اخلاقی رکھتا ہو۔ عقل بھی یہی تقاضا کرتی ہے؛ کیونکہ حکومتِ اسلامی دراصل حکومتِ قانون ہے، نہ کہ خودسری اور نہ ہی افراد کی افراد پر حکمرانی۔ اگر حکمران، احکامِ قانون نہ جانتا ہو تو حکومت کے لائق نہیں، کیونکہ اگر وہ تقلید کرے تو اس کی حکومتی قوت ٹوٹ جائے گی، اور اگر تقلید نہ کرے تو وہ اسلامی قانون کا حاکم اور مجری و نافذ کرنے والا نہیں بن سکتا۔

یہ بات مسلم ہے کہ الفقهاء حكام على السلاطين، سلاطین اگر تابع اسلام ہوں تو انہیں فقہا کی پیروی کرنی ہوگی اور قوانین و احکام انہی سے دریافت کر کے نافذ کرنے ہوں گے۔ اس صورت میں حقیقی حکام دراصل فقہا ہیں؛ پس حکمرانی باقاعدہ طور پر فقہا کو ہی ملنی چاہیے، نہ کہ ان لوگوں کو جو قانون سے جاہل ہیں اور مجبوراً فقہا کی پیروی کرتے ہیں۔

تشکیلِ حکومت فقہا کا شرعی فریضہ

ضروری ہے کہ فقہا، اجتماعی یا انفرادی طور پر، حدودِ الٰہی کے نفاذ، شرعی حدود کی حفاظت اور شرعی حکومت کے نظام کے قیام کے لیے حکومت تشکیل دیں۔ اگر یہ امر کسی کے لیے ممکن ہو تو یہ اس پر واجبِ عینی ہے، ورنہ واجبِ کفائی ہے۔ اور اگر ممکن نہ ہو تب بھی ولایت ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ وہ خدا کی طرف سے منصوب ہیں۔ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو انہیں زکوٰۃ، خمس اور خراج کی مالیات وصول کرنی چاہئیں اور انہیں مصالحِ مسلمین پر خرچ کرنا چاہیے؛ اور حدود کو نافذ کرنا چاہیے۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ جب ہم عمومی اور سراسری حکومت قائم نہ کر سکیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ رہیں؛ بلکہ جتنے امور کی مسلمانوں کو ضرورت ہے اور جو حکومتِ اسلامی کے ذمے ہیں، ان میں سے جتنا کچھ ہم انجام دے سکتے ہیں، ہمیں انجام دینا چاہیے۔

فقہا کی ولایت حکومتِ جور کے تحت

اگر کوئی جامع الشرائط فقیہ، سیاسات یعنی حدود، تعزیرات، قضاوت وغیرہ کے کسی کام کو کسی مصلحت کے تحت حاکمِ جور یعنی ظالم حکمران کی طرف سے قبول کرے تو یہ جائز ہے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ شرعی حدود کو نافذ کرے، موازینِ شرعی کے مطابق قضاوت کرے اور امورِ حسبیہ کی ذمہ داری لے۔ اور اسے یہ حق نہیں ہے کہ خدا کے حدود سے تجاوز کرے۔

اگر فقیہ دیکھے کہ اس کا متصدی ہونا، ظالم کی طرف سے، شرعی حدود اور سیاساتِ الٰہی کے نفاذ کا موجب ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ منصب سنبھالے، مگر یہ کہ اس کے متصدی ہونے میں کوئی بڑا مفسدہ موجود ہو۔

مجتہد متجزی حق نہیں رکھتا کہ ان تمام امور کو انجام دے جو پہلے ذکر ہوئے؛ اور اس کا حال یہاں احتیاط کے لحاظ سے ایک عامی شخص جیسا ہے۔ لیکن اگر فقیہ، مجتہدِ مطلق نہ ہو، تو بعید نہیں کہ قضاوت کے منصب کو سنبھالنا، اگر وہ بابِ قضا میں مجتہد ہے، جائز ہو؛ اور اسی طرح وہ مجتہد متجزی امورِ حسبیہ میں احتیاطاً دوسرے عادل مومنین پر مقدم ہے۔

تحققِ حکومتِ اسلامی میں فقہا اور عوام کی ذمہ داری

کسی کو بھی سیاسی امور جیسے حدود کے نفاذ، اور قضائی و مالی امور جیسے خراج اور شرعی مالیات کی وصولی کی ذمہ داری لینے کا حق نہیں ہے، سوائے امامِ مسلمین ع کے اور اس شخص کے جسے امام ع نے اس مقصد کے لیے منصوب کیا ہو۔

زمانۂ غیبت میں ولیِ امر اور سلطانِ عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے قائم مقام وہ نوابِ عام ہیں جو حضرت ع کی طرف سے ان امور میں جانشین ہیں یعنی حدود و تعزیرات اور وہ سب جو امام ع کے لیے مخصوص ہے، سوائے جہادِ ابتدائی کے۔ اور یہ نوابِ عام وہ فقہا ہیں جو فتوا اور قضاوت میں جامع الشرائط ہوں۔ ان نوابِ عام پر واجبِ کفائی ہے کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو اور وہ حکامِ ظالم سے بے خوف ہوں تو جس حد تک ممکن ہو، ان امور کو انجام دیں۔

عوام پر واجبِ کفائی ہے کہ وہ فقہا کی مدد کریں تاکہ وہ سیاساتِ اسلامی اور دیگر امورِ حسبیہ، جو زمانۂ غیبت میں ان سے مختص ہیں، کو انجام دے سکیں۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو جس قدر ممکن ہے، انہیں مدد فراہم کریں۔

فقہا، اختلافات کے حل کا مرجع

اختلافات اور نزاعات میں حکام اور قضاتِ جور کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہے؛ بلکہ متخاصمین پر واجب ہے کہ وہ جامع الشرائط فقیہ کی طرف رجوع کریں۔ اور اگر اس کی طرف رجوع ممکن نہ ہو تو کسی اور کی طرف رجوع کیا جائے۔ جو کچھ وہ غیر فقیہ کے حکم سے حاصل کرے گا، وہ حرام ہے، جیسا کہ اس کی تفصیل موجود ہے۔

اگر مدعی اپنے مخالف اور فریق کو محاکمہ کے لیے فقیہ کی خدمت میں دعوت دے تو مخالف پر واجب ہے کہ قبول کرے؛ جیسے کہ اگر فریق محاکمہ کے لیے فقیہ پر راضی ہو جائے تو مدعی کے لیے جائز نہیں کہ کسی غیر کی طرف رجوع کرے۔

اگر مدعی، مرافعہ کو حاکمِ شرع کے پاس لے جائے اور حاکم مدعی علیہ کو طلب کرے تو اس پر واجب ہے کہ حاضر ہو، اور تخلف جائز نہیں ہے۔ اور شرع حکام پر وجوبِ کفائی کے طور پر مرافعہ کے حل کو قبول کرنا واجب ہے؛ اور اگر معاملہ انہی پر منحصر ہو تو ان پر تعیینی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

فقہا کا حکومتی فریضہ

ائمہ اور عادل فقہا پر لازم ہے کہ وہ حکومتی نظام کو استعمال کریں تاکہ احکامِ الٰہی نافذ ہوں۔ نظامِ عادلانۂ اسلام قائم ہو۔ عوام کی خدمت ہو۔ حکومت ان کے لیے ذاتی منفعت نہیں بلکہ صرف ایک شرعی ماموریت ہے۔

عدل پر مبنی حکومت میں امن و سکون

عادل فقہا کی فضیلت پر جو روایات آئی ہیں وہ اسلامی حکومت کے قیام کی بنیاد ہیں۔

مقصد یہ ہے کہ عوام کو ظالم حکمرانوں سے دور کیا جائے۔ ظلم کے نظام کو ویران کر کے فقہا کے دروازے کھولے جائیں۔ حقیقی امن، ایمان اور اخلاق صرف حکومتِ عدل و قانون کے سائے میں ممکن ہے۔

اسلامی حکمرانوں کے لیے شرائط

حکومتِ اسلامی = حکومتِ قانون، نہ کہ افراد کی خودسری۔

حاکم کے لیے دو بنیادی شرطیں قانون دانی یعنی فقہ و احکام اسلام کا علم۔

عدالت و کمالِ اخلاقی و اعتقادی۔

اگر حاکم قانون سے جاہل ہو تو

یا تقلید کرے حکومت کمزور ہو جاتی ہے۔ یا تقلید نہ کرے ۔ قانونِ اسلام کا نفاذ ممکن نہیں رہتا۔

لہذا حقیقی حکام دراصل فقہا ہیں اور حاکمیت انہیں ملنی چاہیے۔

تشکیلِ حکومت شرعی فریضہ ہے

فقہا پر حکومت قائم کرنا واجب ہے

اگر ممکن ہو تو واجب عینی۔ اگر اجتماعی صورت میں ہو تو واجب کفائی۔ ولایت کبھی ساقط نہیں ہوتی، چاہے حکومتِ عامہ ممکن نہ ہو۔

فقہا کے فرائض

زکوٰۃ، خمس اور خراج وصول کرنا۔

مصالحِ مسلمین پر خرچ کرنا۔ حدودِ شرعیہ نافذ کرنا۔ حتیٰ کہ اگر عمومی حکومت ممکن نہ ہو تو بھی جتنا ممکن ہو اتنا کرنا لازم ہے۔

حکومتِ جور کے تحت فقہا کی ولایت

اگر فقیہ کسی مصلحت سے ظالم حکمران کی طرف سے کوئی منصب قبول کرے، جائز ہے بلکہ واجب ہے بشرطیکہ شرعی حدود نافذ کرے اور تجاوز نہ کرے۔ اگر فقیہ کے منصب سنبھالنے سے شرعی قوانین نافذ ہوتے ہوں، واجب ہے قبول کرنا۔مگر اگر اس میں بڑا مفسدہ ہو تو قبول کرنا حرام ہے۔

مجتہد متجزی

عمومی امور کا متولی نہیں بن سکتا۔

لیکن قضاوت میں اگر بابِ قضا میں مجتہد ہو متولی بن سکتا ہے۔ امورِ حسبیہ میں بھی وہ دیگر عدولِ مؤمنین پر مقدم ہے۔

زمانۂ غیبت میں فقہا کی ذمہ داری

صرف امام ع یا ان کے منصوب کردہ کو سیاسی و مالی امور کی ذمہ داری کا حق ہے۔

غیبت میں نوابِ عام یعنی جامع الشرائط فقہا قائم مقام امام ع ہیں۔

وہ حدود، تعزیرات، قضاوت اور دیگر امور انجام دیں سوائے جہاد ابتدائی کے۔

فقہا پر واجب کفائی ہے کہ اگر ممکن ہو اور حکامِ جور کا خوف نہ ہو تو ان امور کو انجام دیں۔

عوام پر واجب کفائی ہے کہ فقہا کی عملی مدد کریں۔ اگر ممکن نہ ہو تو جس حد تک ممکن ہو ان کی نصرت کریں۔

فقہا مرجعِ حل اختلافات ہیں

نزاعات میں حکامِ جور کے پاس جانا جائز نہیں۔ متخاصمین پر واجب ہے کہ جامع الشرائط فقیہ کے پاس جائیں۔ اگر مدعی مخالف کو فقیہ کے پاس بلائے تو قبول کرنا لازم ہے۔

اگر مدعی فقیہ کے پاس لے جائے اور وہ مخالف کو طلب کرے تو اس پر حاضر ہونا واجب ہے۔

حاکمانِ شرع پر وجوبِ کفائی ہے کہ نزاعات کے حل کو قبول کریں، اور اگر یہ ذمہ داری انہی پر منحصر ہو تو ان پر وجوبِ عینی ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=61839